میلاد کا ہے مہینہ

شہ دیں کی میلاد کا ہے مہینہ

نبھایا مجھے اور بلایا مدینہ

رہے مجھ پہ رحمت کا آقا تسلسل

طلب کا نہیں مجھ میں داتا قرینہ

مبارک ہو یومِ ولادت مبارک

غلاموں کی جانب سے آقا مبارک

خدارا عطا ہو ہمیں بھی تو عیدی

ملے ہم کو شہ کی طرف سے مبارک

نگاہِ کرم مجھ پہ آقا نے ڈالی

دکھائی مجھے اپنے روضے کی جالی

مِرے دِل کے ارماں بھی پورے کرینگے

نہیں لوٹا اس در سے کوئی بھی خالی

ملی اتنی رفعت کہ عرش بریں پر

نشانِ قدم ہے یہ اس کی جبیں پر

میں بیٹھا ہوں قدموں میں اَب تو خدارا

پڑے نقشِ پا میرے دل کی زمیں پر

گھِرا ہے حوادث میں شاکرؔ تمہارا

بجز آپ کے اب نہیں ہے سہارا

ہٹیں رنج و غم کے ہیں جتنے بھی بادل

کرم کا کریں اب خُدارا اشارہ