وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَالۡيَسَعَ وَيُوۡنُسَ وَلُوۡطًا‌ ؕ وَكُلًّا فَضَّلۡنَا عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۞- سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 86

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَالۡيَسَعَ وَيُوۡنُسَ وَلُوۡطًا‌ ؕ وَكُلًّا فَضَّلۡنَا عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

اور اسمعیل اور الیسع اور یونس اور لوط، اور ہم نے سب کو (ان کے زمانہ کے) تمام جہان والوں پر فضیلت دی۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اسمعیل اور الیسع اور یونس اور لوط، اور ہم نے سب کو (ان کے زمانہ کے) تمام جہان والوں پر فضیلت دی۔ اور ان کے باپ دادا اور ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے بعض کو (ہدایت دی) اور ہم نے ان کو چن لیا اور سب کو صراط مستقیم کی ہدایت دی۔ (الانعام : ٨٧۔ ٨٦) 

علامہ قرطبی نے وہب بن منبہ کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ حضرت الیسع حضرت الیاس کے صاحب تھے اور یہ دونوں حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) سے پہلے گزرے ہیں۔ 

انبیاء (علیہم السلام) کے ذکر میں ایک نوع کی مناسبت : 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پہلے چار نبیوں کا ذکر فرمایا اور وہ حضرت نوح ‘ حضرت ابراہیم ‘ حضرت اسحق ‘ اور حضرت یعقوب (علیہم السلام) ہیں۔ پھر ان کی اولاد میں سے چودہ نبیوں کا ذکر فرمایا اور وہ یہ ہیں۔ حضرت داؤد ‘ حضرت سلیمان ‘ حضرت ایوب ‘ حضرت یوسف ‘ حضرت موسیٰ ‘ حضرت ہارون ‘ حضرت زکریا ‘ حضرت یحییٰ ‘ حضرت عیسیٰ ‘ حضرت الیاس ‘ حضرت اسماعیل ‘ حضرت الیسع حضرت یونس ‘ اور حضرت لوط (علیہم السلام) ‘ اور یہ کل اٹھارہ نبیوں کا ذکر ہے۔ 

جب متعدد شخصیات کا ذکر ہو تو ان کے درمیان ترتیب یا تو سنین وفات کے اعتبار سے ہوتی ہے اور یا فضل اور شرف کے اعتبار سے ترتیب ہوتی ہے۔ امام رازی نے یہاں ترتیب کی ایک اور وجہ بیان کی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا حصول ہے ‘ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا پہلے ذکر فرمایا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ملک ‘ سلطنت اور قدرت کی عظیم نعمت عطا فرمائی تھی۔ پھر حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا ‘ انہیں مصائب میں صبر وضبط اور آزمائش میں ثابت قدم رہنے کی بہت بڑی نعمت عطا فرمائی تھی اور ان کے بعد حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا ‘ وہ ان دونوں نعمتوں کے جامع ہیں۔ پہلے انہوں نے سخت مصائب برداشت کیے ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے انکو ملک اور سلطنت سے نوازا۔ اس کے بعد انبیاء (علیہم السلام) پر نعمتوں کا دوسرا سلسلہ ہے۔ وہ ان کے معجزات کی قوت اور ان دلائل اور براھین کی کثرت ہے اور حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کو یہ نعمت پوری طرح حاصل تھی۔ لہذا ان کا ذکر فرمایا ‘ اس کے علاوہ نعمت کی ایک قسم ہے دنیا سے ترک تعلق کرکے زاہدانہ زندگی گزارنا ‘ اور حضرت زکریا ‘ حضرت یحییٰ ‘ حضرت عیسیٰ ‘ اور حضرت الیاس اس نعمت کے حامل ہیں ‘ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو صالحین کے وصف کے ساتھ متصف کیا ہے۔ اس کے بعد انبیاء (علیہم السلام) کی ایک وہ نوع ہے جن کے دنیا میں پیروکار باقی نہیں رہے ‘ اور وہ یہ ہیں۔ حضرت اسماعیل ‘ حضرت الیسع ‘ حضرت یونس ‘ اور حضرت لوط علیہم السلام۔ ان انبیاء (علیہم السلام) کے ذکر میں یہ ایک عمدہ مناسب ہے جس کو امام رازی نے مستنبط کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ‘ ہم نے انکو ہدایت دی ‘ اس کا معنی ہے ہم نے ان کو جنت کے راستوں کی طرف ہدایت دی ‘ یا اس کا معنی ہے ہم نے انکو احکام شرعیہ پر عمل کرنے اور محاسن اخلاق کو حاصل کرنے کی ہدایت دی۔ 

