أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدۡرِهٖۤ اِذۡ قَالُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنۡ شَىۡءٍ ؕ قُلۡ مَنۡ اَنۡزَلَ الۡـكِتٰبَ الَّذِىۡ جَآءَ بِهٖ مُوۡسٰى نُوۡرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ‌ تَجۡعَلُوۡنَهٗ قَرَاطِيۡسَ تُبۡدُوۡنَهَا وَتُخۡفُوۡنَ كَثِيۡرًا‌ ۚ وَعُلِّمۡتُمۡ مَّا لَمۡ تَعۡلَمُوۡۤا اَنۡتُمۡ وَلَاۤ اٰبَآؤُكُمۡ‌ؕ قُلِ اللّٰهُ‌ۙ ثُمَّ ذَرۡهُمۡ فِىۡ خَوۡضِهِمۡ يَلۡعَبُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جس طرح اس کی قدر کرنے حق تھا ‘ جب انہوں نے کہا اللہ نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا ‘ آپ کہیے پھر اس کتاب کو کس نے نازل کیا جس کو موسیٰ لائے تھے ‘ وہ لوگوں کے لیے نور اور ہدایت تھی ‘ تم نے اس کے الگ الگ کاغذ بنا لیے ‘ تم ان کو ظاہر کرتے ہو اور ان میں سے اکثر حصہ کو چھپالیتے ہو اور تمہیں وہ علم دیا گیا جس کو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا، آپ کہیے اللہ (ہی نے اس کتاب کو نازل کیا ہے) پھر ان کو ان کی کج بحثی میں کھیلنے کے لیے چھوڑ دیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جس طرح اس کی قدر کرنے حق تھا ‘ جب انہوں نے کہا اللہ نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا ‘ آپ کہیے پھر اس کتاب کو کس نے نازل کیا جس کو موسیٰ لائے تھے ‘ وہ لوگوں کے لیے نور اور ہدایت تھی ‘ تم نے اس کے الگ الگ کاغذ بنا لیے ‘ تم ان کو ظاہر کرتے ہو اور ان میں سے اکثر حصہ کو چھپالیتے ہو اور تمہیں وہ علم دیا گیا جس کو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا، آپ کہیے اللہ (ہی نے اس کتاب کو نازل کیا ہے) پھر ان کو ان کی کج بحثی میں کھیلنے کے لیے چھوڑ دیں۔ (الانعام : ٩١) 

مناسبت اور شان نزول : 

قرآن مجید کا موضوع توحید ‘ رسالت اور آخرت کو ثابت کرنا ہے۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیان کردہ دلائل توحید کو نقل فرمایا پھر ان کو مزید مستحکم فرمایا اور اب اللہ تعالیٰ نے رسالت کے اثبات کے لیے دلائل کو ذکر فرمایا۔ 

اس میں مفسرین کا اختلاف ہے کہ یہ آیت یہودیوں کے متعلق نازل ہوئی ہے یا مشرکین کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ یہودیوں کے متعلق نازل ہونے پر یہ قرینہ ہے کہ نبوت اور رسالت کے یہود معتقد تھے ‘ اس لیے اس آیت میں جو معارضہ ذکر کیا گیا ہے کہ اگر کسی بشر پر کوئی چیزنازل نہیں ہوتی تو بتاؤ: موسیٰ پر تورات کیسے نازل ہوئی ؟ یہ معارضہ صرف یہود پر ہی حجت ہوسکتا ہے ‘ مشرکین تو نبوت اور رسالت کے معتقد نہیں تھے۔ تاہم اس کا یہ جواب دیا جاسکتا ہے کہ بعض مشرکین اہل کتاب سے سن کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت کے معتقد تھے ‘ وہ صرف سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت ماننے سے انکار کرتے تھے اور مشرکین کے متعلق اس آیت کے نزول پر یہ قرینہ ہے کہ یہ سورت مکی ہے اور پوری سورت یکبارگی نازل ہوئی ہے اور یہود سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مناظرے مدینہ منورہ میں ہوئے ہیں۔ اس لیے یہ آیت مشرکین ہی سے متعلق ہے ‘ لیکن اس اعتراض کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ یہ ایک آیت مدینہ منورہ میں نازل ہوئی تھی اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کو اس سورت میں رکھوا دیا اور روایات دونوں کے متعلق ہیں۔ 

