اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْۚ-وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰىۙ-یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ(۱۴۲)

بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دیا چاہتے ہیں (ف۳۶۳) اور وہی انہیں غافل کرکے مارے گا اور جب نماز کو کھڑے ہوں (ف۳۶۴) تو ہارے جی سے (ف۳۶۵) لوگوں کا دکھاوا کرتے ہیں اور اللہ کو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑا (ف۳۶۶)

(ف363)

کیونکہ حقیقت میں تو اللہ کو فریب دینا ممکن نہیں ۔

(ف364)

مؤمنین کے ساتھ۔

(ف365)

کیونکہ ایمان تو ہے نہیں جس سے ذوقِ طاعت اور لطفِ عبادت حاصل ہو محض ریا کاری ہے اس لئے منافق کو نماز بار معلوم ہوتی ہے۔

(ف366)

اس طرح کہ مسلمانوں کے پاس ہوئے تو نماز پڑھ لی اور علیٰحدہ ہوئے تو ندارد

مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِكَ ﳓ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِؕ-وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا(۱۴۳)

بیچ میں ڈگمگارہے ہیں (ف۳۶۷) نہ اِدھر کے نہ اُدھر کے (ف۳۶۸) اور جسے اللہ گمراہ کرے تو اس کے لیے کوئی راہ نہ پائے گا

(ف367)

کفر و ایمان کے۔

(ف368)

نہ خالص مؤمن نہ کھلے کافر۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَؕ-اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا(۱۴۴)

اے ایمان والو کافروں کو دوست نہ بناؤ مسلمانوں کے سوا (ف۳۶۹) کیا یہ چاہتے ہو کہ اپنے اوپر اللہ کے لیے صریح حُجت کرلو (ف۳۷۰)

(ف369)

اس آیت میں مسلمانوں کو بتایا گیا کہ کفار کو دوست بنانا منافقین کی خَصلَت ہے تم اس سے بچو ۔

(ف370)

اپنے نفاق کی اور مستحقِ جہنم ہوجاؤ۔

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِۚ-وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ(۱۴۵)

بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں (ف۳۷۱) اور تو ہر گز ان کا کوئی مددگار نہ پائے گا

(ف371)

منافق کا عذاب کافر سے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ دنیا میں اظہار اسلام کرکے مجاہدین کے ہاتھوں سے بچا رہاہے اور کفر کے باوجود مسلمانوں کو مُغالطہ دینا اور اسلام کے ساتھ اِستہزاء کرنا اس کا شیوہ رہا ہے۔

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ اعْتَصَمُوْا بِاللّٰهِ وَ اَخْلَصُوْا دِیْنَهُمْ لِلّٰهِ فَاُولٰٓىٕكَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ-وَ سَوْفَ یُؤْتِ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا(۱۴۶)

مگر وہ جنہوں نے توبہ کی (ف۳۷۲) اور سنورے(اپنی اصلاح کی) اور اللہ کی رسی مضبوط تھامی اور اپنا دین خالص اللہ کے لیےکرلیا تو یہ مسلمانوں کے ساتھ ہیں (ف۳۷۳) اور عنقریب اللہ مسلمانوں کو بڑا ثواب دے گا

(ف372)

نفاق سے۔

(ف373)

دارین میں ۔

مَا یَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَ اٰمَنْتُمْؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِیْمًا(۱۴۷)

اور اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم حق مانو اور ایمان لاؤ اور اللہ ہے صلہ دینے والا جاننے والا

لَا یُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا(۱۴۸)

اللہ پسند نہیں کرتابری بات کا اعلان کرنا (ف۳۷۴) مگر مظلوم سے (ف۳۷۵) اور اللہ سنتا جانتا ہے

(ف374)

یعنی کسی کے پوشیدہ حال کا ظاہر کرنا ۔ اس میں غیبت بھی آگئی ، چغل خوری بھی ۔عاقل وہ ہے جو اپنے عیبوں کو دیکھے ایک قول یہ بھی ہے کہ برُی بات سے گالی مرا دہے۔

(ف375)

