کعبہ جھک گیا :

حضرت عبدالمطلب سے منقول ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں شب ولادت کعبہ کے پاس تھا جب آدھی رات ہوئی تو میں نے دیکھا کہ کعبہ مقام ابراہیم کی طرف جھکا اور سجدہ کیا اور اس سے اس طرح تکبیر کی آواز آئی ’’اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ رَبُّ مُحَمَّدِنِ الْمُصْطَفٰی اَلآنَ قَدْ طَہَّرَنِیْ رَبِّیْ مِنْ اَنْجَاسِ الْاَصْنَامِ وَ اَرْجَاسِ الْمُشْرِکِیْنَ‘‘ اللہ بلند و بالا ہے، اللہ بلند و بالا ہے، وہ رب ہے محمد مصطفی کا۔ اب مجھے میرا رب بتوں کی پلیدی اور مشرکوں کی نجاست سے پاک فرمائے گا۔ اور غیب سے آواز آئی ’’رب کعبہ کی قسم! کعبہ کو برگزیدگی ملی۔ خبر دار ہو جائو کعبہ کو ان کا قبلہ، ان کا مسکن ٹھہرایا اور وہ بت جو کعبہ کے ارد گرد نصب تھے ٹکڑے ہو گئے اور سب سے بڑا بت جسے ہُبُل کہتے تھے، منہ کے بل گر پڑا تھا۔ ندا آئی کہ سیدہ آمنہ سے محمد پیدا ہوگئے اور ابر رحمت ان پر اتر آیا ہے۔