أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكَذٰلِكَ نُرِىۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَـكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِـنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اسی طرح ہم نے ابراہیم کو آسمانوں اور زمینوں کی بادشاہی دکھائی اور اس لیے کہ وہ (کامل) یقین کرنے والوں سے ہوجائیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اسی طرح ہم نے ابراہیم کو آسمانوں اور زمینوں کی بادشاہی دکھائی اور اس لیے کہ وہ (کامل) یقین کرنے والوں سے ہوجائیں۔ (الانعام : ٧٥) 

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دکھائے گئے ملکوت کا مصداق : 

امام ابو جع فرمحمد ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے سات آسمان کھل گئے ‘ حتی کہ عرش بھی پھر انہوں نے ان کو دیکھا لیا اور ان کے لیے سات زمینیں کھل گئیں، اور انہوں نے ان کو بھی دیکھ لیا۔ 

عطاء بیان کرتے ہی کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمان کے ملک کے اوپر اٹھایا گیا تو انہوں نے ایک بندے کو زنا کرتے ہوئے دیکھا ‘ انہوں نے اس کے خلاف دعا کی ‘ وہ ہلاک ہوگیا۔ انہوں نے دوبارہ اٹھایا گیا ‘ انہوں نے پھر ایک بندے کو زنا کرتے ہوئے دیکھا ‘ انہوں نے اس کے خلاف دعا کی ‘ وہ ہلاک ہوگیا۔ انہیں پھر اٹھایا گیا ‘ انہوں نے پھر ایک بندے کو زنا کرتے ہوئے دیکھا ‘ انہوں نے پھر اس کے خلاف دعا کی تو انکو ندا کی گئی اے ابراہیم ! ٹھہرو تم مستجاب بندے ہو اور میرے اپنے بندہ کے ساتھ تین معاملات ہیں ‘ یا تو وہ مجھ سے توبہ کرے تو میں اس کی توبہ قبول فرماؤں گا ‘ یا میں اس سے نیک اولاد پیدا کروں گا ‘ یا بدکاری میں اس کو ڈھیل دوں گا اور پھر میں اس کو دیکھ لوں گا۔ اس حدیث کو امام ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ نے شہر بن حوشب سے روایت کیا ہے۔ (تفسیر ابن ابی حاتم ‘ ج ٤‘ ص ١٣٢٦) 

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایک ظالم بادشاہ سے بھاگ کر ایک سرنگ میں چھپ گئے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کا رزق ان کی انگلیوں کے پوروں میں رکھ دیا۔ جب بھی وہ اپنی انگلی کو چوستے ‘ تو انکو رزق مل جاتا جب وہ اس سرنگ سے باہر آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمانوں کی حکومت دکھائی ‘ ان کو سورج اور چاند اور ستارے اور بادل اور ایک عظیم مخلوق دکھائی اور ان کو زمین کی حکومت دکھائی تو ان کو پہاڑ ‘ سمندر ‘ دریا ‘ درخت اور ہر قسم کے جانور اور ایک عظیم مخلوق دکھائی۔ 

امام ابن جریر نے کہا ہے کہ ملکوت کی زیادہ بہتر تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمان اور زمین کا ملک دکھایا اور جو چیزیں ان میں پیدا کی گئی ہیں ‘ مثلا سورج ‘ چاند ‘ ستارے اور جانور وغیرہ اور ان کے لیے تمام امور کے ظاہر اور باطن منکشف کردیئے۔ 

حضرت ابن عباس (رض) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے تمام امور کے ظاہر اور باطن منکشف کردیئے اور مخلوق کے اعمال میں سے کوئی عمل ان سے مخفی نہیں رہا اور جب وہ گناہ کرنے والوں پر لعنت کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم اس کی طاقت نہیں رکھتے اور ان کو پہلی کیفیت پر لوٹا دیا۔ اس حدیث کو امام ابن ابی حاتم نے بھی روایت کیا ہے۔ (تفسیر ابن ابی حاتم ‘ ج ٤‘ ص ١٣٢٧) 

حضرت عبدالرحمن بن عائش (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز پڑھائی ‘ آپ سے کسی نے کہا میں نے آج سے پہلے آپ کو زیادہ خوش نہیں دیکھا ‘ آپ نے فرمایا ایسا کیوں نہ ہو۔ میرے پاس میرا رب (خواب میں) نہایت حسین صورت میں آیا۔ اس نے کہا اے محمد ! یہ مقرب فرشتے کس چیز میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا تو ہی خوب جانتا ہے ! پھر اللہ نے اپنا دست قدرت میرے دو کندھوں کے درمیان رکھا تو میں نے آسمانوں اور زمینوں کی تمام چیزوں کو جان لیا ‘ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی : (آیت) ” وکذلک نری ابراھیم ملکوت السموت والارض ولیکون من الموقنین “۔ 

(جامع البیان ‘ جز ٧ ص ٣٢٢‘ مسند احمد ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٢٢١٧٠‘ طبع جدید دارالفکر ‘ شیخ احمد شاکر نے لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے ‘ مسند احمد ‘ ج ١٦‘ رقم الحدیث :‘ ٢٢٠٠٨ طبع دارالحدیث قاہرہ ‘ مسند احمد ‘ ج ٥ ص ٢٤٣ طبع قدیم ‘ سنن ترمذی ‘ ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٣٢٤٦‘ ٣٢٤٤‘ شرح السنہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٤٦٥ الشریعہ الآجری ‘ ص ٤٣٣‘ ٤٣٢ مسند ابو یعلی “ رقم الحدیث :‘ ٢٦٠٨)

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمینوں کی تمام حکومت اور مخلوق دکھائی تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید پر برقرار رہیں اور اللہ تعالیٰ نے جس چیز کی ہدایت دی ہے ‘ اس کی حقیقت کو جان لیں ‘ اور انہیں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی معرفت اور اپنی قوم کی گمراہی اور جہالت پر بصیرت حاصل ہو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 75