امام ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ مالک بن صیف نام کا ایک یہودی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بحث کر رہا تھا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں تمہیں اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات کو نازل کیا ہے۔ کیا تم نے تورات میں یہ نہیں پڑھا کہ اللہ تعالیٰ موٹے عالم کو ناپسند کرتا ہے اور وہ موٹا عالم تھا ‘ وہ غضب ناک ہوگیا ‘ اس نے کہا بخدا اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز نہیں کی۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (جامع البیان ‘ جز ٧ ص ٣٤٧‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

اور مشرکین کے متعلق یہ روایت ہے : 

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ مشرکین قریش نے یہ کہا تھا کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز نازل نہیں کی تو اللہ نے اس کے رد میں یہ آیت نازل کی۔ (جامع البیان ‘ جز ٧ ص ٣٤٩‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

اس آیت کا آخری حصہ جس میں یہ مذکور ہے تم نے اس کے الگ کاغذ بنا لیے ‘ تم ان کو ظاہر کرتے ہو اور ان میں سے اکثر حصہ کو چھپالیتے ہو یہ اس روایت کو مسترد کرتا ہے کیونکہ تورات میں تحریف کرنا بہرحال یہودیوں کا کام تھا۔ مشرکین کا کام نہیں تھا ‘ اس لیے صحیح یہی ہے کہ یہ آیت یہود کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ 

تورات میں تحریف کے متعلق امام رازی کا موقف اور بحث ونظر : 

امام فخرالدین محمد بن ضیاء الدین عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : 

اس آیت میں تورات کو نور اور ہدایت فرمایا ہے اور یہاں نور سے مراد نور معنوی ہے اور ہدایت بھی نور معنوی ہے اور ان میں فرق یہ ہے کہ پہلی جگہ نور سے مراد اس کا فی نفسہ ظاہر ہونا ہے اور دوسری جگہ اس سے مراد دوسروں کے لیے مظہر ہونا ہے۔ 

اس کے بعد فرمایا تم نے اس کے الگ الگ کاغذ بنا لیے ‘ تم انکو ظاہر کرتے ہو اور ان میں سے اکثر حصہ کو چھپالیتے ہو۔ 

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ ہر کتاب کو کاغذوں میں محفوظ کیا جاتا ہے تو اگر یہود نے تورات کو غذوں میں محفوظ کرلیا تھا تو ان کی مذمت کس وجہ سے کی جا رہی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان کی مذمت کاغذوں میں محفوظ کرنے کی وجہ سے نہیں ہے ‘ بلکہ اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے کتاب کے دو حصے کردیئے تھے۔ ایک حصہ لوگوں پر ظاہر کرتے تھے اور اس کا اکثر حصہ چھپالیتے تھے۔ 

اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ یہود تورات کو چھپانے پر کیونکر قادر تھے ؟ جبکہ وہ مشرق اور مغرب میں پھیل چکی تھی اور بہت سے لوگوں نے اس کو حفظ کرلیا تھا اور اس پر دلیل یہ ہے کہ اگر اب کوئی شخص قرآن مجید سے کچھ آیتوں کو چھپانا چاہے تو اس پر قادر نہیں ہو سکے گا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ تورات میں تحریف کرنے سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے تورات کی آیات کی من گھڑت اور باطل تفسیر کی تھی اور اگر یہ کہ جائے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق تو تورات میں بہت کم آیات تھیں ‘ اگر آیات کو چھپانے سے مراد ان کا صحیح محمل چھپانا اور ان باطل تاویل کرنا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ کیسے فرمایا ہے کہ تم اس میں سے اکثر حصہ کو چھپالیتے ہو ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہود بعض احکام کی آیات میں بھی باطل تاویل کرتے تھے۔ مثلا رجم کی آیت کی باطل تاویل کرتے تھے۔ (تفسیر کبیر ‘ ج ٥‘ ص ٦٣‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤١٥ ھ ‘ ج ١٣‘ ص ٧٩‘ مطبوعہ مصر) 

