أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَزَكَرِيَّا وَيَحۡيٰى وَعِيۡسٰى وَاِلۡيَاسَ‌ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس، یہ سب صالحین میں سے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس، یہ سب صالحین میں سے ہیں۔ (الانعام : ٨٥) 

جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا ہے کہ اس میں اختلاف ہے کہ ” من ذریتہ “ کی ضمیر کا مرجع حضرت نوح ہیں ‘ یا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ 

ابو زکریا یحییٰ بن زیاد الفراء المتوفی ٢٠٧ ھ نے لکھا ہے یہ ضمیر حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرح راجع ہے۔ (معانی القرآن ‘ ج ١ ص ٣٤٢) 

نواسوں کا اولاد میں داخل ہونا :

امام ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ ابو الاسود سے روایت کرتے ہیں کہ حجاج نے یحییٰ بن یعمر کو بلا کر کہا کہ مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ تم یہ کہتے ہو کہ حضرت حسن اور حضرت حسین نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اولاد ہیں۔ کیا قرآن مجید میں اس پر کوئی دلیل ہے ؟ میں نے اول سے آخر تک قرآن مجید پڑھا ‘ مجھے اس پر کوئی دلیل نہیں ملی یحییٰ بن یعمر نے کہا تم نے سورة الانعام کی یہ آیت نہیں پڑھی ” ومن ذریتہ الی قولہ ویحیی و عیسیٰ “ اس نے کہا کیوں نہیں، انہوں نے کہا کیا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد نہیں ہیں ‘ حالانکہ ان کا کوئی باپ نہیں ہے۔ حجاج نے کہا آپ نے سچ کہا۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ‘ ج ٤‘ ص ١٣٣٥‘ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الریاض ‘ ١٤١٧ ھ) 

ابو اسحاق ابراہیم الزجاج المتوفی ٣١١ ھ نے لکھا ہے ‘ جائز ہے کہ یہ انبیاء (علیہم السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہوں اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ انبیاء (علیہم السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہوں۔ (معافی القرآن واعرابہ للزجاج ‘ ج ٢‘ ص ٢٦٩‘ مطبوعہ عالم الکتب ‘ بیروت ‘ ١٤٠٨ ھ) 

قاضی عبدالحق بن غالب بن عطیہ اندلسی متوفی ٥٤٦ ھ لکھتے ہیں : 

زجاج نے کہا ہے کہ من ذریتہ کی ضمیر کا ابراہیم کی طرف لوٹنا بھی جائز ہے۔ اس پر یہ اعتراض ہوگا کہ ان انبیاء میں حضرت لوط (علیہ السلام) کا بھی ذکر ہے اور وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے نہیں ہیں ‘ بلکہ وہ ان کے بھتیجے ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ وہ ان کے بھانجے ہیں اور جو شخص ماموں پر باپ کا اطلاق کرتا ہے وہ اس آیت سے استدلال کرتا ہے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ یہ ضمیر حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرف لوٹتی ہے اور یہ بہت مناسب ہے۔ (الحرر الوجیز ‘ ج ٦‘ ص ٩٧‘ مطبوعہ مکتبہ تجاریہ ‘ مکہ مکرمہ) 

امام ابن ابی حاتم اپنی سند کے ساتھ محمد بن کعب سے روایت کرتے ہیں کہ ماموں بھی والد ہے اور چچا بھی والد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی ان کے ماموں کی طرف نسبت کی ہے اور فرمایا ” ومن ذریتہ “ (الی قولہ) (آیت) ” و زکریا ویحی و عیسیٰ والیاس کل من الصلحین “۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ‘ ج ٤‘ ص ١٣٣٦‘ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الریاض ‘ ١٤١٧ ھ) 

نواسوں کو اولاد میں شمار کرنے کے متعلق مذاہب فقہاء : 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

