اسلام کا نظام دعوت و تبلیغ

اسلام کا نظام دعوت و تبلیغ

مفکر اسلام حضرت علامہ قمر الزماں اعظمی

حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر عہد رسالت مآب سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ تک ا لہ رب العزت نے ہزاروں انبیاء کرام کو معبوث فرمایا۔ جن کا بنیادی مقصدِ بعثت اسلام کی دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دینا تھا۔ جب بھی کسی قوم میں اجتماعی انحراف پیدا ہوا اور پوری کی پوری قوم اللہ کے دین سے منحرف ہوکر باطل پرست ہوگئی۔ اللہ کی عبادت کے بجائے غیر اللہ کی پرشتس کرنے لگی اور معاشرے میں عدل کے بجائے ظلم کی حکمرانی عام ہوگئی تو اللہ رب العزت نے اس قوم کی حالت پر رحم فرمایا اور کسی نبی کو معبوث فرماکر انہیں صراطِ مستقیم پر گامزن ہونے کا موقع عطا فرمایا، انبیاء کرام نے تبلیغ و دعوت کے راستے میں بے پناہ مصائب برداشت کئے، ظلم نے ان کے لئے آتش کدے بھڑکائے، انہیں آروں سے چیرا گیا۔ ابتلا و آزمائش کے دردناک مراحل سے گزرنا پڑا لیکن پوری تاریخِ انبیاء علیھم السلام میں ایک بھی ایسا واقعہ نہیں ملتا کہ انہوں نے مصائب سے گھبراکر یا جان جانے کے خوف سے فریضۂ تبلیغ کی ادائیگی میں کسی سست روی سے کام لیا ہو بلکہ مصائب کی شدت میں انہوں نے اپنے مشن کی تکمیل کے لئے اپنی رفتار بڑھادی۔

سرور ِکائنات ﷺ سے پہلے جتنے بھی انبیاء کرام تشریف لائے وہ کسی مخصوص قوم یا مخصوص زمانے کے لئے آئے ،ان کا زمانۂ دعوت اور دائرۂ تبلیغ محدود تھا۔ مگر خاتم النبینﷺ تمام عالم کے لئے نبی بناکر معبوث کئے گئے اور صبحِ قیامت تک کے لئے ہر دور اور ہر عصر کی رہنمائی اور قیادت کا تاجِ عظمت ان کے مقدس سر پر رکھا گیا۔ ان کا زمانۂ دعوت محدود نہیں تھا۔ ان کی نبوتِ مطلقہ اور سیا دتِ عامہ جملہ بنی نوع ِانسان بلکہ تمام مخلوقات کے لئے ہے۔ قرآن ِعظیم ارشاد فرماتا ہے: وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلاَّ رَحْمَۃَ لِلعٰلَمِیْن ’’ہم نے آپ کو تمام عالم کے لئے رحمت بناکر بھیجا ہے۔‘‘

وما ارسلنک الا کافۃ للناس بشیرا و نذیراً۔ ’’اور ہم نے آپ کو تمام انسانوں کے لئے بشیر و نذیر بناکر معبوث کیا ہے۔‘‘

یَآ اَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُولُ اللّٰہِ اِلَیْکُم جَمِیْعاً ’’اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول بناکر معبوث کیا گیا ہوں۔

اِنَّمَا اَنْتَ مُنْذِرٌ وَلِکُلِّ قَوْمٍ ھاد۔ ’’بلاشبہ آپ ڈرانے والے ہیں اور آپ ہر قوم کے ہادی ہیں۔

حضور سید العالمین ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: اُرْسِلْتُ اِلیٰ الْخَلْقِ کَافّۃ ’’میں تمام مخلوقات کی طرف رسول بناکر بھیجا گیا ہوں۔‘‘

چونکہ انہیں خاتم النبیین بناکر بھیجا گیا تھا اس لئے مشیت نے ان کی دعوت کو ہر طرح کے تحفظات سے نوازا ،دیگر انبیاء کرام کی کتابیں تحریف و تبدیل کا شکار ہوگئیں مگر قرآن کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ رب العزت نے لے لیا۔

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّالَہٗ لَحَافِظُوْن۔ ہم نے قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت فرمانے والے ہیں۔