یہ امام رازی کی تقریر ہے لیکن اس پر بھی یہ اعتراض ہوتا ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق اور رجم کے متعلق مل کر بھی آیات بہت قلیل ہیں ‘ جبکہ قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ تم اس کا اکثر حصہ چھپالیتے ہو۔ اس لیے صحیح یہی ہے کہ یہودی تورات میں لفظی تحریف بھی کرتے تھے اور معنوی تحریف بھی کرتے تھے اور امام رازی کا اس کو قرآن مجید پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ کسی دور میں بھی تورات کی اشاعت قرآن مجید کی طرح نہیں ہوئی اور نہ اس کے قرآن مجید کی طرح حافظ ہیں۔ اسی لیے قرآن مجید سے کسی آیت کا چھپا لینا ممکن نہیں ہے اور تورات سے کچھ چھپا لینا کچھ دشوار نہ تھا ‘ خصوصا جس زمانہ میں قرآن کریم نازل ہوا یا اس سے پہلے کیونکہ اس وقت نشرواشاعت کے اتنے ذرائع اور وسائل نہ تھے اور یہودیوں کی تعداد اس وقت بھی دنیا میں بہت کم تھی اور وہ شرق وغرب میں پھیلے ہوئے نہ تھے ‘ اس لیے قرآن مجید کے الفاظ کو بلاوجہ ان کے ظاہری اور حقیقی معنی سے ہٹانا اور آیات کے چھپانے کو باطل تاویل پر محمول کرنا ہماری رائے میں درست نہیں ہے۔ ” واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب “۔ 

آیت مذکورہ کا منسوخ نہ ہونا : 

اس کے بعد فرمایا آپ کہئے ” اللہ “ اس کا معنی یہ ہے کہ عقل سلیم یہ شہادت دیتی ہے کہ جو کتاب ہدایت اور نور ہے ‘ اور جس کی تائید میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایسے قوی معجزات لے کر آئے ہوں ‘ اس کو نازل کرنے والا اللہ کے سوا اور کون ہوسکتا ہے ؟ اور یہ اس طرح ہے جیسے کوئی شخص وجود باری پر استدلال کرتے ہوئے کہے وہ کون ہے جو مردہ میں جان ڈالتا ہے ؟ وہ کون ہے جو لاعلمی کے بعد علم پیدا کرتا ہے ؟ وہ کون ہے جس نے آنکھ کے ڈھیلے میں بینائی رکھی ؟ وہ کون ہے جس نے کان کے سوراخ میں سماعت رکھی ؟ پھر وہ کہنے والا خود کہے : اللہ اور اس سے متصور یہ ہے کہ جب کلام یہاں تک پہنچے گا تو ہر صاحب عقل اعتراف کرے گا کہ اس فعل کا فاعل اللہ ہی ہے ‘ اور اخیر میں فرمایا پھر ان کو ان کی کج بحثی میں کھیلنے کے لیے چھوڑ دیں اس کا معنی یہ ہے کہ جب آپ نے ان کے خلاف حجت پوری کردی اور انکے تمام شکوک و شبہات کو زائل کردیا اور ان کو عذاب خداوندی سے ڈراچکے تو آپ اپنی ذمہ داری پوری کرچکے ‘ اس کی نظیر یہ آیت ہے : 

(آیت) ” فان اعرضوا فما ارسلنک علیھم حفیظا ان علیک الا البلاغ “۔ (الشوری : ٤٨) 

ترجمہ : پس اگر وہ اعراض کریں تو ہم نے آپ کو ان کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا ‘ آپ کا کام تو صرف پہنچا دینا ہے۔ 

بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ یہ آیت آیت قتال سے منسوخ ہے۔ یہ قول بعید ہے ‘ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر ان کو ان کی کج بحثی کے لیے چھوڑ دیں یہ ارشاد بطور تہدید ہے اور یہ حصول قتال کے منافی نہیں ہے ‘ لہذا اس آیت کو منسوخ قرار دینا صحیح نہیں ہے۔ 

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ کی قدر ناشناسی : 

