کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 5 رکوع 17 سورہ النساء آیت نمبر135 تا 141

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَ لَوْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَۚ-اِنْ یَّكُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰى بِهِمَا-فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوٰۤى اَنْ تَعْدِلُوْاۚ-وَ اِنْ تَلْوٗۤا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا(۱۳۵)

اے ایمان والو انصاف پر خوب قائم ہوجاؤ اللہ کے لیے گواہی دیتے چاہے اس میں تمہارا اپنا نقصان ہو یا ماں باپ کا یا رشتہ داروں کا جس پر گواہی دو وہ غنی ہو یا فقیر ہو (ف۳۴۳) بہرحال اللہ کو اس کا سب سے زیادہ اختیار ہے تو خواہش کے پیچھے نہ جاؤ کہ حق سے الگ پڑو اور اگر تم ہیر پھیر کرو (ف۳۴۴) یا منہ پھیر و(ف۳۴۵) تو اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے (ف۳۴۶)

(ف343)

کسی کی رعایت و طرفداری میں انصاف سے نہ ہٹو اور کوئی قَرابت و رشتہ حق کہنے میں مخل نہ ہونے پائے۔

(ف344)

حق بیان میں اور جیسا چاہئے نہ کہو ۔

(ف345)

ادائے شہادت سے ۔

(ف346)

جیسے عمل ہوں گے ویسا بدلہ دےگا ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُؕ-وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا(۱۳۶)

اے ایمان والو ایمان رکھو اللہ اور اللہ کے رسول پر (ف۳۴۷) اور اس کتاب پر جو اپنے اُن رسول پر اُتاری اور اُس کتاب پر جو پہلے اُتاری (ف۳۴۸)اور جو نہ مانے اللہ اور اس کے فرشتوں اور کتابوں اور رسولوں اور قیامت کو (ف۳۴۹) تو وہ ضرور دور کی گمراہی میں پڑا

(ف347)

یعنی ایمان پر ثابت رہو یہ معنٰی اس صورت میں ہیں کہ :۔” یٰٓاَ یُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ” کا خطاب مسلمانوں سے ہو اور اگر خطاب یہود و نصارٰی سے ہو تو معنٰی یہ ہیں کہ اے بعض کتابوں بعض رسولوں پر ایمان لانے والو تمہیں یہ حکم ہے اور اگر خطاب منافقین سے ہو تو معنی یہ ہیں کہ اے ایمان کا ظاہری دعوٰی کرنے والو اخلاص کے ساتھ ایمان لے آؤ یہاں رسول سے سیِّد انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور کتاب سے قرآن پاک مراد ہے

شان نزول : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ آیت عبداللہ بن سلام اور اسد واُسید و ثَعلبہ بن قَیۡس اور سلام و سلمہ و یامین کے حق میں نازل ہوئی یہ لوگ مومنین اہل کتاب میں سے تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ہم آپ پر اور آپ کی کتاب پر اور حضرت موسٰی پر اور توریت پر اور عُزَیۡر پر ایمان لاتے ہیں اور اس کے سوا باقی کتابوں اور رسولوں پر ایمان نہ لائیں گے حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم اللہ پر اور اس کے رسول محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور قرآن پر اور اس سے پہلی ہر کتاب پر ایمان لاؤ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔

(ف348)

یعنی قرآن پاک پر اور ان تمام کتابوں پر ایمان لاؤ جو اللہ تعالٰی نے قرآن سے پہلے اپنے انبیاء پر نازل فرمائیں ۔

(ف349)

یعنی ان میں سے کسی ایک کا بھی انکار کرے کہ ایک رسول اور ایک کتاب کا انکار بھی سب کا انکار ہے ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ سَبِیْلًاؕ(۱۳۷)

بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے پھر کافر ہوئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہوئے پھر اور کفر میں بڑھے (ف۳۵۰) اللہ ہر گز نہ انہیں بخشے (ف۳۵۱) نہ انہیں راہ دکھائے

(ف350)

شان نزول :حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ آیت یہود کے حق میں نازل ہوئی جو حضرت موسٰی علیہ السلام پر ایمان لائے پھر بَچھڑا پوج کر کافر ہوئے پھر اس کے بعد ایمان لائے پھر حضرت عیسٰی علیہ السلام اور اِنجیل کا انکار کرکے کافر ہوگئے پھر سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن کا انکار کرکے اور کفر میں بڑھے ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت منافقین کے حق میں نازل ہوئی کہ وہ ایمان لائے پھر کافر ہوگئے ایمان کے بعد پھر ایمان لائے یعنی انہوں نے اپنے ایمان کا اظہار کیاتاکہ ان پر مؤمنین کے احکام جاری ہوں ۔ پھر کفر میں بڑھے یعنی کفر پر ان کی موت ہوئی ۔

(ف351)