اگر یہ کہا جائے کہ یہ مذکور انبیاء (علیہم السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں تو اس پر یہ اعتراض ہوگا کہ اس آیت میں حضرت یونس (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کا ذکر بھی کیا گیا اور وہ دونوں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے نہیں ہیں ‘ حضرت لوط (علیہ السلام) ان کے بھتیجے تھے اور ایک قول یہ ہے کہ ان کے بھانجے تھے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا یہ تمام انبیاء (علیہم السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کی طرف منسوب ہیں ‘ اگرچہ ان میں بعض انبیاء ایسے ہیں جو ماں اور باپ کی طرف سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے نہیں ہیں ‘ کیونکہ حضرت لوط (علیہ السلام) ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھائی کے بیٹے ہیں اور عرب چچا کو باپ کہتے ہیں ‘ جیسا کہ قرآن مجید نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد سے نقل فرمایا ہے ‘ انہوں نے کہا۔ 

(آیت) ” نعبد الھک والہ ابآئک ابراھیم واسمعیل واسحق “۔ (البقرہ : ١٣٣) 

ترجمہ : ہم آپ کے معبود کی عبادت کریں گے اور آپ کے باپ دادا ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے۔ 

حالانکہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ‘ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے چچا تھے۔ 

اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ذریت سے شمار فرمایا ہے ‘ حالانکہ وہ ان کی بیٹی کے بیٹے ہیں ‘ اسی بناء پر حضرت فاطمہ (رض) کی اولاد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذریت ہے اور جو فقہاء بیٹیوں کی اولاد کو بھی اولاد میں داخل کرتے ہیں ‘ وہ اسی آیت سے استدلال کرتے ہیں اور ان کا استدلال اس حدیث سے بھی ہے : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوبکر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت حسن (رض) کو لے کر آئے اور ان کو منبر پر چڑھایا ‘ پھر آپ نے فرمایا میرا یہ بیٹا سید ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ اسی کے سبب سے مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں کے درمیان صلح کرائے گا۔ 

(صحیح البخاری ‘ ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٣٦٢٩‘ سنن الترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٣٧٩٨‘ سنن ابوداؤد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٤٦٦٢‘ سن النسائی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ١٤٠٩‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ١٥‘ رقم الحدیث :‘ ٦٩٦٤‘ مسند احمد ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٢٠٤٧٠‘ طبع جدید ‘ مسند احمد ‘ ج ٥‘ ص ٥١‘ ٤٤‘ طبع قدیم ‘ المعجم الکبیر ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٢٥٩١‘ مجمع الزوائد ‘ ج ٩‘ ص ١٧٥) 

ہمیں کسی کے متعلق یہ علم نہیں ہے کہ اس نے بیٹیوں کی اولاد پر ان کے نانا کی اولاد کے اطلاق کو ناجائز کہا ہو اور لغت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے ‘ کیونکہ ولد (بیٹا) کا لفظ تولد سے مشتق ہے اور وہ لامحالہ اپنی ماں کے باپ سے متولد ہیں۔ سو قرآن مجید کی آیت ” ومن ذریتہ “ (الانعام : ٨٤) اس حدیث اور لغت سے یہ ثابت ہے کہ کسی شخص کی بیٹی کی اولاد پر بھی اس شخص کی اولاد کا اطلاق ہوتا ہے ‘ اس سے حسب ذیل مسئلہ متفرق ہوتا ہے۔ 

