محلِ کسریٰ لرز اٹھا:

حضور رحمتِ عالم ﷺ  کی ولادت کے وقت ویسے تو بے شماربرکتوں اور نشانیوں کا ظہور ہوالیکن سب سے زیادہ مشہور و روشن اور حیرت و تعجب میں ڈالنے والی بات کسریٰ کے محل کا لرزنا کانپنا اور اس کے چودہ کنگرے کا گر پڑنا ہے اور بعض علما نے چودہ کے عدد سے اس طرف اشارہ ہونا مراد لیا ہے کہ ان کی بادشاہی چودہ آدمیوں تک ہوگی۔ چنانچہ چار سال میں دس لوگوں نے بادشاہی کی اور بقیہ چار نے زمانۂ خلافتِ امیر المومنین سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک یکے بعد دیگرے بادشاہی کی۔

اسی دوران فارس کے سب سے بڑے قاضی جسے وہ ’’حوبداں‘‘ کہتے ہیں اس نے خواب دیکھا کہ قوی و توانا اونٹ اور چست و چالاک عربی گھوڑے دوڑتے آرہے ہیں اور دجلہ کو پار کر کے شہروں میں پھیل گئے ہیں۔مُعَبروں نے اس کی یہ تعبیر دی کہ بلادِ عرب میں کوئی واقعہ رونما ہوگا جس کی وجہ سے ممالک عجم مفتوح و مغلوب ہوں گے۔ کسریٰ نے اس حال کی جستجو میں کچھ لوگوں کو کاہنوں کے پاس اور خصوصاً ’’سطیح‘‘ کے پاس بھیجا جو علم کہانت میں سب سے زیادہ ماہر تھا، چنانچہ کسریٰ کے ایلچی سطیح کے پاس آئے تو وہ موت کے سکرات میں مبتلا تھا، انہوں نے سلام کیا اور کسریٰ کی تحیت پہنچائی، اس سے کوئی جواب نہ سنا گیا۔ چند اشعار پڑھے جن میں کسریٰ کا سوال مضمر(پوشیدہ) تھا اور اس کے حال کا استکشاف (طلب حقیقت )تھا۔ سطیح نے جب ان شعروں کو سنا تو ہنس کر کہنے لگا یہ وقت ہے جب قرآن کی تلاوت ہوگی اور صاحب عصا ظاہر ہوگا یعنی محمد رسول اللہﷺ  مبعوث ہوں گے، وادیٔ سمادہ جاری ہوگا اور دریائے ساوی خشک ہو کر پانی اتر جائے گا، فارس کا آتشکدہ بجھ جائے گا، سطیح کی زندگی کا درخت اس دنیا میں نہ رہے گا۔ سطیح اتنی بات کہہ کر گر پڑا اور مر گیا۔