قسمت مِری چمکائی ہے آقا نے بلا کر

جھولی بھی مری بھر دی ہے داتا نے بلا کر

بے مثل سخی تم ہو تو میں ادنیٰ بھکاری

حسنین کا صدقہ د ومجھے در پہ بٹھا کر

ہے آرزو اتنی کہ رہوں در کا ہی منگتا

رکھنا مرے آقا مجھے اپنا ہی بنا کر

اپنی ہی نگاہوں کی نگہبانی میں رکھنا

اس بے کس و مجبور کو اعداء سے بچا کر

کہہ دیجئے شامل ہے غلاموں میں تو شاکرؔ

بیٹھا ہوں میں چوکھٹ پہ یہی آس لگا کر

’’جَاؤُکَ‘‘ سنا میں نے چلا آیا میں آقا

کر دیجئے بخشش کی دعا لب کو ہلا کر

جب حشر میں شاکرؔؔ ہو پریشان تو مولیٰ

رکھ لینا اسے اپنے ہی دامن میں چھپا کر