بت بول اٹھا:

شبِ ولادتِ مصطفی علیہ التحیۃ و ا لثنا کو ظاہر ہو نے والی نشانیوں میں سے ایک نشانی بتوں کا اوندھے منہ گرنا اور ان کا ذلیل و خوار ہونا ہے۔ قریش کا ایک بُت تھا، وہ ہر سال اسی بت کے نزدیک آتے، عید اور جشن مناتے اور اس کے سامنے اعتکاف کرتے۔ ایک رات انہوں نے دیکھا کہ وہ بت اوندھا پڑا ہوا ہے، انہوں نے اٹھا کر اپنی جگہ کھڑا کیا مگر وہ دوبارہ گر پڑا پھر کھڑا کیا سہ بارہ پھر گر پڑا۔ جب انہوں نے اس حال کا مشاہدہ کیا تو وہ بہت غمگین و ملول ہوئے اور اسے اپنی جگہ مضبوط کر کے باندھ دیا۔ اس وقت اس بت کے خول سے یہ آواز سنی، وہ کہہ رہا تھا:

تَرَدّٰی بِمَوْلُوْدٍ اَضَآئَتْ بِنُوْرِہٖ

جَمِیْعُ فُجَاجِ الْاَرْضِ بِالشَّرْقِ وَ الْغَرَبِ

وَ خَرَّتْ لَہُ الْاَوْثَانُ طُرًّا وَّ رَعَدَتْ

قُلُوْبُ مُلُوْکِ الْاَرْضِ جَمْعًا مِّنَ الرُّعْبِ

یعنی مولود کو چادر اڑھائی گئی جس کے نور کی شعاعوں سے زمین کے مشارق و مغارب کی راہیں روشن ہو گئیں اور اس کی حرارت سے تمام بت گر پڑے اور اس کے رعب و دبدبہ سے زمین کے بادشاہوں کے دل دہل گئے۔