دوسرے انبیاء کرام کی سیرتیں مرور ِا یام کے ساتھ پردۂ خفا میں چلی گئیں مگر سید الانبیاء ﷺ کی سیرت کا ایک ایک لمحہ ان کی خلوت و جلوت ان کی رفتار و گفتار ان کی زبان اقدس سے نکلے ہوئے الفاظ ِمبارکہ سب کچھ محفوظ کرلئے گئے۔ اس لئے انہیں ہر دور کے لئے نمونۂ کامل، ان کے اقوال و اعمال کو سرچشمۂ قانون بنا دیا گیا۔

حضور سرور ِعالم ﷺ  تمام انسانوں کے لئے رسول بناکر بھیجے گئے ہیں اس لئے ہر فرد بشر ان کا امتی ہے جن لوگوں تک پیغمبرِ اعظما کی دعوت پہنچی اور انہوں نے قبول کرلیا تو انہیں امت ِاجابت اور جن لوگوں تک ان کی دعوت نہیں پہنچی یا قبول نہیں کیا انہیں امت ِدعوت کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

حضورﷺ  کے پردہ فرما جانے کے بعد ان کی امتِ اجابت کی ذمہ داری ہے کہ وہ امت ِدعوت تک رسول اعظمﷺ  کا پیغام پہنچائیں۔ پیغمبرِ اعظم ﷺ  نے اپنی حیاتِ ظاہری ہی میں دعوت کے نظام کو انتہائی منظم فرمادیا تھا اور صرف جزیرۃ العرب ہی نہیں بلکہ روم و ایران کے جملہ مقبوضہ ممالک میں بھی اپنے دُعاَۃ کا تقرر فرمایا۔ آپ نے اس دور کے سلاطین اور حکمرانوں کو اسلام کی دعوت کے لئے اپنے جلیل القدر سفیروں کے ذریعہ خطوط ارسال فرمائے اور قبائل اور ممالک کی عوام کو دعوت دینے کے لئے داعیانِ دین کے قافلے روانہ فرمائے۔

یوں تو تمام صحابۂ کرام جو درسگاہِ نبوت کے اولین تلامذہ تھے علم وفضل، تقویٰ اور اخلاص کے اس مقامِ ِبلند پر فائز تھے جس کا آج تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ مگر داعیانِ دین کے انتخاب میں آپ نے علم و فضل اخلاص و تقویٰ کے علاوہ دعوت کی استعداد انداز ِدعوت، اور اثر اندازی کی صلاحیتوں کو بھی ملحوظ رکھا۔ چنانچہ رسول ِاعظم ا کے فرستادہ داعیانِ دین نے چند برسوں میں پورے جزیرۃ العرب اور رومی اور ایرانی مقبوضات کی تقدیر بدل دی اور وہ حکومتیں جو روم کے مسیحوں اور ایران کے آتش پرستوں کے زیر اِہتمام تھیں۔ اسلام کی نعمت سے بہرہ ور ہوگئیں۔

صحا بۂ کرام کو دین کی دعوت پر مامور فرمانے کے بعد آپ ہر طرح اسلام کے مستقبل سے مطمئن ہوگئے اور ان اولین داعیان ِدین کی مساعی ٔجمیلہ سے مختصر سی مدت میں یمن، بحرین، یمامہ، عمان، عراق اور شام اسلام کی روشنی سے منور ہوگئے۔ تاریخ میں ان درجنوں صحابۂ کرام کے نام اور ان کی خدمات محفوظ ہیں جنہیں داعیٔ اعظم ا نے دین کی دعوت کے لئے مختلف ممالک اور قبائل کی طرف بھیجا تھا۔ آپ کا معمول یہ تھا کہ جب کسی قبیلے کا سردار اسلام قبول کرتا تو اس کو اپنی خدمت میں رکھ کر تربیت فرماتے اور پھر اس کو اس کے قبیلے کو دعوتِ اسلام دینے کے لئے اپنا سفیرِ دعوت مقرر فرماتے۔ چنانچہ

٭ جناب طفیل ابن عمر دوسی کو قبیلہ دوس کے لئے ۔

٭ حضرت ثمامہ ابن اثال کو نجد کے لئے

٭ حضرت عروہ ابن مسعودثقفی کو بنو ثقیف کے لئے

٭ حضرت عار کو ہمدان کے لئے

٭ منقذ ابن حبان کو بحرین کے لئے

٭ ضمام ابن ثعلبہ کو بنو سعد کے لئے ۔ کارِ دعوت پر مقرر فرمایا اور بارگاہِ رسول ا کے ان تربیت یافتہ داعیانِ دین نے اپنے قبیلے کو اسلام کی نعمت سے سرفراز فرمایا۔

