حج اللہ کے لیئے کریں پڑوسیوں اور اقارب کے لیئے نہیں

حج اللہ کے لیئے کریں پڑوسیوں اور اقارب کے لیئے نہیں

محمد شاہد علی مصباحی

shahidqadri2@gmail.com

محترم قارئین کرام! حج بیت اللہ ایک عظیم دولت ہے جو خوش قسمت افراد کو میسر ہوتی ہے اور یہ ایک ایسا عظیم فریضہ ہے جسے ادا کرنے کے لیئے ہر مومن کا دل انگڑایئیاں لیتا ہوا نظر آتا ہے۔ اور وہ لوگ جو اپنی کم نصیبی کے باعث اس سعادت عظیمہ کے حصول سے قاصر رہتے ہیں وہ حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کر کے لوٹنے والوں کی راہوں میں اپنی پلکوں کو بچھائے منتظر رہتے ہیں کہ کب حجاج کرام کی ان آب زمزم سے دھلی ہوئی ان نورانی آنکھوں کا دیدار کرنے کا موقع فراہم ہوگا جن آنکھوں نے خانہ کعبہ کی زیارت کی ہے، اور روضۃ الرسول ﷺ کے پر کیف مناظر کو اپنی پلکوں میں سمیٹا ہوا ہے۔ اور کب ان ہاتھوں کو بوسہ دینے کا موقع میسر آئے جنہوں نے اس حجر اسود کو مس کیا ہے جسے سرور کائنات ﷺ نے اپنے لبہائے مبارکہ سے مس کرکے دائمی عظمت و بزرگی عطا فرمائی ہے، اور کب انکے وہ قدم ناز ہمارے گھروں کو پامال کر کے شرف و منزلت عطا کریں جنہوں نے حضرت بی بی ہاجرہ کی پیاری سنت کی ادائگی میں کوہ صفا و مروہ کی سعی کی ہے۔

ان ساری عظمتوں اور بڑائیوں کے مسلّم ہونے کے باوجود مال و دولت کی فراوانی کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے اس دور میں حج بیت اللہ کرنا نہایت آسان ہے مگر نام و نمود اور ریاکاری سے پُر اس دور میں اپنے حج کو اخیر وقت تک بچائے رکھنا انتہائی مشکل امر ہے۔

کیونکہ اصل حج تو وہی ہے جو فریضہ کی ادائیگی اور رضائے الٰہی کی غرض سے کیا جائے ۔ مگر افسوس صد افسوس آج کل لوگ اس عظیم فریضہ کی ادائیگی رضائے مولیٰ کے لیئے کم ، اپنے پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے لیئے زیادہ کر رہے ہیں۔

جبکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے انما الاعمال باالنیات ( بیشک اعمال کا مدار نییتوں پر ہے) آج کچھ لوگ اس نیت سے حج کرتے ہیں تاکہ لوگ انہیں حاجی صاحب کہکر پکارین، اور محلہ کی مسجد میں انکے لیئے امام کے پیچھے جگہ مقرر ہو جائے خواہ وہ آ ئیں سب سے بعد میں ، اور محلہ یا اس علاقہ میں بغیر حاجی صاحب کی رائے کے کوئی معاملہ طے نہ ہو، اور وہ خود اپنا ہاتھ لوگوں کی طرف بڑھاکر زبردستی لوگوں سے دست بوسی کرواتے ہیں، بارہا دیکھا گیا ہے کہ اگر کوئی حاجی صاحب کو محض نام لیکر پکاردے اور حاجی صاحب نہ لگائے تو اسے اپنی سلامتی کی دعائیں مانگنی پڑتی ہیں، اور کہیں کوئی غلطی سے پہلی صف میں انکی جگہ پر بیٹھ گیا تو چاہے آسمان گرے یا زمین دھنس جائے مگر حاجی صاحب اپنی جگہ پاکر ہی دم لینگے ، نیز اگر کوئی پڑوسی یا رشتہ دار پہلی ملاقات میں دست بوسی نہ کی تو حاجی صاحب چراغ پا ، بڑا بے ادب اور گستاخ ہے فلاں اسنے ہاتھ تک نہ چومے ، حتیٰ کہ محلہ کے امام صاحب کی شامت آجاتی ہے، اب حاجی صاحب امام پر چھوٹی چھوٹی سی بات پر ایسے مسائل کے دریا بہاتے ہیں گویا وہ حج کرکے نہیں بلکہ الجامعۃ الازہر مصر سے عالمیت کی سند لیکر لوٹے ہوں ۔

میرے پیارے بھائیو! جب بھی آپ حج بیت اللہ شریف کو جائیں تو یہ خیال رہے کہ آپ حج صرف اور صرف رضائے الہٰی کے حصول کے لیئے کریں نہ کہ کسی اور مقصد سے۔

اور آج کل تو حالت اتنی خراب ہو چکی ہے کہ اللہ رحم فرمائے! اب تو سیلفی والے حاجی صاحبان کی بھرمار ہے ، طواف کر رہے ہیں تو سیلفی ، رمیئے جمارہے تو سیلفی ، صفا و مروہ کی سعی کے درمیان سیلفی حاجی صاحب سوچتے ہیں ساری کائنات کو اپنے حج کا گواہ بنا لوں کے میں نے حج کیا تھا ۔ ارے نادان! تجھے خبر نہیں کہ تو فرشتوں کو اس بات کا گواہ بنا رہا ہے کہ تو ارکان حج ادا نہیں کر رہا تھا بلکہ سیلفی لیکر دکھاوا کر رہا تھا ۔

میرے عزیزو! یہ ساری دنیا کو دکھانا اور باور کرانا تمھارا فریضہ نہیں ہے بلکہ رضائے مولیٰ کی خاطر خوف و خشیت خدا وندی اور سکون و اطمنان کے ساتھ اپنے اس عظیم فریضہ کو انجام دیں ، اور نام و نمود کا شائبہ تک نہ آنے دیں نیز یاد رہے آپ نے حج اللہ کی رضا کے لئیے کیا ہے نہ کہ لوگوں کو دکھانے اور ان پر رعب جھاڑنے کے لیئے۔

اللہ رب العزت کی برگاہ میں التجا ہے کہ وہ آپ کے حج کو حج مبرور کرے ( آمین)

محمد شاہد علی مصباحی

shahidqadri2@gmail.com

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.