اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَمۡ يَلۡبِسُوۡۤا اِيۡمَانَهُمۡ بِظُلۡمٍ اُولٰۤئِكَ لَهُمُ الۡاَمۡنُ وَهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ۞- سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 82

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَمۡ يَلۡبِسُوۡۤا اِيۡمَانَهُمۡ بِظُلۡمٍ اُولٰۤئِكَ لَهُمُ الۡاَمۡنُ وَهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ۞

ترجمہ:

جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم (شرک) کو نہیں ملایا ان ہی کے لیے بےخوفی ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم (شرک) کو نہیں ملایا ان ہی کے لیے بےخوفی ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔ (الانعام : ٨٢) 

اس مباحثہ میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ : 

اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ بعض مفسرین نے کہا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اس کی قوم کے درمیان جو مباحثہ ہوا تھا ‘ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان فیصلہ سنایا ہے کہ دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے وہی محفوظ رہے گا جس نے اللہ تعالیٰ کی اخلاص کے ساتھ عبادت کی ہو اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں شرک کی آمیزش نہ کی ہو ‘ اور بعض مفسرین نے کہا کہ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کی طرف سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جواب ہے جب انہوں نے فرمایا پس ہر دو فریق میں سے بےخوف ہونے کا کون زیادہ حقدار ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کو نہیں ملایا ‘ تو وہی دنیا اور آخرت میں محفوظ اور مامون ہونے کے زیادہ حقدار ہیں ‘ لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح ہے۔ 

اس آیت میں ظلم سے مراد شرک ہے ‘ کیونکہ ظلم کا معنی ہے کسی چیز کو اس کے مقام پر نہ رکھنا اور جو شخص غیر اللہ کی عبادت کرتا ہے ‘ وہ عبادت کو اس کے محل میں نہیں رکھتا اور اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے : 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” الذین امنوا ولم یلبسوا ایمانھم بظلم “۔ (الانعام : ٨٢) تو یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب پر بہت دشوار ہوئی۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ہم میں سے ہر شخص اپنی جان پر کچھ نہ کچھ ظلم کرتا ہے۔ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ظلم کا یہ معنی مراد نہیں ہے۔ کیا تم نے لقمان کا اپنے بیٹے کے متعلق یہ قول نہیں سنا کہ شرک ظلم عظیم ہے۔ 

(صحیح البخاری ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٣٢‘ صحیح مسلم ‘ ١٩٧‘ (١٢٤) ٣٢٠‘ سنن الترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٣٠٧٨‘ السنن الکبری للنسائی ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ١١١٦٦) مسند احمد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤٠٣١‘ السنن الکبری للبیہقی ‘ ج ١٠‘ ص ١٨٥‘ جامع البیان جز ٧‘ ص ٣٣٢۔ ٣٣١)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 82

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.