جالی کے سامنے

مجرم ہوا ہے حاضر جالی کے سامنے

نظرِ کرم ہو ناظر جالی کے سامنے

جرم و گناہ میرے حد سے سوا تو کیا غم

بلوا لیا ہے آخر جالی کے سامنے

حسنین کے تصدق قسمت چمک گئی اب

منگتے ہوئے جو حاضر جالی کے سامنے

بن جائے اسکی بگڑی جس پر نظر ہے ڈالی

اس واسطے ہوں حاضر جالی کے سامنے

کیوں کر پھروں میں دردر جب ہوں تِرا گداگر

منگتا ہوں آگیا پھر جالی کے سامنے

مقبول ہوگی بیشک ہر اک دعائیں تیری

مانگی ہے جو بھی شاکرؔ جالی کے سامنے