کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 5 رکوع 16 سورہ النساء آیت نمبر127 تا 134

وَ یَسْتَفْتُوْنَكَ فِی النِّسَآءِؕ-قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِیْهِنَّۙ-وَ مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ فِیْ یَتٰمَى النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا تُؤْتُوْنَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَ تَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الْوِلْدَانِۙ-وَ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلْیَتٰمٰى بِالْقِسْطِؕ-وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِهٖ عَلِیْمًا(۱۲۷)

اور تم سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں (ف۳۲۴) تم فرمادو کہ اللہ تمہیں ان کا فتویٰ دیتا ہے اور وہ جو تم پر قرآن میں پڑھا جاتا ہے اُن یتیم لڑکیوں کے بارے میں کہ تم انہیں نہیں دیتے جو ان کا مقرر ہے (ف۳۲۵) اور انہیں نکاح میں بھی لانے سے منہ پھیرتے ہو اور کمزور (ف۳۶۲) بچوں کے بارے میں اور یہ کہ یتیموں کے حق میں انصاف پر قائم رہو (ف۳۲۷) اور تم جو بھلائی کرو تو اللہ کو اس کی خبر ہے

(ف324)

شان نزول: زمانہء جاہلیت میں عرب کے لوگ عورت اور چھوٹے بچوں کو میت کے مال کا وارث نہیں قرار دیتے تھے۔ جب آیت میراث نازل ہوئی تو انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ کیا عورت اور چھوٹے بچے وارث ہوں گے ، آپ نے ان کو اس آیت سے جواب دیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ یتیموں کے اولیاء کا دستور یہ تھا کہ اگر یتیم لڑکی صاحب مال و جمال ہوتی تو اس سے تھوڑے مہر پر نکاح کرلیتے اور اگر حسن و مال نہ رکھتی تو اسے چھوڑ دیتے اور اگرحسنِ صورت نہ رکھتی اور ہوتی مالدار تو اس سے نکاح نہ کرتے اور اس اندیشہ سے دوسرے کے نکاح میں بھی نہ دیتے کہ وہ مال میں حصہ دار ہوجائے گا اللہ تعالی نے یہ آیتیں نازل فرما کر انہیں ان عادتوں سے منع فرمایا ۔

(ف325)

میراث سے۔

(ف326)

یتیم ۔

(ف327)

ان کے پورے حقوق ان کو دو ۔

وَ اِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِهَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَهُمَا صُلْحًاؕ-وَ الصُّلْحُ خَیْرٌؕ-وَ اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّؕ-وَ اِنْ تُحْسِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا(۱۲۸)

اور اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی زیادتی یا بے رغبتی کا اندیشہ کرے (ف۳۲۸) تو ان پر گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کرلیں (ف۳۲۹) اور صلح خوب ہے (ف۳۳۰) اور دل لالچ کے پھندے میں ہیں (ف۳۳۱)اور اگر تم نیکی اور پرہیزگاری کرو (ف۳۳۲) تو اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے (ف۳۳۳)

(ف328)

زیادتی تو اس طرح کہ اس سے علیٰحدہ رہے کھانے پہننے کو نہ دے یا کمی کرے یا مارے یا بدزبانی کرے اور اعراض یہ کہ محبت نہ رکھے بول چال ترک کردے یا کم کردے ۔

(ف329)

اور اس صلح کے لئے اپنے حقوق کا بار کم کرنے پر راضی ہوجائیں ۔

(ف330)

اور زیادتی اور جدائی دونوں سے بہتر ہے ۔

(ف331)

ہر ایک کو اپنی راحت و آسائش چاہتا اور اپنے اوپر کچھ مشقت گوارا کرکے دوسرے کی آسائش کو ترجیح نہیں دیتا۔

(ف332)

اور باوجود نامرغوب ہونے کے اپنی موجودہ عورتوں پر صبر کرو اور برعایت حق صحبت ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو اور انہیں ایذا و رنج دینے سے اور جھگڑا پیدا کرنے والی باتوں سے بچتے رہو اور صحبت و مُعاشرت میں نیک سلوک کرو اور یہ جانتے رہو کہ وہ تمہارے پاس امانتیں ہیں ۔

(ف333)

وہ تمہیں تمہارے اعمال کی جزا دے گا ۔

وَ لَنْ تَسْتَطِیْعُوْۤا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآءِ وَ لَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِیْلُوْا كُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوْهَا كَالْمُعَلَّقَةِؕ-وَ اِنْ تُصْلِحُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا(۱۲۹)

اور تم سے ہر گز نہ ہوسکے گا کہ عورتوں کو برابر رکھو چاہے کتنی ہی حرص کرو (ف۳۳۴) تو یہ تو نہ ہو کہ ایک طرف پورا جھک جاؤ کہ دوسری کو اَدھر(درمیان)میں لٹکتی چھوڑ دو (ف۳۳۵) اور اگر تم نیکی اور پرہیزگاری کرو تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

