ربیع الاول اور دوشنبہ (پیر) کا انتخاب:

اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضور سید عالمﷺ کی ولادت پاک کے لئے ماہِ ربیع الاول اور پیر کے دن کا انتخاب فرماکر یہ واضح فرمادیا کہ دنیا کی کوئی چیز حضور رحمۃ للعالمینﷺ کو کوئی بزرگی نہیں دے سکتی بلکہ دنیا کی ہر چیز رسول اللہﷺ سے منسوب ہونے کے بعد مقدس و بزرگ ہو جاتی ہے۔اسی کو حضرت شیخ عبد الحق محدثِ دہلوی علیہ الرحمہ یوں بیان فرماتے ہیں ۔

حق یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے کسی زمانہ کے ساتھ شرافت و بزرگی حاصل نہیں کی ہے بلکہ زمانہ نے آپ سے شرافت و بزرگی پائی ہے جس طرح کہ دیگر مکاناتِ مقدسہ ہیں۔ مکان کو مکین سے شرافت و بزرگی حاصل ہوتی ہے اور یہی حکمت ہے کہ حضورﷺ کی ولادت مبارکہ کسی ایسے مہینہ میں نہیں ہوئی جو بزرگی و برکت کے ساتھ مشہور ہو جیسے ماہِ محرم، ماہِ رجب، ماہِ رمضان وغیرہ اور یہی حکمت دن کی ہے، کیوں کہ تمام دنوں میں جمعہ کا دن افضل ہے اور اسی دن آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اور اس دن میں ایک ساعت ایسی ہے کہ اس ساعت میں جو دعا مانگی جائے مستجاب ہوگی، لیکن یہ ساعت اس ساعت کو کہاں پہنچ سکتی ہے کہ جس ساعت میں سید المرسلینﷺ نے تولد فرمایا۔

پیر کا روزہ: مدارج النبوۃ میں ہے کہ پیر کے دن روزہ رکھنا اس لحاظ سے کہ اس دن کو حضور اکرمﷺ کی ولادت شریف سے بزرگی و کرامت حاصل ہوئی ہے مستحب ہے۔

حدیث شریف میں ہے کہ حضورﷺ دوشنبہ کو روزہ رکھا کرتے تھے اور جب اس دن روزہ رکھنے کی وجہ دریافت کی گئی تو فرمایا میں اس دن پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر وحی نازل کی گئی۔ (رواہ مسلم)