أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَتِلۡكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَيۡنٰهَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ عَلٰى قَوۡمِهٖ‌ؕ نَرۡفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنۡ نَّشَآءُ ‌ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِيۡمٌ عَلِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

یہ تھی ہماری وہ قوی دلیل جو ہم نے ابراہیم کو ان کی قوم کے مقابلہ میں عطا کی ‘ ہم جس کو چاہتے ہیں بلند درجات عطا کرتے ہیں، بیشک آپ کا رب بہت حکمت والا خوب جاننے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ تھی ہماری وہ قوی دلیل جو ہم نے ابراہیم کو ان کی قوم کے مقابلہ میں عطا کی ‘ ہم جس کو چاہتے ہیں بلند درجات عطا کرتے ہیں، بیشک آپ کا رب بہت حکمت والا خوب جاننے والا ہے۔ (الانعام : ٨٣) 

مسلمانوں پر مصائب نازل ہونے کی وجوہات : 

اس آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دیئے ہوئے ان تمام دلائل کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر اس سے پہلی آیتوں میں آچکا ہے۔ ان کی قوم کے کافروں نے کہا تھا کہ تم ہمارے بتوں کی مخالفت کرتے ہو ‘ اس لیے تمہیں ان کی مخالفت کی وجہ سے کوئی آفت یا مصیبت پہنچ جائے گی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ کسی ظلم کی آمیزش نہیں کی ‘ وہی لوگ ہر قسم کی آفتوں اور مصیبتوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ 

اس جگہ یہ سوال ہوتا ہے کہ بہت سے مسلمان بھی آفات اور مصائب کا شکار رہتے ہیں۔ پھر یہ کہنا کس طرح صحیح ہوگا کہ ایمان والے دنیا اور آخرت کے عذاب سے محفوظ رہتے ہیں ؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ یہ آفات اور مصائب انسان کی اپنی بعض بداعمالیوں کے سبب سے لاحق ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ویعفوا عن کثیر “۔ (الشوری : ٣٠) 

ترجمہ : اور جو مصیبت تمہیں پہنچی ہے تو وہ تمہاری ہی شامت اعمال کا نتیجہ ہے اور تمہاری بہت سی خطاؤں کو وہ معاف کردیتا ہے۔ 

دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک اور صالح بندوں کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہے اور اس آزمائش میں ان کی استقامت اور ان کا ضبط اور صبر ان کے تقرب اور ان کے درجات کی بلندی کا سبب بنتا ہے اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کو جو بلند درجات عطا فرمائے گا ‘ تو اس کی دلیل اور حجت کے طور پر آفات ‘ مصائب اور مشکلات میں ان کی استقامت اور ان کے صبر وضبط کو ظاہر فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امنا وھم لا یفتنون “۔ (العنکبوت : ٢) 

ترجمہ : کیا لوگوں کا یہ گمان ہے کہ وہ اس کہنے پر چھوڑ دیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش میں نہیں ڈالا جائے گا۔ 

(آیت) ” ولنبلونکم بشیء من الخوف والجوع ونقص من الاموال والانفس والثمرات بشرالصبرین، الذین اذا اصابتھم مصیبۃ قالوا انا للہ وانا الیہ راجعون، اولئک علیہم صلوات من ربھم ورحمۃ واولئک ھم المھتدون “۔ (البقرہ : ٥٧۔ ١٥٥) 

ترجمہ : اور ہم تمہیں کچھ ڈر ‘ بھوک اور مال ‘ جان اور پھلوں میں کمی سے ضرور آزمائیں گے اور آپ صبر کرنے والوں کو خوش خبری سنائیے جب ان لوگوں کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں ‘ بیشک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور بیشک ہم اللہ ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں ‘ یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی جانب سے صلوات اور رحمتیں نازل ہوتی ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ 

انبیاء (علیہم السلام) ‘ علماء اور مومنین کے درجات کی بلندی : 

نیز اس آیت میں فرمایا ہے ہم جس کو چاہتے ہیں اپنے بندوں میں سے ان کے درجات بلند کرتے ہیں، یہ درجات ایمان علم و حکمت اور نبوت کے درجات ہیں ‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : 

(آیت) ” تلک الرسل فضلنا بعضھم علی بعض منھم من کلم اللہ ورفع بعضھم درجت “۔ (البقرہ : ٢٥٣) 

ترجمہ : یہ سب رسول ‘ ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ ان میں سے کسی سے اللہ نے کلام فرمایا اور کسی کو (سب پر) درجات کی بلندی عطا فرمائی ہے۔ 

رسولوں کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں اور علماء کے درجات کی بلندی کا بھی ذکر فرمایا ہے : rnّ (آیت) ” یرفع اللہ الذین امنوا منکم والذین اوتوا العلم درجت “۔ (المجادلہ : ١١) 

ترجمہ : تم میں سے جو لوگ کامل ایمان لائے اور جنہیں علم دیا گیا ‘ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے گا۔ ؛ 

اور آخرت میں اللہ تعالیٰ اجر وثواب کے اعتبار سے ان کے درجات بلند فرمائے گا۔ اس آیت میں مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دلیل کی قوت اور غلبہ کے اعتبار سے دنیا میں بلند درجہ عطا فرمایا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 83