جب تک کفر پر رہیں اور کفر پر مریں کیونکہ کُفر بخشا نہیں جاتا مگر جب کہ کافر توبہ کرے اور ایمان لائے جیسا کہ فرمایا۔ ” قُلْ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اِنْ یَّنْتَھُوْا یُغْفَرْ لَھُمْ مَّا قَدْسَلَفَ”۔

بَشِّرِ الْمُنٰفِقِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمَاﰳ ۙ (۱۳۸)

خوش خبری دو منافقوں کو کہ ان کے لیے دردناک عذاب ہے

الَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَؕ-اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَاِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًاؕ(۱۳۹)

وہ جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں (ف۳۵۲) کیا ان کے پاس عزت ڈھونڈتے ہیں تو عزت تو ساری اللہ کے لیے ہے (ف۳۵۳)

(ف352)

یہ منافقین کا حال ہے جن کا خیال تھا کہ اسلام غالب نہ ہوگا اور اس لئے وہ کفار کو صاحبِ قوت اور شوکت سمجھ کر ان سے دوستی کرتے تھے اور ان سے ملنے میں عزت جانتے تھے باوجود یہ کہ کفار کے ساتھ دوستی مَمنوع اور ان کے ملنے سے طلبِ عزت باطل ۔

(ف353)

اور اس کے لئے جس کو وہ عزت دے جیسے کہ انبیاء و مؤمنین ۔

وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ یُكْفَرُ بِهَا وَ یُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖۤ ﳲ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْكٰفِرِیْنَ فِیْ جَهَنَّمَ جَمِیْعَاۙﰳ (۱۴۰)

اور بے شک اللہ تم پر کتاب (ف۳۵۴) میں اتار چکا کہ جب تم اللہ کی آیتوں کو سنو کہ ان کا انکا رکیا جاتا اور ان کی ہنسی بنائی جاتی ہے تو ان لوگوںکے ساتھ نہ بیٹھو جب تک وہ اور بات میں مشغول نہ ہوں(ف۳۵۵) ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہو (ف۳۵۶) بے شک اللہ کافروںاورمنافقوں سب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا

(ف354)

یعنی قرآن ۔

(ف355)

کفار کی ہم نشینی اور ان کی مجلسوں میں شرکت کرنا ایسے ہی اور بے دینوں اور گمراہوں کی مجلسوں کی شرکت اور ان کے ساتھ یارانہ و مُصاحبت ممنوع فرمائی گئی ۔

(ف356)

اس سے ثابت ہوا کہ کفر کے ساتھ راضی ہونے والا بھی کافر ہے۔

الَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْۚ-فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْۤا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ ﳲ وَ اِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِیْنَ نَصِیْبٌۙ-قَالُوْۤا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْكُمْ وَ نَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ-فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-وَ لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِیْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا۠(۱۴۱)

وہ جو تمہاری حالت تکا(دیکھا)کرتے ہیں تو اگر اللہ کی طرف سے تم کو فتح ملے کہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے (ف۳۵۷) اور اگر کافروں کا حصہ ہو تو ان سے کہیں کیا ہمیں تم پر قابو نہ تھا (ف۳۵۸) اور ہم نے تمہیں مسلمانوں سے بچایا (ف۳۵۹) تو اللہ تم سب میں (ف۳۶۰)قیامت کے دن فیصلہ کردے گا (ف۳۶۱) اور اللہ کافروں کو مسلمانوں پر کوئی راہ نہ دے گا (ف۳۶۲)

(ف357)

اس سے ان کی مراد غَنیمت میں شرکت کرنا اور حصہ چاہنا ہے۔

(ف358)

کہ ہم تمہیں قتل کرتے گرفتار کرتے مگر ہم نے یہ کچھ نہیں کیا۔

(ف359)

اور انہیں طرح طرح کے حیلوں سے روکا اور ان کے رازوں پر تمہیں مُطلع کیا تو اب ہمارے اس سلوک کی قدر کرو اور حصہ دو ( یہ منافقوں کا حال ہے)

(ف360)

اے ایماندارو اور منافقو ۔

(ف361)

کہ مؤمنین کو جنت عطا کرے گا اور منافقوں کو داخل جہنم کرے گا ۔

(ف362)

یعنی کافر نہ مسلمانوں کو مٹا سکیں گے نہ حجت میں غالب آسکیں گے علماء نے اس آیت سے چند مسائل مستنبط کئے ہیں(۱) کافر مسلمان کا وارث نہیں(۲) کافر مسلمان کے مال پر اِسۡتِیلاء پا کر مالک نہیں ہوسکتا ۔

(۳) کافر کو مسلمان غلام کے خریدنے کا مجاز نہیں(۴) ذمی کے عوض مسلمان قتل نہ کیا جائے گا۔(جمل)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.