مجھے میرے آقا بلاتے رہیں گے

مدینے کا منگتا بناتے رہیں گے

دکھا سبز گنبد تو بولیں یہ آنکھیں

کہ پلکوں کے موتی لٹاتے رہیں گے

جنہیں عشقِ احمد کی دولت ملی ہے

انہیں سمت جنت بلاتے رہیں گے

مجھے قبر کی اب نہیں کوئی وحشت

حضور اپنا جلوہ دکھاتے رہیں گے

ہے اعزاز چوکھٹ پہ بیٹھا ہوں ان کی

یہ قاسم ہیں نعمت لٹاتے رہیں گے

ہوا تم پہ رمضاں میں نازل یہ قرآں

سنیں گے اسے اور سناتے رہیں گے

بنے وردِ صَلِّ عَلٰی جس کی عادت

اسے اپنا کہہ کر بلاتے رہیں گے