اس آیت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اور انہوں نے اللہ کی اس طرح قدر نہ کی جس طرح قدر کرنے کا حق تھا ‘ جب انہوں نے کہا اللہ نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا۔ امام رازی نے فرمایا اس کا معنی یہ ہے کہ یہود نے نبوت اور رسالت کا انکار کیا اور جس نے نبوت اور رسالت کا انکار کیا ‘ اس نے رسولوں کے بھیجنے میں اللہ تعالیٰ کی حکمت پر طعن کیا اور یہ اللہ تعالیٰ کی صفت سے جہالت ہے اور یہی معنی ہے اللہ تعالیٰ کی قدر نہ کرنے کا۔ 

اخفش نے کہا اس آیت کا معنی ہے انہوں نے اللہ کی کما حقہ معرفت حاصل نہیں کی اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اس کا معنی یہ ہے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی کما حقہ تعظیم نہیں کی۔ ہمارا یہ دور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ناقدری اور ان کی تعظیم نہ کرنے کا دور ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض واعظین اولیاء اللہ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بڑھا دیتے ہیں ‘ وہ کہتے ہیں کہ خضر ولی تھے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نبی تھے۔ اور حصول علم کے لیے نبی کو بھی ولی کے پاس جانا پڑتا ہے ‘ حالانکہ تحقیق یہ ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) نبی تھے ‘ جیسا کہ ہم نے شرح صحیح مسلم جلد سادس میں بیان کیا ہے۔ نیز کہتے ہیں کہ کہ حضرت زکریا کو جب بیٹے کی طلب ہوئی تو وہ ایک ولیہ حضرت مریم کے پاس گئے ‘ اور وہاں دعا کی تو انکی دعا قبول ہوئی ‘ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ حضرت زکریا جب اس طرف متوجہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ حضرت مریم کو بےموسمی پھل دے رہا ہے تو ان کا ذہن اس طرف متوجہ ہوا جو بےموسمی پھل دے سکتا ہے ‘ وہ مجھے بڑھاپے میں اولاد بھی دینے پر قادر ہے۔ اور پھر انہوں نے اللہ تعالیٰ سے بیٹے کے لیے دعا کی ‘ اس طرح اولیاء اللہ کی شان میں یہ حدیث بیان کرتے ہیں : 

حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ عزوجل فرماتا ہے جو لوگ میری ذات سے محبت رکھتے ہیں ‘ ان کے لیے نور کے منبر ہوں گے اور ان پر انبیاء اور شہداء بھی رشک کریں گے۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٣٩٧‘ مسند احمد ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٢٢١٤١‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٥٧٧‘ المعجم الکبیر ج ٢٠‘ رقم الحدیث :‘ ١٤٤ حلیۃ الاولیاء ‘ ج ٢‘ ص ١٣١) 

حالانکہ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ انبیاء اور شہداء بھی ان کی تحسین کریں گے ‘ یہ اس بات کی چند مثالیں ہیں کہ آج کل کے واعظین اولیاء اللہ کو نبی اور رسول سے بڑھا دیتے ہیں اب چند مثالیں اس امر کی بیان کرتے ہیں کہ یہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ سے بڑھا دیتے ہیں۔ 

حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں 

امام دارقطنی اور امام ابن شاھین نے اپنی اپنی سندوں سے روایت کیا ہے کہ جنگ احد میں حضرت قتادہ بن نعمان (رض) کی آنکھ نکل کر رخسار پر گرگئی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آنکھ کو لوٹا دیا اور وہ دونوں آنکھوں میں زیادہ تندرست اور صحیح آنکھ تھی۔ (الاصابہ ‘ ج ٣‘ ص ٢٢٥‘ مطوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

