سحری سے فراغت اورنماز کی مشغولیت میں کتنا فاصلہ

حدیث نمبر :562

روایت ہے حضرت قتادہ سے ۱؎ وہ حضرت انس سے راوی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اورزید ابن ثابت نے سحری کھائی جب سحری سے فارغ ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نمازکی طرف اٹھے اورنماز پڑھ لی ہم نے حضرت انس سے کہا کہ ان بزرگوں کے سحری سے فراغت اورنمازکی مشغولیت میں کتنا فاصلہ تھا فرمایا اس قدر کہ کوئی شخص پچاس آیتیں پڑھ لے۲؎(بخاری)

شرح

۱؎ آپ مشہور تابعین میں سے ہیں،بہترین حافظ ومفسرتھے،مادر زاد نابیناتھے،حافظہ غضب کاپایاتھا،قبیلہ سَدُوس سے تھے،بصرےٰ میں قیام تھے، ۱۱۷ھ؁ میں وفات پائی۔آپ سے خواجہ حسن بصری جیسے بزرگوں نے روایت لیں۔

۲؎ یعنی سحری بالکل آخروقت کھائی اورفجربالکل اول وقت پڑھی۔مرقات نے فرمایا کہ سحری اورنمازفجرمیں صرف اتنا فاصلہ حضور انور کی خصوصیات سے ہے کیونکہ آپ دین میں خطاء سے معصوم تھے حضور کو سحری اورنماز کے اوقات کا یقینی علم تھا۔ہمیں صرف اتنے فاصلہ پرفجرجائزنہیں کیونکہ ممکن ہے کہ ہم وقت کی پہچان میں غلطی کرکے،یاسحری وقت کے بعدکھالیں،یانماز وقت سے پہلے پڑھ لیں۔خیال رہے کہ فجرجلدی پڑھنے کی عملی احادیث ہیں لیکن قولی حدیث ایک بھی نہیں مگر دیرسے فجرپڑھنے کی قولی حدیثیں بہت موجود ہیں،لہذا مذہب حنفی نہایت ہی قوی ہے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.