عقائد متعلقہ موت و آخرت

دفن کے بعد قبر مردے کو دباتی ہے اگر وہ مسلمان ہوتو یہ دبانا ایسا ہوتا ہے جیسے ماں بچے کو آغوش میں لیکر پیار سے دبائے اور اگر وہ کافر ہو تو زمین اس زور سے دباتی ہے کہ اس کی ایک طرف کی پسلیاں دوسری طرف ہوجاتی ہیں ۔مردہ کلام بھی کرتا ہے مگر اس کے کلام کوجنوں اور انسانوں کے سوا تمام مخلوق سنتی ہے ۔

عقیدہ :جب لوگ مردے کودفن کرکے وہاں سے واپس ہوتے ہیں تو وہ مردہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے پھر اس کے پاس دو فرشتے زمین چیرتے آتے ہیں انکی صورتیں نہایت ڈراؤنی ،آنکھیں بہت بڑی اور کالی و نیلی ،اور سرسے پاؤں تک ہیبت ناک بال ہوتے ہیں ایک کا نام منکر اور دوسرے کا نکیر ہے وہ مردے کو جھڑک کر اٹھاتے اور کرخت آواز میں سوال کرتے ہیں پہلا سوا ل:من ربک تیرا رب کون ہے ؟دوسرا سوال :مأوینک تیرا دین کیا ہے ؟تیسرا سوال :حضورعلیہ السلام کی طرف اشارہ کر کے پوچھتے ہیں ماکنت تقول فی ھٰذا الرجل ان کے بارے میں تو کیا کہتا تھا ؟

مسلمان جواب دیتا ہے ،میرا رب اللہ ہے ،میرادین اسلام ہے ،گواہی دیتا ہو ں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ،فرشتے کہتے ہیں ،ہم جانتے تھے کہ تو یہی جواب دے گا پھر آسمان سے ندا ہوگی ،

میرے بندے نے سچ کہا ،اس کے لیے جنتی بچھو نا بچھاؤ،اسے جنتی لباس پہناؤ اور اسکے لیے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دو ،پھر دروازہ کھول دیا جاتاہے جس سے جنت کی ہوا اور خوشبو اس کے پاس آتی رہتی ہے اور تا حد نظر اس کی قبر کشادہ کردی جاتی ہے اور اس سے کہا جاتا ہے ،تو سو جا جیسے دولہا سوتا ہے یہ مقام عموماً خواص کے لیے ہے اور عوام میں ا نکے کے لیے ہے جنہیں رب تعالیٰ دینا چاہے ،اسی طرح وسعت قبر بھی حسب مراتب مختلف ہوتی ہے ۔

اگرمردہ کافر و منافق ہے تو وہ ان سوالوں کے جواب میں کہتا ہے ،افسوس مجھے کچھ معلوم نہیں ،

میں جو لوگوں کو کہتے سنتا تھا وہی کہتا تھا ،اس پر آسمان سے منادی ہوتی ہے ،یہ جھوٹا ہے اسکے لیے آگ کا بچھو نا بچھاؤ ،اسے آگ کا لباس پہناؤ اور جہنم کی طرف ایک دروازہ کھول دو ،پھر اس دروازے سے جہنم کی گرمی اور لپٹ آتی رہتی ہے اور اس پر عذاب کے لیے دو فرشتے مقرر کردیے جاتے ہیں جو اسے لو ہے کے بہت بڑے گرزوں سے مارتے ہیں نیز عذاب کے لیے اس پر سانپ اور بچھو بھی مسلط کردیے جاتے ہیں ۔