قدموں میں بیٹھ کر

چھایا ہے کیف دل پر قدموں میں بیٹھ کر

ہے اَوج پر مُقَدّر قدموں میں بیٹھ کر

خوشبوئے مصطفی سے عالم مہک رہا ہے

میں بھی ہوا مُعَطّر قدموں میں بیٹھ کر

تسکین قلب مجھ کو پھر سے ہوئی ہے حاصل

رُودادِ غم سنا کر قدموں میں بیٹھ کر

کیا اب بھی میرے رب کا مجھ پر کرم نہ ہوگا

پھیلے ہیں ہاتھ دَر پر قدموں میں بیٹھ کر

طیبہ میں رحمتوں کی بارش برس رہی ہے

دیکھا ہے پیارا مَنْظر قدموں میں بیٹھ کر

غوث و رضا کے صدقے خوا جہ پیا کے صدقے

افطار ہے مَیَسّر قدموں میں بیٹھ کر

نور نبی سے عالم روشن ہوا ہے شاکرؔ

دل بھی ہوا منور قدموں میں بیٹھ کر

سلطانِ دوجہاں کا تجھ پر کرم ہے شاکرؔ

آنکھیں ہوئی ہیں پھر تر قدموں میں بیٹھ کر