نورانی ابر:

حضرت علامہ شیخ عبدالحق محدثِ دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مدارج النبوۃ میں فرماتے ہیں :سیدہ آمنہ فرماتی ہیں کہ جب حضور کو لٹایا گیا تو میں نے ایک بہت بڑا نورانی ابر(بادل) دیکھا جس میں گھوڑوں کے ہنہنانے اور بازئوں کے پھڑپھڑانے اور لوگوں کے باتیں کرنے کی آوازیں سنیں یہاں تک کہ اس ابر نے حضور کو ڈھانپ لیا اور میری نظروں سے غائب ہو گئے۔ اس وقت میں نے ایک منادی کو ندا کرتے سنا، وہ کہہ رہا تھا حضور کو زمین کے جملہ گوشوں میں پھرائو اور جن و انس کی روحوں پر گشت کرائو، فرشتوں، پرندوں اور چرندوں کو زیارت کرائو اور ان کو حضرت آدم کے اخلاق، حضرت شیث کی معرفت، حضرت نوح کی شجاعت، حضرت ابراہیم کی خلت، حضرت اسماعیل کی زبان، حضرت اسحاق کی رضا، حضرت صالح کی فصاحت، حضرت لوط کی حکمت، حضرت یعقوب کی بشارت، حضرت موسیٰ کی شدت، حضرت ایوب کا صبر، حضرت یونس کی طاعت، حضرت یوشع کا جہاد، حضرت دائود کا لحن اور آواز، حضرت دانیال کی محبت، حضرت الیاس کا وقار، حضرت یحییٰ کی عصمت اور حضرت عیسیٰ کے زہد کا پیکر بنائو اور تمام نبیوں کے دریائے اخلاق میں غوطہ دو۔ (علیہم الصلٰوۃ والسلام)

حضرت سیدہ آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کے بعد وہ ابر مجھ سے کھل گیا تو میں نے دیکھا کہ سبز ریشمی کپڑے میں حضور خوب لپٹے ہوئے ہیں اور چشمہ کی مانند اس حریر سے پانی ٹپک رہا ہے اور کوئی کہنے والا کہتا ہے ماشاء اللہ ماشاء اللہ حضور کو تمام دنیا پر کس شان سے بھیجا گیا۔ دنیا کی کوئی مخلوق ایسی نہیں ہے جو آپ کی تابع فرمان نہ ہو، سب ہی کو آپ کے قبضۂ قدرت میں دیا گیا ہے۔ پھر جب میں نے آپ کی طرف نظر کی تو میں نے دیکھا کہ گویا آپ چودہویں رات کے چاند کی مانند چمک رہے ہیں اورآپ کے جسم اطہر سے مشک و عنبر کی لپٹیں آرہی ہیں اور تین شخص کھڑے ہیں۔ ایک کے ہاتھ میں چاندی کا آفتابہ ہے، دوسرے کے ہاتھ میں سبز زمرد کا طشت ہے اور تیسرے کے ہاتھ میں سفید حریر ہے۔ اس کے بعد انہوں نے ایک انگشتری نکالی جس سے دیکھنے والوں کی نظریں جھپک گئیں۔ پھر اسے سات مرتبہ دھویا اور اس انگشتری سے آپ کے شانوں کے درمیان مہر کیا اور حریر میں لپیٹ کراٹھا لیا اور کچھ دیر اپنے آغوش میں لے کر میرے سپرد کر دیا۔