تم پہ قربان بلانے والے

بختِ خفتہ کو جگانے والے

نارِ دوزخ کا نہیں خوف مجھے

وہ سلامت ہیں بچانے والے

کوئی پوچھے یا نہ پوچھے مجھ کو

شاہِ طیبہ ہیں نبھانے والے

گرمیِ حشر سے گھبرائیں کیوں

وہ ہیں دامن میں چھپانے والے

تیرے صدقے میں مِری بات بنی

کھوٹے سِکے کے چلانے والے

کیف جنت کا ملا در پہ تِیرے

کیاری جنت کی دِکھانے والے

دے کے لینا نہیں عادت تیری

مجھ کو جنت میں بٹھانے والے

ہے مریضوں کی شفا نعتِ نبی

وہ ہیں بُردہ کے اُڑھانے والے

شربتِ دید پلا دو آقا

جام کوثر کا پلانے والے

علمِ نافع کی ملے بھیک مجھے

رب کی نعمت کے لٹانے والے

ہو گئی قبر مُنَوَّر میری

رُخِ اَنور کے دکھانے والے

ہو گئی پھر سے مَیَسّر چوکھٹ

مجھ کو قدموں میں بٹھانے والے

بن گئے میرے یہاں بگڑے کام

تم ہو روتوں کو ہنسانے والے

کفر کافر سے چھٹا ملک حجاز

شمع توحید جلانے والے

پھر چلا ہوں میں وطن کی جانب

جلد بلوانا بلانے والے

شاکرِؔ رضوی پہ ہے خاص کرم

کہتے ہیںاب تو زمانے والے