نماز اپنے وقت پر پڑھ لیا کرنا

حدیث نمبر :563

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت تمہاراکیاحال ہوگاجب تم پرایسے حکام مسلط ہوں گے جو نمازوں کو فوت کردیا کریں گے یا ان کے وقتوں سے پیچھے کردیاکریں گے ۱؎ میں نےعرض کیا کہ مجھے آپ کیا حکم دیتے ہیں فرمایا کہ نماز اپنے وقت پر پڑھ لیاکرنااگران کے ساتھ بھی پالو تو پھرپڑھ لینا،کہ وہ تمہارے نفل ہوں گے۲؎ (مسلم)

شرح

۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ اﷲ نے حضورکو علوم غیبیہ بخشے۔دیکھو حضورنے اس جگہ ابوذرغفاری کی درازی عمر کی بھی خبردی اورآیندہ لاپرواہ حکام کے تسلط کی بھی،یعنی اے ابوذر!خلفائے راشدین کے بعدتم زندہ رہو گے اور ایسے بے پرواہ اور ظالم حکام کا زمانہ پاؤ گے کہ تم انہیں نمازبھی صحیح وقت پر نہ پڑھوا سکو گے۔

۲؎ اس جملے سے بہت سےفقہی مسائل معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جماعت کے لالچ میں نمازوقت مستحب سے نہ ہٹائی جائے بلکہ اکیلے پڑھ لی جائے۔دوسرے یہ کہ اگرحاکم صحیح وقت جماعت نہ ہونے دے تو مسجدمیں یا گھرمیں اپنی نمازعلیحدہ پڑھ لے جیساکہ آج حاجیوں کونجدی حکام کی وجہ سے پیش آتا ہے۔تیسرے یہ کہ اگر ظالم حاکم کے سامنے مجبورًا کلمۂ حق نہ کہہ سکے تو گنہگارنہیں۔چوتھے یہ کہ نماز پڑھ چکنے کے بعداگرجماعت ملے تو بہ نیت نفل اس میں شریک ہوجائے مگر یہ حکم صرف ظہروعشاءمیں ہے کیونکہ فجروعصر کے بعدنفل مکروہ ہیں اورمغرب کی تین رکعتیں ہیں۔پانچویں یہ کہ اگرظالم حاکم کے ساتھ نماز نہ پڑھنے میں ایذاءاورتکلیف پہنچ جانے کا اندیشہ ہوتومجبورًا ان کے پیچھے نماز پڑھ لے مگر نماز لوٹالے جیساکہ آجکل اہلِ سنت کو حرمین شریفین میں پیش آتا ہے۔چھٹے یہ کہ نفل والے کی نمازفرض والے کے پیچھے جائزہے۔ساتویں یہ کہ اگر بادشادہ کا مقررکردہ امام بدمذہب ہو اورکوئی سچا مسلمان ان کی جماعت کے وقت وہاں پھنس جائے تومعذوری کی حالت میں یہی کرے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.