ہم دو ہمارے دو

ہم دو ہمارے دو

یہ نعرہ "ہم دو ہمارے دو” آپ نے بھی سنا ہوگا جس کا صاف صاف مطلب ہے کہ ایک شادی کرو اور دو بچے، بس بن گئی خوش حال فیملی……،

؎ لوگ اس شہر کو خوش حال سمجھ لیتے ہیں

رات کے وقت بھی جو جاگ رہا ہوتا ہے

کتنی عجیب بات ہے کہ یہ بات صرف ہماری سمجھ میں ہی تشریف لائی ورنہ:

رسول کریم ﷺ نے گیارہ عورتوں سے نکاح فرمایا اور آپ کی چار باندیاں بھی تھیں۔ آپ ﷺ کی اولاد کرام کی تعداد سات ہے۔

حضرت آدم علیہ السلام کی زوجۂ محترمہ حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنھا بیس (20) مرتبہ حاملہ (Pregnant) ہوئیں اور ہر حمل سے دو بچوں کی پیدائش ہوتی تھی، اس طرح چالیس (40) بچے پیدا ہوئے اور آپ کی وفات کے وقت انسانوں کی تعداد (اولاد در اولاد) ایک لاکھ ہو گئی تھی۔ (تفسیر نعیمی، ج4، ص508)

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تین (3) بیویاں اور آٹھ (8) اولاد تھیں۔ (تفسیر قرطبی، ج2، ص135؛ تفسیر نعیمی، ج1، ص705)

حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارہ (12) بیٹے ہوئے۔ (تفسیر نعیمی، ج1، ص705)

حضرت اسحاق علیہ السلام کے دو (2) بیٹے مشہور ہیں۔ (مستدرک، ج2، ص607)

حضرت یعقوب علیہ السلام کی تین (3) بیویاں اور 12 اولاد تھیں۔ (تاریخ طبری، ج1، ص231)

حضرت یوسف علیہ السلام کی ایک بیوی اور دو بیٹوں کا ذکر ملتا ہے۔ (معالم التنزیل، ج2، ص363)

حضرت لوط علیہ السلام کی ایک (1) بیوی اور دو (2) بیٹیوں کا ذکر ملتا ہے۔ (تفسیر نعیمی، ج12، ص242)

حضرت ہود علیہ السلام کے چار (4) بیٹے تھے۔ (تفسیر در منثور، ج3، ص305)

حضرت داؤد علیہ السلام کے انیس (19) بیٹے تھے جن میں حضرت سلیمان علیہ السلام سب سے چھوٹے ہیں۔ (تذکرۃ الانبیاء، عبدالرزاق بھترالوی، ص300)

حضرت سلیمان علیہ السلام کی 50 سے زیادہ بیویوں کا ذکر ملتا ہے۔ (ایضاً، ص329)

حضرت ایوب علیہ السلام کی اولاد بہت زیادہ تھیں۔ (تاریخ ابن کثیر، ج1، ص308)

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی چار (4) بیویاں اور چھے (6) اولاد تھیں۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی دس (10) بیویاں اور پندرہ (15) اولاد تھیں۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کی آٹھ (8) بیویاں اور سولہ (16) اولاد تھیں۔

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی نو (9) بیویاں اور چھتیس (36) اولاد تھیں۔

حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالی عنہ کی نو (9) بیویاں اور بیس (20) اولاد تھیں۔

حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ کی پندرہ (15) بیویاں اور اٹھائیس (28) اولاد تھیں۔

امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ کی دس سے زائد بیویاں اور سترہ یا اٹھارہ (18/17) اولاد تھیں۔

امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی پانچ (5) بیویاں اور چھے (6) اولاد تھیں۔

حضرت طلحہ بن عبیداللہ کی پندرہ (15) اولاد تھیں۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی چار (4) بیویاں اور چھے (6) اولاد تھیں۔

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ کی گیارہ (11) بیویاں اور چھتیس (36) اولاد تھیں۔

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ کی چھے (6) بیویاں اور سات (7) اولاد تھیں۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی متعدد بیویاں اور سولہ (16) اولاد تھیں۔

حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالی عنہ کی نو (9) بیویاں اور اکتیس (31) اولاد تھیں۔

حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کی سولہ (16) اولاد تھیں۔

حضرت عبیدہ بن الحارث رضی اللہ تعالی عنہ کی متعدد بیویاں اور دس (10) اولاد تھیں۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کی اَسی (80) سے زیادہ اولاد تھیں۔

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ کی چھے (6) بیویاں اور تین (3) اولاد تھیں۔

حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کی تین (3) بیویاں اور دس ‌(10) اولاد تھیں۔

حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کی تین (3) بیویاں اور چار (4) اولاد تھیں۔

حضرت قیس بن عاصم رضی اللہ تعالی عنہ کی بتیس (32) اولاد تھیں۔

حضرت حارث بن نوفل رضی اللہ تعالی عنہ کی چار (4) بیویاں اور چھے (6) اولاد تھیں۔

حضرت حسن مثنی رضی اللہ تعالی عنہ کی پانچ (5) بیویاں تھیں۔

حضرت ابو سفیان بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ کی چار (4) سے زائد بیویاں اور سات (7) اولاد تھیں۔

حضرت معمر رضی اللہ تعالی عنہ کی دو (2) بیویاں تھیں۔

حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ تعالی عنہ کی دو (2) بیویاں تھیں۔

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ کی دس (10) اولاد تھیں۔

حضرت نعیم بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ کی دو (2) بیویاں اور دو (2) اولاد تھیں۔

حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ کی پانچ (5) بیویاں اور چودہ (14) اولاد تھیں۔

حضرت خباب رضی اللہ تعالی عنہ کی سات (7) اولاد تھیں۔

حضرت ابو عمر قدامہ رضی اللہ تعالی عنہ کی تین (3) بیویاں، ایک (1) باندی اور چار (4) اولاد تھیں۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی تین (3) بیویاں، ایک باندی اور سولہ (16) اولاد تھیں۔

حضرت بابا فرید گنج شکر رحمہ اللہ کی چار (4) بیویاں اور آٹھ (8) اولاد تھیں۔

شیخ بہاؤالدین زکریا ملتانی رحمہ اللہ کی دو (2) بیویاں اور دس (10) اولاد تھیں۔

ان کے علاوہ صحابہ کرام میں بیشتر نے متعدد نکاح فرمائے۔ یہ ہم دو ہمارے دو والی فکر پہلے نہ تھی ورنہ نہ جانے کتنے لوگ ابھی پیدا ہی نہیں ہوتے۔

جو لوگ اپنی بیوی اور بچوں کے رزق کے مالک ہیں، انھیں چاہیے کہ یہ نعرہ شوق سے لگائیں لیکن جن کا ماننا ہے کہ اللہ تعالیٰ رزق عطا فرمانے والا ہے، انھیں ایسے نعروں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

عبد مصطفی

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.