وَكَيۡفَ اَخَافُ مَاۤ اَشۡرَكۡتُمۡ وَلَا تَخَافُوۡنَ اَنَّكُمۡ اَشۡرَكۡتُمۡ بِاللّٰهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهٖ عَلَيۡكُمۡ سُلۡطٰنًا ‌ؕ فَاَىُّ الۡفَرِيۡقَيۡنِ اَحَقُّ بِالۡاَمۡنِ‌ۚ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ‌ۘ ۞- سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 81

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكَيۡفَ اَخَافُ مَاۤ اَشۡرَكۡتُمۡ وَلَا تَخَافُوۡنَ اَنَّكُمۡ اَشۡرَكۡتُمۡ بِاللّٰهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهٖ عَلَيۡكُمۡ سُلۡطٰنًا ‌ؕ فَاَىُّ الۡفَرِيۡقَيۡنِ اَحَقُّ بِالۡاَمۡنِ‌ۚ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ‌ۘ ۞

ترجمہ:

میں ان سے کیسے ڈر سکتا ہوں جن کو تم نے اللہ کا شریک قرار دیا ہے جب کہ تم اللہ کے ساتھ انکو شریک بنانے سے نہیں ڈرتے جن کے متعلق اللہ نے تم پر کوئی دلیل نازل نہیں کی ‘ پس ہر دو فریق میں سے بےخوف ہونے کا کون زیادہ حق دار ہے ؟ اگر تم علم رکھتے ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : میں ان سے کیسے ڈر سکتا ہوں جن کو تم نے اللہ کا شریک قرار دیا ہے جب کہ تم اللہ کے ساتھ انکو شریک بنانے سے نہیں ڈرتے جن کے متعلق اللہ نے تم پر کوئی دلیل نازل نہیں کی ‘ پس ہر دو فریق میں سے بےخوف ہونے کا کون زیادہ حق دار ہے ؟ اگر تم علم رکھتے ہو۔ (الانعام : ٨١) 

یہ ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو جواب ہے ‘ جب انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے بتوں سے ڈرایا تھا کہ اگر تم نے ان کی مذمت کرنا نہ چھوڑی تو تمہیں کوئی آفت یا مصیبت پہنچے گی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا میں ان بتوں سے کیسے ڈروں جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو ‘ جو کسی کو نفع پہنچانے یا اس کو ضرر پہنچانے پر قادر نہیں ہیں۔ اگر وہ کسی چیز پر کچھ قادر ہوتے تو جس وقت میں نے ان کو کلہاڑے سے ٹکڑے ٹکڑے کیا تھا ‘ اسی وقت میرا کچھ بگاڑ لیتے ‘ اور میں ان بتوں سے کیسے ڈر سکتا ہوں جو کسی نفع اور نقصان پر قادر نہیں ہیں۔ اب تم ہی بتاؤ کہ دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کون مامون اور محفوظ ہے ؟ جو اس کی عبادت کرتا ہے جس کی قدرت میں نفع اور ضرر پہنچانا ہے یا وہ جو اس کی عبادت کرتا ہے جو کسی نفع اور ضرر کا مالک نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 81

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.