آپ نے ان سردار انِ قبائل کے علاوہ مختلف ممالک اور قبائل کے لئے

٭سیدنا امیر المومنین علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ

٭سیدنا مغیرہ ابن شُعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ٭سیدنا محیصہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ٭ سیدنا احنف رضی اللہ تعالیٰ عنہ٭سیدنا عمرو ابن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ٭ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ٭ سیدنا مہاجر ابن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ٭سیدنا زیاد ابن بسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ٭ سیدنا خالد بن مسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ٭ سیدنا عدی ابن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ٭ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ٭ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ٭ سیدنا جریر ابن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ٭کو صفا،

حضر موت، بحرین، قبیلہ طے، ہمدان، بحران، ابنائے فارس، فدک، قبیلۂ بنو سلیم، عمان وغیرہ میں دعوتِ حق کی ذمہ داریاں سپرد فرمائیں ۔ ملاحظہ فرمائیں کہ ان داعیانِ اسلام میں مجاہدین بھی ہیں اور سپہ سالار بھی ، راویانِ حدیث بھی ہیں اور علومِ قرآن کے ماہرین بھی، عصری حالات پر نظر رکھنے والے بھی ہیں اور ماہرینِ قوانینِ عرب و عجم بھی، شعراء بھی ہیں اور زبان داںبھی، قبائل کے سردار بھی، اور سب سے بڑھ کر بابِ مدینۃ العلم سید نا علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ہیں ۔

مندرجہ بالا فہرست سے یہ معلوم ہوا کہ ان کی ذمہ داریاں مختلف تھیں مگر دعوتِ دین اور تبلیغِ اسلام ایک ایسی قدر مشترک تھی جس میں سب برابر کے شریک تھے اور کوئی بھی مستثنی نہیں تھا۔

ان اولین داعیان ِاسلام کی دعوت پر جو لوگ اسلام قبول کرتے وہ وفود کی شکل میں بارگاہِ رسول کی زیارت ،صحبت اور نور نبوت سے فیضیاب ہونے کے لئے حاضر ہوتے اور شرفِ صحابیت سے نوازے جاتے۔

چنانچہ ابنِ اسحٰق کی تاریخ اور امامِ قسطلانی کی شرحِ بخاری میں ۳۴؍ اور سیرتِ شامیہ میں ۱۰۰؍ سے زیادہ وفود کا تذکرہ موجود ہے۔

قرآنِ عظیم میں فریضہ ٔدعوت و تبلیغ کی ادائیگی کے لئے ہر دور میں ایک ایسی جماعت کا وجود ضروری قرار دیا گیا ہے۔ جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتی رہے اور کوئی بھی دور اس مقدس جماعت کے وجود سے خالی نہ ہو۔

چنانچہ اللہ رب العزت جل مجدہ کا ارشاد ہے۔

وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ۔وَاُولٰئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔’’تم میں ایک ایسی جماعت کا ہونا ضروری ہے جس کے افراد خیر کی دعوت دیتے رہیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام انجام دیتے رہیں۔ یقیناً یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