اس دور کے واعظین اس حدیث میں یہ نکتہ آفرینی کرتے ہیں کہ خدا کی دی ہوئی آنکھ میں وہ روشنی نہیں تھی جو مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دی ہوئی آنکھ میں تھی (العیاذ باللہ) حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعریف کرنے کے لیے یوں کہا جاسکتا ہے کہ آنکھیں تو دونوں ہی خدا کی دی ہوئی تھیں ‘ لیکن پہلی آنکھ ماں باپ کے واسطے سے ملی تھی اور دوسری آنکھ سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھوں سے ملی تھی۔ اسی طرح بعض کلمہ طیبہ میں اللہ کا نام پہلے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام بعد میں لینے کی یہ توجیہ بیان کرتے ہیں کہ پہلے اللہ کا نام لینے سے زبان پاک ہوجائے گی ‘ پھر اس زبان سے نام محمد لیا جائے۔ حالانکہ اہل علم پر مخفی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کلام پاک قرآن مجید کو کسی ناپاک مرد یا عورت (خواہ جنبی ہو ‘ محتلم ہو یا حائض ونفساء ہو) کا زبان سے پڑھنا ناجائز اور حرام ہے۔ اسی طرح جنبی اور بےوضو کا قرآن مجید کو چھونا بھی حرام ہے اور ادب واحترام کی وجہ سے احادیث کو ان حالتوں میں نہ پڑھنا اور نہ چھونا ایک الگ بات ہے ‘ لیکن اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے اس کی ممانعت نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ زیادہ ادب اور احترام اللہ تعالیٰ کے کلام اور اس کے نام کا ہے ‘ اور کلمہ طیبہ میں اللہ کے نام کو پہلے ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ تقدم کی جتنی بھی وجوہ یہاں ہوسکتی ہیں ‘ تقدم بالذات ہو ‘ تقدم بالشرف ہو یا تقدم بالذکر ہو ‘ ہر وجہ سے اللہ تعالیٰ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر مقدم ہے۔ 

اسی طرح ایک شعر ہے : 

خدا جس کو پکڑے چھرائے محمد 

محمد کا پکڑا چھڑا کوئی نہیں سکتا : 

اول تو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اختیارات کا تقابل کرنا ہی غلط اور باطل ہے۔ پھر یہ کہنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طاقت اور اقتدار اور آپ کا اختیار اللہ کے اختیار اور اقتدار سے زیادہ ہے۔ (معاذ اللہ) خالص کفر اور زندیقی ہے۔ (آیت) ” وما قدروا اللہ حق قدرہ “ ان لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ سے بڑھا کر نہ اسلام کی کوئی خدمت کی ہے ‘ نہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خوش اور راضی کیا ہے اور دلائل کے اعتبار سے بھی یہ مردود ہے۔ اللہ تعالیٰ ابو طالب ‘ ابو لہب اور دیگر کفار اور مشرکین کو دائمی عذاب میں مبتلا کرے گا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی شفاعت نہیں فرمائیں گے اور ان کو دائمی عذاب سے نہیں چھڑائیں گے اور حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم کو دیکھ کر ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیوری چڑھائی اور پیٹھ پھیرلی تو اللہ تعالیٰ نے سورة عبس نازل فرمائی اور آپ کو انکی طرف توجہ نہ کرنے سے منع کیا اور ارشاد فرمایا : 

(آیت) ” واما من جاءک یسعی، وھو یخشی، فانت عنہ تلھی “۔ (عبس : ١٠۔ ٨) 

ترجمہ : اور جو دوڑتا ہوا آپ کے پاس آیا ‘ اور وہ اپنے رب سے ڈر رہا ہے ‘ تو آپ اس سے بےتوجہی کرتے ہیں : 

یاد رکھئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسی تعریف کبھی خوش نہیں ہوں گے بلکہ اس کے برعکس ناراض اور رنجیدہ ہوں گے ‘ جس تعریف میں آپ کا مرتبہ اللہ تعالیٰ سے بڑھانے کا وہم ڈالا جائے گا یا اس کا تصور دیا جائے۔ 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

جبیر بن محمد اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک اعرابی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! لوگ مشقت میں پڑگئے اور بچے ضائع ہوگئے اور مال لوٹ لیے گئے اور مویشی ہلاک ہوگئے ‘ آپ ہمارے لیے بارش کی دعا کیجئے۔ ہم آپ کو اللہ کی بارگارہ میں شفیع بناتے ہیں اور اللہ کو آپ کے حضور شفیع لاتے ہیں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا افسوس ہے ! تم کو پتا نہیں تم کیا کہہ رہے ہو ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بار بار سبحان اللہ ‘ سبحان اللہ فرماتے رہے ‘ حتی کہ آپ کے اصحاب کے چہروں پر خوف کے آثار ظاہر ہوئے ‘ آپ نے پھر فرمایا تم پر افسوس ہے اللہ کو اس کی مخلوق میں سے کسی کے پاس شفیع اور سفارشی نہیں بنایا جاتا ‘ اللہ تعالیٰ کی شان اس سے بہت بلند ہے۔ تم پر افسوس ہے کیا تم کو پتا ہے اللہ کی کیا شان ہے ؟ اس کا عرش تمام آسمانوں پر اس طرح محیط ہے ‘ آپ نے اپنی انگلیوں سے گنبد بنا کر دکھایا اور وہ اس طرح چر چرا رہا ہے جس طرح سواری کے بوجھ سے پالان چرچراتا ہے۔ (سنن ابو داؤد ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث : ٤٧٢٦‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٤ ھ) 

