أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ‌ فَبِهُدٰٮهُمُ اقۡتَدِهۡ ‌ؕ قُلْ لَّاۤ اَسۡـئَلُكُمۡ عَلَيۡهِ اَجۡرًا‌ ؕ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٰى لِلۡعٰلَمِيۡنَ۞

ترجمہ:

یہ وہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی ہے، سو آپ بھی ان کے طریقہ پر چلیں، آپ کہیے کہ میں اس (تبلیغ اسلام) پر تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا، یہ تو صرف تمام جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ وہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی ہے، سو آپ بھی ان کے طریقہ پر چلیں، آپ کہیے کہ میں اس (تبلیغ اسلام) پر تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا، یہ تو صرف تمام جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔ (الانعام : ٩٠) 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تمام صفات انبیاء کا جامع ہونا : 

اس آیت کا معنی ہے اے رسول مکرم ان نبیوں اور رسولوں نے جو عمل کیا ہے آپ اس کے مطابق عمل کریں اور جس منہاج پر یہ چلتے ہیں ‘ اس منہاج پر چلیں اور ہماری دی ہوئی ہدایت اور توفیق کے مطابق جس طرح انہوں نے زندگی گزاری ہے ‘ آپ اس طرح زندگی گزاریں اور ان تمام نبیوں اور رسولوں کے جس قدر محاسن اور خوبیاں ہیں آپ وہ سب اپنے اندر جمع کرلیں۔ اس آیت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظیم منقبت ہے کہ تمام نبیوں اور رسولوں میں جو خوبیاں اور کمالات الگ الگ اور متفرق طور پر پائے جاتے تھے ‘ وہ سب کمالات آپ کی ذات میں جمع ہوگئے جیسا کہ اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے۔ 

امام مالک بن انس اصبحی متوفی ١٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں اس لیے مبعوث کیا گیا ہوں تاکہ حسن اخلاق کو مکمل کردوں (الموطا رقم الحدیث : ١٦٧٧‘ مشکوۃ ‘ رقم الحدیث : ٥٠٦٧‘ ٥٠٦٦) 

امام ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری متوفی ٤٠٥ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے اس لیے مبعوث کیا گیا ہے کہ میں صالح اخلاق کو مکمل کر دوں۔ (المستدرک ج ٢‘ ص ٦١٣‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ١٠‘ ص ٩٢ٍ ‘ الاستذکار ‘ ج ٢٦‘ رقم الحدیث : ٣٨٩٤٢‘ مسند احمد ‘ ج ٩ رقم الحدیث : ٨٩٣٢‘ شیخ احمد شاکر نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے ‘ مطبوعہ دارالحدیث : قاہرہ ‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ ص ٣٨١‘ طبع قدیم کنز العمال ‘ ج ١١‘ رقم الحدیث : ٣١٩٦٩) 

امام احمد بن عمر عتی کی بزار متوفی ٢٩٢ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے صرف مکارم اخلاق کو پورا کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ 

(مسند البزار ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٧٠‘ المعجم الاوسط ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٦٨٩١‘ علامہ الہیثمی نے کہا امام بزار کی سند صحیح ہے ‘ مجمع الزوائد ‘ ج ٩‘ ص ١٥‘ طبرانی کی روایت میں ایک راوی ضعیف ہے ‘ الدرالمنتشرہ ‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٨) 

امام فخرالدین محمد بن ضیاء الدین عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : 

علماء نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ ہمارے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام انبیاء (علیہم السلام) سے افضل ہیں اور اس کی تقریر یہ ہے کہ صفات کمال اور خصال شرف ان میں متفرق ہیں۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) نعمت پر بہت شکر کرنے والے تھے ‘ اور حضرت ایوب (علیہ السلام) آزمائشوں پر بہت صبر کرنے والے تھے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) صبر اور شکر کے جامع تھے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قوی شریعت کے بانی اور غالب معجزات کے حامل تھے اور حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت الیاس (علیہم السلام) زہد میں راسخ قدم رکھتے تھے۔ حضرت اسماعیل پر صدق غالب تھا اور حضرت یونس اللہ کی بارگاہ میں بہت گڑ گڑا کر دعا کرنے والے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جن انبیاء (علیہم السلام) کا یہاں ذکر فرمایا ہے ‘ ان میں سے ہر ایک پر شرف اور فضیلت کی کوئی نہ کوئی صفت غالب تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم دیا کہ وہ ان تمام انبیاء کی اتباع کریں ‘ گویا کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم دیا کہ عبودیت اور اطاعت کی کل صفات جو ان تمام انبیاء (علیہم السلام) میں متفرق طور پر پائی جاتی ہیں ‘ آپ تنا ان صفات سے متصف ہوجائیں اور خصائل رفیعہ اور شمائل جمیلہ کو اپنی ذات میں جمع کرلیں ‘ اور جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا تو یہ محال ہے کہ آپ ان صفات کمال کے حصول میں کوئی کوتاہی کریں۔ پس ثابت ہوا کہ شرف اور فضیلت کی یہ تمام صفات آپ کی ذات میں جمع ہوگئیں اور جو کمال تمام انبیاء (علیہم السلام) میں متفرق تھے ‘ وہ سب آپ کی ذات مبارکہ میں جمع ہوگئے۔ لہذا یہ کہنا واجب ہے کہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام انبیاء سے افضل ہیں۔ (تفسیر کبیر ‘ ج ٥‘ ص ٥٧‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤١٥ ھ ‘ ج ١٣‘ ص ٧١‘ مطبوعہ مصر) 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ کہئے میں اس (تبلیغ رسالت) پر تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا اس سے مراد یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو انبیاء سابقین (علیہم السلام) کی سیرت پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے اور تمام انبیاء (علیہم السلام) کی سیرت یہ تھی کہ وہ دین کو پہنچانے اور شریعت کی تبلیغ کرنے پر اجر اور معاوضہ کا مطالبہ نہیں کرتے تھے تو آپ نے بھی ان کے طریقہ کی پیروی کی اور فرمایا میں دین کے پہنچانے کے عوض تم سے کسی معاوضہ کا مطالبہ نہیں کرتا اور یہ قرآن تو تمام جہان والوں کے لیے نصیحت ہے ‘ یعنی تمام انسانوں کو اپنی دنیا اور آخرت کی صلاح اور فلاح کے لیے جن امور کی ضرورت ہوتی ہے ‘ وہ سب قرآن مجید میں موجود ہیں اور اس میں یہ دلیل ہے کہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام دنیا کے انسانوں کی طرف مبعوث ہیں ‘ نہ کہ کسی ایک قوم کی طرف۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 90