اسلام وہ دین ِمتین ہے جس نے اقوامِ عالم کی تقدیر بدل دی، اصنام پرستوں کو توحید ِخالص کا داعی بنادیا کہ وہ قیامت تک کی آنے والی نسلوں کے لئے معیارِ کامل بن گئے۔ اس عظیم نظامِ زندگی کو دنیا کی ان اقوام تک پہنچانے کے لئے ایک ایسی جماعت کا وجود ناگزیر ہے، تاکہ دنیا میں جب بھی لوگ خدائے واحد کی عبادت سے انحراف اور اس کے قانون سے بغاوت کریں۔ جب انسان انسانوں پر ظلم کرنے لگیں اور مظلوموں کی داد رسی کرنے ولا کوئی نہ ہو۔ جب لوگ نفس پرستی اقتدار پرستی اور اقربا پرستی کو اپنا شعار بنالیں تو داعیان ِدین انہیں اللہ کے عادلانہ نظام کی طرف دعوت دیں۔ یہ مخصوص جماعت ان تمام خوبیوں سے آراستہ ہو جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کی انجام دہی کے لئے ضروری ہیں۔ وہ علم و فضل کے اس مقام پر فائز ہوں جہاں انہیں رسوخ فی العلم حاصل ہو اور حق و باطل میں واضح فرق کرسکیں تا کہ خیر و شر میں التباس نہ ہو اور ان کے ذہن میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا بہت واضح اور روشن تصور ہو وہ راستبازی اور راست گفتاری کا بہترین نمونہ ہوں۔ وہ عبادت و ریاضت کے اعتبار سے بھی ممتاز ہوں۔ ان کے دل محبتِ رسول ا سے معمور اور ان کی سیرت سنت ِرسول ا کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہو۔ ان کا ہر قدم شریعت کے مطابق اٹھے اور کسی صورت میں بھی شریعت سے انحراف نہ کریں۔ خواہ اس کے لئے انہیں کتنی ہی قربانیاںکیوں نہ دینا پڑے۔ وہ دن میں جہدِ مسلسل اور سعیٔ پیہم اور رات میں عبادت و ریاضت با خشوع و خضوع اوراِنابت اِلیٰ اللہ کے آئینہ دار ہوں۔ وہ علم کے اعتبار سے فکرِرازی اور غزالی سے مستفیض ہوں اور روحانی ارتقاء کے منازل طے کرنے کے لئے حضور غوثِ اعظم، داتا گنج بخش اور خواجۂ خواجگاں کے سوزِ دروں اور صفاء ِقلب سے استفادہ کرتے نظر آئیں۔

قرآنِ عظیم نے دعوت و تبلیغ امربالمعروف اور نہی عن المنکر اور ایمان باللہ کی صفات سے متصف ہونے کی وجہ سے پوری امت ِمسلمہ کو خیرِ امت کے لقب سے نوازا ہے۔ اللہ جل مجدہ ارشاد فرماتا ہے:

کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَت لِلنَّاس تَامُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرْ ۔ (پارہ ۴، آیت ۱۰۹)

تم اس لئے خیر امت ہو کہ تمہارا مقصدِ زندگی سب سے اعلیٰ ہے ۔تم تمام اقوامِ عالم میں سب سے بہتر ہو، اس لئے کہ معروف کا حکم دیتے ہو اور منکر سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان کامل رکھتے ہو۔

لفظِ معروف اعتقادات، عبادات اور معاملات کے جملہ محاسن کا احاطہ کرتا ہے اور منکرَ اُن تمام شعبوں میں خبائث اور قبائح کو شامل ہے کوئی بھی خیر معروف سے الگ نہیں اور کوئی بھی شر منکرَ کے دائرے سے باہر نہیں۔

تم اس لئے خیرِ امت ہوکہ کفر کی تاریکیوں میں روشنی کے سفیر ہو اور لوگوں کو ظلمات سے نور کی طرف دعوت دیتے ہو۔ یوں تو تم سے پہلے بھی انبیاء کی امتیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتی تھیں مگر انہیں خیر امت کے لقب سے نوازا نہیں گیا اس لئے کہ جو ہمہ گیری عظمت تمہاری دعوت میں ہے وہ کسی اور امت میں پائی نہیں جاتی ان کا دائرۂ عمل محدود تھا۔ ان کا زمانۂ دعوت صرف دوسرے نبی کی جلوہ گری تک تھا مگر تم کو تمام اقوام عالم کے لئے صبح قیامت تک دعوت کی ذمہ داری دی گئی ہے’ اخرجت للناس ‘کا عموم اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

تمہارے نبی خاتم الانبیاء اور تم خاتم الامم ہو اگر کسی اور امت کو خیر امت کہا جاتا تو نئے نبی کی جلوہ گری کے بعد یہ منصب سلب کر لیا جاتا مگر تم ایک عظیم پیغمبر کی امت ہو کہ ان کے بعد کوئی اور نبی نہیں آئے گا اس لئے خیرِ امت کا تاجِ عظمت ہمیشہ تمہارے سر پر ہوگا۔

