ذٰ لِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهۡدِىۡ بِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ‌ؕ وَلَوۡ اَشۡرَكُوۡا لَحَبِطَ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۞- سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 88

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ذٰ لِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهۡدِىۡ بِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ‌ؕ وَلَوۡ اَشۡرَكُوۡا لَحَبِطَ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور اگر وہ شرک کرتے تو ان کے کیے ہوئے نیک عمل ضائع ہوجاتے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور اگر وہ شرک کرتے تو ان کے کیے ہوئے نیک عمل ضائع ہوجاتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے کتاب اور حکم شریعت اور نبوت عطا کی تھی ‘ پس اگر یہ لوگ ان چیزوں کا انکار کرتے ہیں (تو کوئی حرج نہیں) ہم نے ان چیزوں پر ایسی قوم کو مقرر فرما دیا ہے جو ان چیزوں کا انکار کرنے والی نہیں ہے۔ (الانعام : ٨٩۔ ٨٨) 

اللہ کی ہدایت : 

یہ اللہ کی ہدایت ہے۔ اس سے مراد وہ ہدایت ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے انبیاء اور رسل (علیہم السلام) کو ہدایت دی ہے اور ان کو دین حق کے ساتھ متصف ہونے کی توفیق دی ہے ‘ جس کے سبب سے انہوں نے دنیا اور آخرت کی عزت اور کرامت کو حاصل کیا اور اللہ کی ہدایت کا معنی ہے اللہ کی توحید کا اقرار کرنا ‘ ہر قسم کے شرک سے دائما مجتنب رہنا اور اخلاص کے ساتھ اللہ کی اطاعت اور عبادت کرنا۔ پھر فرمایا (بفرض محال) اگر ان نبیوں اور رسولوں نے بھی شرک کیا تو ان کے نیک اعمال ضائع ہوجائیں گے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ شرک کی آمیزش کے ساتھ کسی نیک عمل کو قبول نہیں فرماتا۔ اس آیت میں انبیاء (علیہم السلام) کی امتوں کے لیے تعریض ہے کہ جب انبیاء (علیہم السلام) سے بھی اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا کہ اگر انہوں نے بالفرض شرک کیا تو ان کے نیک اعمال ضائع ہوجائیں گے تو انکی امتیں کس گنتی شمار میں ہیں۔ 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ‘ یہ وہ انبیاء ہیں جن کو ہم نے کتابیں دی ہیں ان کتابوں سے مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفے ہیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تورات ہے ‘ حضرت دادؤ کی زبور ہے اور حضرت عیسیٰ علیہم الصلوۃ والسلام کی انجیل ہے اور حکم سے مراد ہے کتاب اللہ میں مذکور احکام کی فہم اور معرفت ‘ اور نبوت کا معنی ہے اللہ کی طرف سے غیب کی خبریں اور احکام شرعیہ حاصل کر کے بندوں تک پہنچانا۔ 

پھر فرمایا اگر اہل مکہ نے میری کتاب کی ان آیات کا کفر اور انکار کیا تو میں نے ان آیات پر ایمان لانے کے لیے ایسی قوم کو مقرر کیا ہے جو اس کا انکار نہیں کریں گے۔ ابن جریج نے کہا اس قوم سے مراد اہل مدینہ اور انصار ہیں۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اہل مدینہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدینہ میں تشریف لانے سے پہلے اہل ایمان کے لیے مدینہ میں جگہ بنا چکے تھے۔ 

قتادہ نے اس آیت کی یہ تفسیر کی ہے : کہ اگر قریش نے ہماری آیات کی تکذیب کی (تو کیا نقصان ہے ! ) ہم نے اس سے پہلے اٹھارہ نبیوں کا ذکر کیا ہے جو ہماری آیات پر ایمان لانے والے ہیں۔ امام ابن جریر نے اسی تفسیر کو راجح قرار دیا ہے۔ (جامع البیان ‘ جز ٧ ص ٣٤٥۔ ٣٤٢‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 88

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.