وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ ‌ؕ قَالَ اَتُحَآجُّٓونِّىۡ فِى اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰٮنِ‌ؕ وَلَاۤ اَخَافُ مَا تُشۡرِكُوۡنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ رَبِّىۡ شَيۡئًـا ‌ؕ وَسِعَ رَبِّىۡ كُلَّ شَىۡءٍ عِلۡمًا‌ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوۡنَ ۞- سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 80

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ ‌ؕ قَالَ اَتُحَآجُّٓونِّىۡ فِى اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰٮنِ‌ؕ وَلَاۤ اَخَافُ مَا تُشۡرِكُوۡنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ رَبِّىۡ شَيۡئًـا ‌ؕ وَسِعَ رَبِّىۡ كُلَّ شَىۡءٍ عِلۡمًا‌ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ان کی قوم نے ان سے جھگڑا کیا ‘ انہوں نے کہا تم مجھ سے اللہ کے متعلق جھگڑتے ہو حالانکہ اس نے مجھے ہدایت پر برقرار رکھا اور میں ان سے نہیں ڈرتا جن کو تم اللہ کا شریک قرار دیتے ہو، سوا اس کے کہ میرا رب ہی کچھ چاہے، میرے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے، کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتے ؟۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ان کی قوم نے ان سے جھگڑا کیا ‘ انہوں نے کہا تم مجھ سے اللہ کے متعلق جھگڑتے ہو حالانکہ اس نے مجھے ہدایت پر برقرار رکھا اور میں ان سے نہیں ڈرتا جن کو تم اللہ کا شریک قرار دیتے ہو، سوا اس کے کہ میرا رب ہی کچھ چاہے، میرے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے، کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتے ؟۔ (الانعام : ٨٠) 

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ : 

امام ابو جع فرمحمد ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے بتوں سے ڈرایا اور کہا ‘ اگر تم ہمارے خداؤں کی مخالفت کرتے رہے تو تم برص میں مبتلا ہوجاؤ گے یا تمہارے اعضاء خراب ہوجائیں گے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا تم مجھ سے اللہ کے متعلق جھگڑتے ہو ؟ حالانکہ اس نے مجھے ہدایت پر برقرار رکھا اور میں ان سے نہیں ڈرتا جن کو تم اللہ کا شریک قرار دیتے ہو ‘ سوائے اس کے کہ میرا رب ہی کچھ چاہے۔ (جامع البیان ‘ جز ٧ ص ٣٢٨‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 80

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.