ولادت مبارک:

حضوراکرم فخر آدم و بنی آدم ﷺ شکم مادر میں نو مہینے کامل رہے، مادر محترمہ نے عام عورتوں کی طرح کسی قسم کی گرانی، بار، درد اور طبیعت کی بد مزگی محسوس نہ کی۔

حضرت سیدہ آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھے معلوم ہی نہ تھا کہ میں حمل سے ہوں، صرف اتنا تھا کہ حیض (ماہواری) بند ہو گیا تھا۔

حضرت سیدہ آمنہ فرماتی ہیں کہ جب مجھ پر وہ حالت طاری ہوئی جو عام طور پر عورتوں کو وضع حمل کے وقت درد وغیرہ ہوتا ہے تو میں گھر میں تنہا تھی اور حضرتِ عبدالمطلب طواف میں تھے۔ اس وقت میں نے ایک عظیم آواز سُنی جس سے میں خوفزدہ ہو گئی۔ اس کے بعد میں نے دیکھا ایک مرغ سفید کا بازو میرے سینے کو مَل رہا ہے تو میرا خوف اور وہ درد جاتا رہا پھر میں نے دیکھا کہ میرے پاس ایک سفید شربت کا پیالہ لایا گیا، میں نے اسے پیا اور سکون و قرار حاصل ہوا، پھر میں نے نور کا ایک بلند مینار دیکھا اس کے بعد اپنے پاس بلند قامت والی عورتیں دیکھیں جن کا قد عبدمناف کی لڑکیوں کی مانند کھجور کے درختوں کی طرح ہے۔ میں نے تعجب کیا یہ کیا! یہ کہاں سے آگئیں؟ اس پر ان میں سے ایک نے کہا میں آسیہ (فرعون کی بیوی) ہوں، دوسری نے کہا: میں مریم بنت عمران ہوں اور یہ عورتیں حور ِعین ہیں اور میرا حال بہت سخت ہو گیا اور ہر گھڑی عظیم سے عظیم تر آوازیں سنتیں جس سے خوف معلوم ہوتا تھا۔ اسی حالت کے دوران میں نے دیکھا کہ ایک فرش زمین و آسمان کے درمیان کھنچا گیا اور میں نے دیکھا کہ زمین و آسمان کے درمیان بہت سے لوگ کھڑے ہیں جن کے ہاتھوں میں چاندی کے آفتابے ہیں پھر میں نے دیکھا کہ پرندوں کا ایک جھنڈ میرے سامنے آیا یہاں تک کہ میرا کمرہ ان سے بھر گیا، ان کی چونچیں زَمُرَّد کی اور ان کے بازو یاقوت کے تھے اور حق تعالیٰ نے میری آنکھوں سے پردہ اٹھادیا اور میں نے مشارق و مغارب کو دیکھا اور میں نے دیکھا کہ تین عَلم ہیں، ایک مشرق میں اور ایک مغرب میں اور ایک خانۂ کعبہ کے اوپر نصب ہے۔ پھر مجھے دردِ زِہ ہوا اور محمد (ﷺ) متولد ہوئے۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ آپ سجدے میں ہیں اور دونوں انگشتہائے مُسَبِّحہْ آسمان کی جانب اٹھائے ہوئے ہیں اور تضرع کی مانند گریاں کناں ہیں۔ اس کے بعد میں نے ایک ابر سفید دیکھا جس نے انہیں میری نظروں سے چھپا دیا اور میں نے کسی کی آواز سُنی جو کہہ رہا تھا: انہیں زمین کے مشارق و مغارب کی سیر کرائو اور ان کے شہروں میں گشت کرائو تاکہ وہاں کے رہنے والے آپ کے اسم مبارک اور نعت و صورت کو پہچان لیں اور جان لیں کہ آپ کی صفت ’’ماحی‘‘ جو کہ شرک کے آثار کو محو و فنا کریں گے۔

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو !حضورﷺ کی ولادت کے بارے میں سب سے زیادہ صحیح و مشہور قول یہ ہے کہ اصحابِ فیل کے واقعہ کے پچپن روز بعد ۱۲؍ربیع الاول مطابق ۲۰؍ اپریل ۵۷۱ء؁ کوبروزِ دوشنبہ آپ کی ولادت ہوئی ہے۔اہل حجاز کے عمل سے بھی یہی ثابت ہو تا ہے کیوں کہ وہ مولدالنبی ا کی زیارت کو ۱۲؍ربیع الاول ہی کوجاتے ہیں اوراسی دن میلاد شریف کی محفلیں منعقد کرتے ہیں۔