بریلوی خود مولانا احمد رضا کے دشمن ہیں

*بریلوی خود مولانا احمد رضا کے دشمن ہیں*

از ارشاد احمد قاسمی جبلپوری

بشکریہ مولانا ندیم احمد مصباحی

مولانا احمد رضا خان بریلوی مسلک کے امام اور بڑے عالم مانے جاتے ہیں، جو کہ 1857 کے آس پاس پیدا ہوئے تھے، مولانا احمد رضا اور انکے ماننے والے بریلوی حضرات سے مجھے کئی فقہی و نظریاتی اختلاف ہے، باوجود اس کے گزشتہ سال ایک بریلوی دوست کے کہنے پر میں نے مولانا احمد رضا خان کی سیرت پر مبنی کچھ کتابوں کا مطالعہ کیا، جس سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ بریلوی حضرات ہی اپنے امام کے اصل دشمن ہیں۔

اگر علمی و مسلکی اختلاف کو ایک طرف رکھ کر مولانا احمد رضا کو پڑھا اور دیکھا جائے تو جس زمانے میں وہ پیدا ہوئے تھے اس زمانے میں ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی نہیں کی تھی، نا ہی اتنے جدید آلات ذرائع ابلاغ تھے اور ناہی تیز رفتار سواریاں، ناہی الیکٹرانک میڈیا تھی نا ہی سوشل میڈیا بلکہ وہ زمانہ غریبی، جدید علوم سے ناواقفیت اور انگریزی حکومت کا‌دور تھا، یہ الگ بات ہے کہ مولانا خود مالدار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، ایسے دور اور حالات میں اگر مولانا کی دیگر علمی خدمات کا منصفانہ جائزہ لیا جائے تو یقینا مولانا اگر اس زمانے میں ہوتے تو یا تو عالمی سطح کے سائنس داں ہوتے یا پھر ماہر معاشیات و اقتصادیات

مذہبی و مسلکی تحریروں کے علاوہ مولانا نے سائنس، جغرافیہ، علم ہندسہ، معاشیات، علم فلکیات جیسے کئی علوم پر علم کے دریا بہائے ہیں. نیوٹن، آئینسٹائن، ایف پورٹا جیسے بڑے سائنسدانوں کے نظریات کو چیلنج کر ان کا دینی و دنیاوی رد کیا، اسلام کے معاشی نظام کو نافذ کرنے کے لئے اسلامی بینک اور کرنسی کے مسائل پر رسالے تحریر کیے، جنگ آزادی میں مسلمانوں کی تائید میں تحریک چلائی، الغرض زندگی کے ہر میدان میں مسلمانوں کی دینی و دنیاوی نمائندگی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور ایسی شخصیت صدیوں میں ہی پیدا ہوتی ہے۔

مگر جب میں دور حاضر میں ان کے ماننے والوں اور خود ان کے خاندان والوں کے معاملات دیکھتا ہوں تو انتہائی افسوس ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے مولانا کی زندگی کے تمام گوشوں میں سے محض اختلافی فتووں اور نعتیہ کلام کو ہی اپنا کاروباری موضوع بنایا اور بقیہ کارناموں پر مٹی ڈال دی، جس کی وجہ سے مولانا ایک متنازع شخصیت بن کر رہ گئے، جبکہ میں نے یہاں تک سنا ہے کہ مولانا کی کچھ کتب سو سال بعد بھی منظر عام پر نہیں لائی گئی ہے، جو کے انکی ذات کے ساتھ سخت ناانصافی ہے، اگر مولانا کے ان روشن نظریات پر کام کیا گیا ہوتا تو آج بریلوی عوام و خواص دنیاوی علوم سے ناواقف، بےروزگار اور بےادب نہیں ہوتے، مگر جب اچھی چیز کی قدر نہیں کی جاتی تو ایسا ہی ہوتا ہے،

مجھے تو اس بات کا بھی افسوس ہے کہ کاش مولانا ہمارے مسلک میں پیدا ہوئے ہوتے تو یقینا ہم انکے علمی کارناموں کی قدر کرتے.

المختصر یہ کہ اگر آج بھی بریلوی حضرات مولانا کی زندگی کو خود بھی پڑھیں اور انکی روشن نظریات اور انکی خدمات کو اسکول و کالجز کے ذریعے عام کریں تو شاید کچھ تبدیلیاں ممکن ہیں۔ لوگوں کے روزگار کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں، ورنہ خوش فہمی کا سیلاب بریلویوں کو لے ہی ڈوبےگا۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.