حافظ زکی الدین ابو محمد المنذری المتوفی ٦٥٦ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلالت بیان کرنے کے لیے یہ مثال ذکر فرمائی ہے ‘ تاکہ سننے والے کو اللہ تعالیٰ کی بلند شان ‘ جلالت قدر اور عظیم ذکر کا اندازہ ہو اور کوئی شخص اللہ تعالیٰ کو کسی مخلوق کے پاس سفارشی نہ بنائے ‘ ورنہ اللہ تعالیٰ کسی چیز سے مشابہ نہیں ہے ‘ اور نہ وہ کسی صورت سے مکیف ہے۔ (مختصر سنن ابوداؤد ‘ ج ٧ ص ٩٦‘ مطبوعہ دارالمعرفہ ‘ بیروت) 

ایک اعرابی نے اللہ تعالیٰ کو بنی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سفارشی بنایا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہت رنجید ہوئے ‘ بار بار افسوس کیا : اور سبحان اللہ ‘ سبحان اللہ پڑھا۔ آپ سوچئے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ سے بڑھانے کی نکتہ آفرینی کی گئی تو اس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کتنا افسوس ہوگا ؟ 

اس سے بھی بڑا ظلم یہ ہے کہ آج کل کے واعظین یہ حکایت بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت جنید بغدادی دجلہ پر آئے اور یا اللہ کہتے ہوئے اس پر زمین کی طرح چلنے لگے ‘ بعد میں ایک شخص آیا۔ اس کو بھی دریا کے پار جانا تھا اور کشتی کوئی نہ تھی ‘ اس نے حضرت کو جاتے ہوئے دیکھا تو پوچھا میں کس طرح آؤں ؟ آپ نے فرمایا یا جنید یاجنید کہتا چلا آ۔ اس نے یہی کہا اور دریا پر زمین کی طرح چلنے لگا۔ جب بیچ دریا میں پہنچا تو شیطان نے دل میں وسوسہ ڈالا کہ حضرت خود تو یا اللہ کہیں اور مجھ سے یا جنید کہلواتے ہیں۔ میں بھی یا اللہ کیوں نہ کہوں ؟ اس نے یا اللہ کہا اور ساتھ ہی غوطہ کھایا ‘ پکارا حضرت میں چلا ‘ فرمایا وہی کہہ کہ یاجنید یا جنید ‘ جب کہا دریا سے پار ہوا۔ بعد میں حضرت سے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا ارے نادان ! ابھی تو جنید تک پہنچا نہیں اللہ تک رسائی کی ہوس ہے۔ 

اس حکایت کو پڑھ کر بےاختیار زبان پر یہ آیت آتی ہے۔ (آیت) ” وما قدرواللہ حق قدرہ “ انہوں نے اللہ کی کما حقہ قدر اور تعظیم نہیں کی اس حکایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یا جنید کہنے سے بندہ پار لگتا ہے اور یا اللہ کہنے سے ڈوب جاتا ہے اور اس میں مخلوق کے ذکر کو اللہ کے ذکر سے بڑا درجہ دینا ہے اور اس حکایت میں اللہ کے ذکر کے ارادہ کو شیطان کا وسوسہ قرار دیا ہے اور یہ بہت بڑا ظلم ہے اور اس میں حضرت جنید پر بہتان ہے ‘ اللہ کے نیک اور صالح بندے اپنے متوسلین کو اللہ کے ذکر کی تلقین کرتے ہیں ‘ نہ کہ اپنے ذکر کی۔ 

