ایک شاعر نے 1946 ء میں یہ نظم لکھی تھی ، اس وقت سے لے کر اب تک کتنی حکومتیں بدل گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا مجال کسی حکمران نے اسے جُھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کی ہو ؛ یا پھر ” کوشش کرنے والوں “ کو ہی پابندِ سلاسل نہ کیا ہو:

پاکستان میں کیا کیا ہوگا ؟

چاروں طرف مےخانے ہوں گے گردِش میں پیمانے ہوں گے

رِندوں کی شمشیر کے نیچے مذہب کے دیوانے ہوں گے

ختم نئے ماحول کے اندر واعِظ کے اَفسانے ہوں گے

پاکستان میں کیا کیا ہوگا!

دُور نہ ہوگی فاقہ مَستی یُوں ہی رہے گی فَقر کی پَستی

مٹ نہ سکی ہے ، مٹ نہ سکے گی دولت کی انسان شِکَستی

پاکستان کے اندر ہوگی دولت مہنگی ، غُربت سَستی

پاکستان میں کیا کیا ہوگا!

تا بہ حدِ معراج کریں گے جشنِ تَخت و تاج کریں گے

مذہب ہی کی اوڑھ کے چادر مذہب کو تاراج کریں گے

ابنِ علی کے دشمن بن کر شِمر کے بیٹے راج کریں گے

پاکستان میں کیا کیا ہوگا!

غیروں سے یارانے ہوں گے اپنے سب بیگانے ہوں گے

شمع بنے گا خونِ غریباں روشن عِشرت خانے ہوں گے

پِرجا کے غمگین دِلوں پر راجہ خنجر تانے ہوں گے

پاکستان میں کیا کیا ہوگا!

رحم سے خالی ہر دل ہوگا حاکم جَور پہ مائل ہوگا

ڈُوبے گی ایمان کی کشتی غرقِ طوفاں ساحل ہوگا

بھیس میں انساں کے خود انساں انسانوں کا قاتل ہوگا

پاکستان میں کیا کیا ہوگا!

زَرْ داروں کی عزت ہوگی ہر مُفلِس کی درگت ہوگی

رُسوا ہوگا نامِ محبت اوج پہ جنسِ نفرت ہوگی

پیکرِ عِصمت ، زِینتِ خانہ بازاروں کی زینت ہوگی

پاکستان میں کیا کیا ہوگا ؟

سر سے پا تک دھوکا ہوگا !