کہ اس کو جائز ہے کہ ظالم کے ظلم کا بیان کرے وہ چور یا غاصب کی نسبت کہہ سکتا ہے کہ اس نے میرا مال چرایا غصب کیا

شانِ نزول: ایک شخص ایک قوم کا مہمان ہوا تھا انہوں نے اچھی طرح اس کی میزبانی نہ کی جب وہ وہاں سے نکلا تو اُن کی شکایت کرتا نکلا اس واقعہ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ، بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے باب میں نازل ہوئی ایک شخص سیّدِعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آپ کی شان میں زباں درازی کرتا رہا آپ نے کئی بار سُکوت کیا مگر وہ باز نہ آیا تو ایک مرتبہ آپ نے اس کو جواب دیا اس پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے حضرت صدیق اکبر نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ شخص مجھ کو بُرا کہتا رہا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ نہ فرمایا میں نے ایک مرتبہ جواب دیا تو حضور اٹھ گئے، فرمایا ایک فرشتہ تمہاری طرف سے جواب دے رہا تھا جب تم نے جواب دیا تو فرشتہ چلا گیا اور شیطان آگیا اس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ۔

اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا(۱۴۹)

اگرتم کوئی بھلائی عَلانیہ کرو یا چھپ کر یا کسی کی برائی سے درگزر وتوبے شک اللہ معاف کرنے والاقدرت والا ہے (ف۳۷۶)

(ف376)

تم اس کے بندوں سے درگزر کرو وہ تم سے در گزر فرمائے گا ۔

حدیث : تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍۙ-وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًاۙ(۱۵۰)

وہ جو اللہ اوراس کے رسولوں کو نہیں مانتے اور چاہتے ہیں کہ اللہ سے اس کے رسولوں کو جدا کردیں (ف۳۷۷) اور کہتے ہیں ہم کسی پر ایمان لائے اور کسی کے منکر ہوئے (ف۳۷۸) اور چاہتے ہیں کہ ایمان و کفر کے بیچ میں کوئی راہ نکال لیں

(ف377)

اس طرح کہ اللہ پر ایمان لائیں اور اس کے رسولوں پر نہ لائیں ۔

(ف378)

شان نزول : یہ آیت یہود و نصارٰی کے حق میں نازل ہوئی کہ یہود حضرت موسٰی علیہ السلام پر ایمان لائے اور حضرت عیسٰی اور سیدعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ انہوں نے کفر کیا ۔ اور نصارٰی حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام پر ایمان لائے اور انہوں نے سیدِعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کفر کیا۔

اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّاۚ-وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا(۱۵۱)

یہی ہیں ٹھیک ٹھیک کافر (ف۳۷۹) اور ہم نے کافروں کے لیے ذلّت کا عذاب تیار کررکھا ہے

(ف379)

بعض رسولوں پر ایمان لانا انہیں کفر سے نہیں بچاتا کیونکہ ایک نبی کا انکار بھی تمام انبیاء کے انکار کے برابر ہے۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ لَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰٓىٕكَ سَوْفَ یُؤْتِیْهِمْ اُجُوْرَهُمْؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠(۱۵۲)

اور وہ جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی پر ایمان میں فرق نہ کیا انہیں عنقریب اللہ ان کے ثواب دے گا (ف۳۸۰) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۳۸۱)

(ف380)

مرتکبِ کبیرہ بھی اس میں داخل ہے کیونکہ وہ اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان رکھتا ہے معتزلہ صاحبِ کبیرہ کے خُلود عذاب کا عقیدہ رکھتے ہیں اس آیت سے ان کے اس عقیدہ کا بطلان ثابت ہوا۔

(ف381)

مسئلہ: یہ آیت صفاتِ فعلیہ (جیسے کہ مغفرت و رحمت ) کے قدیم ہونے پر دلالت کرتی ہے کیونکہ حدوث کے قائل کو کہنا پڑتا ہے کہ اللہ تعالٰی ( معاذ اللہ ) ازل میں غفورو رحیم نہیں تھا پھر ہوگیا اس کے اس قول کو یہ آیت باطل کرتی ہے۔