امام ابوحنیفہ اور امام شافعی یہ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے اپنی اولاد اور اولاد کی اولاد کے لیے کسی جائیداد کو وقف کیا تو اس میں اس کی بیٹیوں کی اولاد بھی داخل ہوگی ‘ اسی طرح جب کسی شخص نے اپنے قرابت داروں کے لیے وصیت کی تو اس میں بیٹیوں کی اولاد بھی داخل ہوگی۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک ہر ذی رحم محرم کو قرابت شامل ہے ‘ اور ان کے نزدیک اس وصیت سے چچا ‘ پھوپھی ‘ ماموں اور خالہ کے بیٹے ساقط ہوجائیں گے ‘ کیونکہ وہ محرم نہیں ہیں اور امام شافعی (رح) کے نزدیک ہر ذی رحم محرم اور اس کے غیر کو قرابت شامل ہے ‘ سو انکے نزدیک اس وصیت سے چچا کا بیٹا اور اس کا غیرساقط نہیں ہوگا ‘ اور امام مالک کے نزدیک اس وصیت میں بیٹیوں کی اولاد داخل نہیں ہوگی اور اس کا اپنے قرابت داروں کے لیے وصیت کرنا اپنی اولاد اور اولاد کی اولاد کے لیے وصیت کرنے کی مثل ہے اور اس وصیت میں بیٹے کی اولاد داخل ہوگی اور بیٹیوں کی اولاد داخل نہیں ہوگی۔ 

امام شافعی کا بھی ایک قول اسی طرح ہے۔ 

امام مالک کی دلیل یہ ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” یوصیکم اللہ فی اولادکم “۔ (النساء : ١١) 

ترجمہ : اللہ تمہاری اولاد (کے حصوں) کے متعلق حکم دیتا ہے۔ 

تمام مسلمان اس آیت کا یہ معنی سمجھتے ہیں کہ اس آیت میں اولاد سے مراد صلبی اولاد ہے اور خصوصا بیٹا مراد ہے۔ 

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا : 

(آیت) ” وللرسول ولذی القربی “۔ (الانفال : ٤١) 

ترجمہ : رسول کے لیے اور اس کے قرابت داروں کے لیے۔ 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حصص قرابت داروں میں سے چچا کو دیئے ‘ ماموں کو نہیں دیئے ‘ اسی طرح عرف میں بیٹیوں کی اولاد ان کے نانا کی طرف منسوب نہیں کی جاتی اور شجرہ نسب میں وہ نانا کے ساتھ نہیں ملتی۔ (الجامع لاحکام القرآن ‘ جز ‘ ص ٣٠‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

بیٹی کی اولاد پر اولاد کے اطلاق اور اولاد میں اس کے داخل ہونے پر یہ دلیل ہے کہ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” فمن حاجک فیہ من بعد ما جآءک من العلم فقل تعالوا ندع ابنآء نا وابنآء کم ونسآء نا ونسآء کم وانفسنا وانفسکم ثم نبتھل فنجعل لعنت اللہ علی الکذبین۔ (آل عمران ٦١) 

ترجمہ : پھر (اے رسول مکرم) آپ کے پاس وحی آنے کے بعد بھی جو لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق بحث کریں تو آپ (ان سے) کہیں ‘ آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلا لیں اور تم اپنے بیٹوں کو اور ہم اپنی عورتوں کو اور تم اپنی عورتوں کو اور ہم اپنے آپ کو اور تم اپنے آپ کو ‘ پھر ہم عاجزی کے ساتھ اللہ سے دعا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں۔ 

احادیث میں ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے بیٹوں کے لیے حضرت حسن اور حضرت حسین (رض) کو بلایا تھا ‘ اس سے واضح ہوا کہ بیٹی کی اولاد بھی اولاد میں داخل ہے۔ 

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں : 

امام ابن ابی شیبہ ‘ امام سعید ‘ بن منصور ‘ امام عبد بن حمید ‘ امام ابن جریر اور امام ابو نعیم شعبی سے روایت کرتے ہیں کہا ہل نجران عیسائیوں کی ایک بڑی قوم تھے۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کے متعلق ایک سنگین بات کہی اور وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس مسئلہ میں بحث کر رہے تھے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان سے مباہلہ کرنے کا حکم دیا۔ صبح کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور آپ کے ساتھ حضرت حسن ‘ حضرت حسین (رض) اور حضرت سیدہ فاطمہ (رض) تھیں ‘ تو انہوں نے مباہلہ کرنے سے انکار کردیا اور جزیہ دینے پر صلح کی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے سب نے بشارت دی تھی حتی کہ درختوں پر بیٹھے ہوئے پرندوں نے بھی کہ اگر یہ مباہلہ کرتے تو تمام اہل نجران ہلاک ہوجاتے۔ 