انبیاء (علیہم السلام) کا ملائکہ سے افضل ہونا : 

اس آیت میں فرمایا ہے اور ہم نے ان (سب) انبیاء کو تمام جہان والوں پر فضیلت دی اس آیت سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) ملائکہ سے افضل ہیں ‘ کیونکہ عالم کا لفظ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر موجود کو شامل ہے اور ملائکہ بھی عالمین میں داخل ہیں۔ سو اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) ملائکہ سے افضل ہیں اور اس پر دوسری دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کریں اور حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ادنی کو اعلی کے لیے سجدہ کا حکم دیا جائے اور تیسری دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو تمام چیزوں کے اسماء کی تعلیم دی اور پھر حضرت آدم (علیہ السلام) سے فرمایا آپ انہیں ان چیزوں کے نام بتائیں اور جب حضرت آدم (علیہ السلام) نے ان چیزوں کے نام بتادیئے تو فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کریں۔ سورة بقرہ ٣٤۔ ٣٠ میں یہ واقعہ مذکورہ ہے اور اس سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی فرشتوں سے افضل ہوتا ہے ‘ اور چوتھی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان میں شہوت اور غضب کو رکھا ہے جو علمی اور عملی کمالات کے حصول سے مانع ہیں ‘ پھر اس میں نجی ‘ خانگی اور تمدنی ضرورت اور حاجات رکھی ہیں اور کمزوریاں اور بیماریاں رکھی ہیں جو فضائل اور محاسن کے حصول سے مانع ہوتی ہیں اور فرشتوں کے اندر ان میں سے کوئی چیز نہیں ہے۔ وہ ہر وقت تسبیح ‘ تہلیل اور عبادت کرتے ہیں اور ان کے لیے کوئی چیز مانع اور حائل نہیں ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مشاغل ‘ صوارف اور موانع کے باوجود معرفت الہی اور عبادات میں کمال حاصل کرنا زیادہ اخلاص اور فضیلت کا موجب ہے۔ اس لیے عام اور خاص ملائکہ سے انبیاء (علیہم السلام) افضل ہیں اور عام ملائکہ سے کامل مسلمان اور عبادت گزار مومنین افضل ہیں ‘ لیکن وہ خاص ملائکہ یعنی رسل ملائکہ سے افضل نہیں ہیں ‘ بلکہ رسل ملائکہ ان سے افضل ہیں اور فساق فجار اور کفار سے عام ملائکہ بھی افضل ہیں۔ 

اس آیت سے یہ مسئلہ بھی مستنبط کیا گیا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) تمام اولیاء سے افضل ہیں ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان انبیاء (علیہم السلام) کو العلمین پر فضیلت دی ہے اور العلمین میں اولیاء کرام بھی داخل ہیں۔ 

بظاہر اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ یہ انبیاء (علیہم السلام) ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی افضل ہوں ‘ کیونکہ اس میں فرمایا ہے ہم نے ان (سب) کو العلمین “ پر فضیلت دی ہے اور ” العلمین “ میں ہمارے نبی بھی داخل ہیں۔ اس لیے مفسرین نے اس آیت میں یہ قید لگائی ہے کہ ان سب کو اپنے اپنے زمانوں میں تمام جہان والوں پر فضیلت دی ہے۔ 

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اٹھارہ انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر فرمایا ہے ‘ انکے علاوہ قرآن مجید میں سات انبیاء (علیہم السلام) کا اور ذکر فرمایا ہے۔ وہ یہ ہیں : حضرت آدم ‘ حضرت ادریس ‘ حضرت ھود ‘ حضرت ذوالکفل ‘ حضرت صالح ‘ اور حضرت شعیب (علیہم السلام) اور ہمارے نبی سیدنا محمد خاتم الانبیاء والمرسلین صلی اللہ تعالیٰ وعلی آلہ و اصحابہ وبارک وسلم “۔ 

ان آیتوں میں اس پر دلیل ہے کہ جس رسول نے سب سے پہلے حلال اور حرام اور دیگر شرعی احکام بیان کیے ‘ وہ حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 86

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.