ٍ تم اس لئے بھی خیرِ امت ہوکہ مشیت ،اقوام و مِلل کو ان کی مسؤلیات اور ذمہ داریوں کے اعتبار سے ان کے منصب کا تعین کرتی ہے۔ قومِ مسلم صبحِ قیامت تک اقوام و ملل کو حق کی دعوت دینے کے لئے ظاہر کی گئی ہے اس لئے اس کو خیر امت کے لقب سے نوازا گیا ہے مگر یہ قوم اس وقت تک اس منصب کی حقدار ہو گی جب تک وہ اپنی مسئولیات کو بحسن و خوبی انجام دیتی رہے گی۔

قرآن عظیم نے امت مسلمہ کو صرف تبلیغ و دعوت کا پابند نہیں بنایا ہے بلکہ انہیں اسالیب دعوت کی تعلیم بھی دی ہے چنانچہ قرآن عظیم ارشاد فرماتا ہے:

اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْ عِظَۃِ الْحَسْنَۃِ وَجَادِ لْھُمْ بِالتِّی ھِیَ اَحْسَن۔ (پارہ ۱۳، آیت ۱۲۵)

اپنے رب کے راستہ کی طرف حکمت وموعظمت کے ذریعہ دعوت دیجئے اور اگر کبھی مناظرہ اور مجادلہ کی بات آجائے تو بطریق احسن کیجئے۔

یہ قرآن کا اعجاز بیانی ہے اس نے جدال کو بھی حُسن عطا فرمادیا ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ دین کے راستے میں کہیں بھی کوئی ایسا جذباتی مقام نہ آنے پائے جہاں وہ داعیانہ وقار کے منافی کوئی اقدام کرے۔ اس آیت کریمہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایک داعیٔ دین کو تربیت یافتہ ہونا چاہئے ایک غیر تربیت یافتہ اور نا تراشیدہ مُبلِّغ ،دین کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ایک داعی کا اسلوبِ دعوت موثر و دلپذیر اور ناصحانہ ہونا چاہئے معاندانہ انداز تبلیغ، درشت طرز خطاب اور کمزور طرز استدلال مخاطب کو متنفر کرسکتا ہے۔

اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ۔ یعنی کسی دنیاوی اقتدار، مالی منفعت، نسلی، لسانی، وطنی یا جغرافیائی عصبیت کی طرف دعوت نہیں بلکہ رب العالمین جو ساری کائنات کا رب ہے۔ اس کے راستے کی طرف اور حکمت سے مراد ناقابل تردید دلائل و براہین جو انسان کو ایک تذبذب کی تاریکی سے نکال کر یقین کے اجالے میں لے آئیں۔

موعظۂ حسنہ: وہ نصائح جن سے پتھر دل بھی موم ہوجائیں۔ لفظ لفظ سے اخلاص و محبت کا اظہار ہو۔ ہر جملہ شفقت و ملاطفت کا آئینہ دار ہو، اسلام کے داعی کا اندازِ دعوت فلسفیوں کی ُموشگافیوں کی طرح خشک اور صرف دماغ کو مخاطب نہ کرے بلکہ مراد سے قلوب کو متاثر کرنے والا ہو۔

ایک مبلغ اور داعی کو مکارم اخلاق سے آراستہ ہونا چاہئے وہ ہمیشہ خیر خواہی کے جذبے سے دعوت دے، اور کسی انسان کی سب سے بڑی خیر خواہی یہ ہے کہ اس کو کفر کی تاریکیوں سے نکال کر اسلام کی روشنی میں لایا جائے یا بداعمالیوں کے جہنم سے نکال کر اعمال حسنہ کی جنت میں داخل کیا جائے اس لئے محسن انسانیت انے پورے دین کو نصیحت سے تعبیر فرمایا ہے۔اَلدِّیْنُ اَلنَّصِیْحَۃُ۔۔۔ دین تو صرف خیر خواہی ہے۔

ایک داعی کو نرم خو، نرم رفتار اور نرم گفتار اور محاسن اخلاق کا حامل ہونا چاہئے۔

قرآن عظیم پیغمبر اعظم ا کی شان میں بیان فرما رہا ہے۔

فَبِمَارَحْمَۃٍ مِنَ اللّٰہِ لِنتَ لَھُم وَ لَوْکُنْتَ فَظاً غَلِیْظَا الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ۔( القرآن)

آپ اللہ کی رحمت سے نرم ہوگئے ان کے لئے اگر آپ تند مزاج اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ آپ سے دور ہوجاتے(منتشر ہوجاتے۔)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.