امام مسلم ‘ امام ترمذی ‘ امام ابن المنذر ‘ امام حاکم اور امام بیہقی نے (اپنی سنن میں) حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی۔ (آیت) ” قل تعالوا ندع ابناء نا وابناء کم “ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی ‘ حضرت فاطمہ ‘ حضرت حسن اور حضرت حسین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو بلایا اور فرمایا اے اللہ ! یہ سب میرے اہل بیت ہیں۔ (درمنثور ‘ ج ٣ ص ٢٣٣۔ ٢٣٢ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٤ ھ) 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

بعض علماء نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ بیٹی کی اولاد کو بیٹا کہنا ‘ یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خصوصیت ہے۔ اور ہمارے اصحاب (فقہاء احناف) کے اس مسئلہ میں مختلف فتوے ہیں اور میرا رجحان یہ ہے کہ بیٹی کی اولاد ‘ اولاد میں داخل ہے۔ (روح المعانی جر ٧ ص ٢١٤‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت)

حضرت الیاس (علیہ السلام) کے نسب اور ان کے مصداق میں اختلاف ہے۔ امام ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا ادریس الیاس ہیں اور اسرائیل یعقوب ہیں۔ 

اور اہل انساب نے یہ کہا ہے کہ ادریس (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) کے جد (دادا) ہیں۔ وھب بن منبہ سے اسی طرح مروی ہے ‘ کیونکہ اس آیت میں حضرت الیاس (علیہ السلام) کو حضرت نوح (علیہ السلام) کے دادا ہیں ‘ اس لیے اہل انساب کا قول صحیح ہے۔ (جامع البیان ‘ جز ٧ ص ٣٤٠‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

امام ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ نے بھی حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کا یہ قول روایت کیا ہے کہ حضرت الیاس (علیہ السلام) ہی حضرت ادریس ہیں۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ‘ ج ٤‘ ص ١٣٣٦‘ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٧ ھ) 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

ایک قوم نے یہ وہم کیا ہے کہ الیس ہی الیاس ہیں ‘ حالانکہ اس طرح نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کا الگ الگ ذکر کیا ہے۔ وھب بن منبہ نے کہا کہ حضرت الیسع حضرت الیاس کے شاگرد ہیں اور یہ دونوں حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے گزرے ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرت الیاس (علیہ السلام) ہی حضرت ادریس ہیں اور یہ صحیح نہیں ہے ‘۔ کیونکہ حضرت ادریس (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) کے دادا ہیں اور حضرت الیاس (علیہ السلام) ان کی اولاد میں سے ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرت الیاس (علیہ السلام) ہی حضرت خضر (علیہ السلام) ہیں اور دوسرا قول یہ ہے کہ نہیں ‘ بلکہ حضرت الیسع حضرت خضر ہیں ‘ (جامع البیان ‘ جز ٧ ص ٣١‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

امام ابن اسحاق نے حضرت الیاس (علیہ السلام) کا نسب اس طرح بیان کیا ہے ‘ الیاس بن لیس بن مخاص بن العیزار بن مارون۔ یہ وہ ہارون ہیں جو حضرت موسیٰ بن عمران (علیہم السلام) کے بھائی ہیں۔ قتبی نے نقل کیا ہے کہ حضرت الیاس حضرت یوشع کے نواسے ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ وہ حضرت اسماعیل کے نواسے ہیں۔ حضرت ابن مسعود نے کہا وہ ادریس ہیں ‘ اور امام ابن اسحاق نے حضرت ادریس کا نسب اس طرح بیان کیا ہے ‘ ادریس بن یرد بن مھلائیل ‘ بن انوش بن قینان بن شیث بن آدم اور وہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے دادا ہیں۔ حضرت ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ادریس (علیہ السلام) کے درمیان ایک ہزار سال ہیں (روح المعانی جر ٧ ص ٢١٤‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 85