(ف334)

یعنی اگر کئی بیبیاں ہوں تویہ تمہاری مقدرت میں نہیں کہ ہر امر میں تم انہیں برابر رکھو اور کسی امر میں کسی کو کسی پر ترجیح نہ ہونے دو نہ میل و محبت میں نہ خواہش ور غبت میں نہ عشرت واختلاط میں نہ نظر وتوجہ میں تم کوشش کرکے یہ تو کر نہیں سکتے لیکن اگر اتنا تمہارے مقدور میں نہیں ہے اور اس وجہ سے ان تمام پابندیوں کا بار تم پر نہیں رکھا گیا اور محبت قلبی اور میل طبعی جو تمہارا اختیار ی نہیں ہے اس میں برابری کرنے کا تمہیں حکم نہیں دیا گیا ۔

(ف335)

بلکہ یہ ضرور ہے کہ جہاں تک تمہیں قدرت و اختیار ہے وہاں تک یکساں برتاؤ کرو محبت اختیار ی شے نہیں تو بات چیت حسن و اخلاق کھانے پہننے پاس رکھنے اور ایسے امور میں برابری کرنا اختیار ی ہے ان امور میں دونوں کے ساتھ یکسا ں سلوک کرنا لازم و ضروری ہے ۔

وَ اِنْ یَّتَفَرَّقَا یُغْنِ اللّٰهُ كُلًّا مِّنْ سَعَتِهٖؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ وَاسِعًا حَكِیْمًا(۱۳۰)

اور اگر وہ دونوں (ف۳۳۶) جدا ہوجائیں تو اللہ اپنی کشائش سے تم میں ہر ایک کو دوسرے سے بے نیاز کردے گا(ف ۳۳۷) اور اللہ کشائش والا حکمت والا ہے

(ف336)

زن و شو با ہم صلح نہ کریں اور وہ جدائی ہی بہتر سمجھیں اور خلع کے ساتھ تفریق ہوجائے یا مرد عورت کو طلاق دے کر اس کا مہر اورعدت کا نفقہ ادا کردے اور اس طرح وہ

(ف337)

اور ہر ایک کو بہتر بدل عطا فرمائے گا ۔

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-وَ لَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ اِیَّاكُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَنِیًّا حَمِیْدًا(۱۳۱)

اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں اور بے شک تاکید فرمادی ہے ہم نے ان سے جو تم سے پہلے کتاب دئیے گئے اور تم کو کہ اللہ سے ڈرتے رہو (ف۳۳۸) اور اگرکفرکرو تو بے شک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں(ف۳۳۹) اور اللہ بے نیاز ہے(ف۳۴۰) سب خوبیوں والا

(ف338)

اس کی فرمانبرداری کرو اور اس کے حُکم کے خلاف نہ کرو تو حید و شریعت پر قائم رہو اس آیت سے معلوم ہوا کہ تقوٰی اور پرہیزگاری کا حکم قدیم ہے تمام امتوں کو اس کی تاکید ہوتی رہی ہے ۔

(ف339)

تمام جہان اس کے فرماں برداروں سے بھرا ہے تمہارے کفر سے اس کا کیا ضرر ۔

(ف340)

تمام خَلق سے اور ان کی عبادت سے۔

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا(۱۳۲)

اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں اور اللہ کافی ہے کارساز(کام بنانے والا)

اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ اَیُّهَا النَّاسُ وَ یَاْتِ بِاٰخَرِیْنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى ذٰلِكَ قَدِیْرًا(۱۳۳)

اے لوگو وہ چاہے تو تمہیں لے جائے (ف۳۴۱) اور اَوروں کو لے آئے اور اللہ کو اس کی قدرت ہے

(ف341)

معدوم کردے ۔

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ ثَوَابَ الدُّنْیَا فَعِنْدَ اللّٰهِ ثَوَابُ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا۠(۱۳۴)

جو دنیا کا انعام چاہے تو اللہ ہی کے پاس دنیا و آخرت دونوں کا انعام ہے (ف ۳۴۲) اور اللہ سنتا دیکھتا ہے

(ف342)

معنٰی یہ ہیں کہ جس کو اپنے عمل سے دنیا مقصود ہو اور اس کی مرا د اتنی ہی جو اللہ اس کو دے دیتا ہے اور ثواب آخرت سے وہ محروم رہتا ہے اور جس نے عمل رضائے الٰہی اور ثواب آخرت کے لئے کیا تو اللہ دنیا و آخرت دونوں میں ثواب دینے والا ہے تو جو شخص اللہ سے فقط دنیا کا طالب ہو وہ نادان ،خسیس اور کم ہمت ہے ۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.