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی متوفی ١٣٤٠ ھ سے اس حکایت کے متعلق سوال کیا گیا ‘ تو انہوں نے اس کا رد فرمایا۔ 

مسئلہ : از شفا خانہ فرید پور ڈاک خانہ خاص اسٹیشن پتمبر پور مسئولہ عظیم اللہ کمپونڈر ‘ ٧ رمضان ٣٩ ھ) 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ جنید ایک بزرگ کامل تھے ‘ انہوں نے سفر کیا ‘ راستے میں ایک دریا پڑا ‘ اس کو پار کرتے وقت ایک آدمی نے کہ مجھ کو بھی دریا کے پار کر دیجئے۔ تب ان بزرگ کامل نے کہا تم میرے پیچھے یا جنید یا جنید کہتے چلے آؤ اور میں اللہ اللہ کہتا چلوں گا۔ درمیان میں وہ آدمی بھی اللہ اللہ کہنے لگا ‘ تب وہ ڈوبنے لگا ‘ اس وقت ان بزرک نے کہا کہ تو اللہ مت کہو ‘ یا جنید یا جنید کہو ‘ تب اس آدمی نے یا جنید جنید کہا جب وہ نہیں ڈوبا ‘ یہ درست ہے یا نہیں اور بزرگ کامل کے لیے کیا حکم ہے اور آدمی کے لیے کیا حکم ہے ؟ بینوا توجروا “۔ 

الجواب : یہ غلط ہے کہ سفر میں دریا ملا بلکہ دجلہ ہی کے پار جانا تھا ‘ اور یہ بھی زیادہ ہے کہ میں اللہ اللہ کہتا چلوں گا اور یہ محض افتراء ہے کہ انہوں نے فرمایا تو اللہ اللہ مت کہہ یا جنید کہنا ‘ خصوصا حیات دنیاوی میں ‘ خصوصا جبکہ پیش نظر موجود ہیں ‘ اسے کون منع کرسکتا ہے کہ آدمی کا حکم پوچھا جائے اور حضرت سید الطائفہ جنید بغدادی (رح) کے لیے حکم پوچھنا کمال بےادبی و گستاخی ودریدہ دہنی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ (فتاوی رضویہ ‘ ج ٩‘ ص ١٩٧‘ مطبوعہ مکتبہ رضویہ ‘ کراچی) 

اعلیٰ حضرت نے اس حکایت کا جو رد کیا ہے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ (الملفوظ ج ١‘ ص ١١٧‘ مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی ‘ اور ج ١‘ ص ١٢٧‘ مطبوعہ نوری کتب خانہ لاہور) میں اس حکایت کی نسبت جو اعلی حضرت کی طرف کی گئی ہے اور اس کو اعلیٰ حضرت کا ملفوظ قرار دیا گیا ہے ‘ وہ صحیح نہیں ہے۔ اعلی حضرت کے دل میں اللہ تعالیٰ کی جو عظمت اور جلالت ہے ‘ اس سے یہ بہت بعید ہے کہ وہ ایسی حکایت بیان کریں ‘ اس سلسلہ میں یقینا الملفوظ کے مرتب کو سہو ہوا ہے۔ اس پر دلیل فتاوی رضویہ کی مذکور الصدر عبارت ہے : 

(آیت) ” وما قدرواللہ حق قدرہ “۔ (الانعام : ٩١) 

ترجمہ : اور انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق تھا۔ 

اس آیت کی تفسیر میں ہم نے اپنے دور کے واعظین کی چند مثالیں بیان کی ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور معرفت سے بےبہرہ ہیں اور وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اولیاء کرام کی شان میں غلو کرنے کے لیے ان کی قدر ومنزلت کو اللہ تعالیٰ سے بڑھا دیتے ہیں اور ان کو بڑھانے کے لیے اللہ کی شان کو ان سے کم دکھاتے ہیں۔ معاذ اللہ۔ اس تحریر سے ہمارا مقصد صرف اصلاح ہے ‘ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس تحریر کو نفع آور بنائے اور اس عاجز کو سلامتی کے ساتھ اسلام پر قائم رکھے اور عزت اور کرامت کے ساتھ ایمان پر خاتمہ فرمائے اور اپنے فضل سے مغفرت فرمائے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العلمین “۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 91