🌴🌹 سب صالح سرمایہ ڈوبنے سے بچاؤ ضروری مگر کیونکر ؟ 🌹🌴

١٠٠- حضرت سیدنا عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما سے مروی ارشاد رَسُولَ الله صلى الله عليه و على آله و اصحابه و بارك و سلم ہے :

🌷الذي تَفُوتُهُ صَلاةُ العَصرِ، كَأنَّما وُتِرَ أهلَهُ ومالَهُ🌷

التَّرغِيب والتَّرهِيب مِن سُنَنِ النبيِّ ﷺ

بحوالہ صحیح البخاري (٥٥٢)،و صحیح مسلم (٦٢٦ )

🌴جس کسی کی نماز عصر فوت ہو جائے تو ایسا سمجھ لیں کہ اس کے اہل اور مال ( دونوں ہی ) کم ہو گئے

فقیر خالد محمود آپ کی توجہ چند توضیحی نکات کی طرف مبذول کرانا ضروری سمجھتا ہے

🌻 نماز فوت ہونے کا مطلب ہے اس کے وقت کا نکل جانا ۔

تمام نمازوں میں سے واحد نماز عصر ہے جس کا وقت نکلنے کی دو صورتیں اہل علم نے بتائی ہیں

( 1) سورج زرد ہو جائے اور اس طرح افضل وقت ختم ہو کر مکروہ وقت داخل ہو جائے ۔

(2) سورج غروب ہونے سے سارا وقت ہی ختم ہو جائے ۔

🌻 ” وتر ” ایک اور طاق کو بولا جاتا ہے ۔ یعنی جس کے ساتھ کچھ نہ ہو ۔ جس کا کوئی دوسرا ، دایاں بایاں نہ ہو ۔ ہماری پنجابی میں بھی تن تنہا ، بے اولاد کو ” اوتر، نکھتر ” بولا جاتا ہے

کتب شرح حدیث میں وتر کے بھی دو مطالب ملتے ہیں ۔

(1 ) چھن جانا ، لوٹ لیا جانا ۔

(2) کمی واقع ہو جانا ۔

🌻 عموما دو اندیشے نماز عصر کے فوت ہونے کے زیادہ سبب بنتے ہیں ۔

(1) وقت کم رہ گیا ہے ۔ سورج ڈوبنے کو ہے ۔ جلد سے جلد گھر پہنچا جائے ۔

(2) عصر ہو چکی ۔ یہ مال بچ گیا ہے ۔ اس کی فروختگی ضروری ہے ۔ یا دوسری صورت کہ فلاں شی ابھی تک نہیں ملی ، ملے تو اندھیرا ہونے سے قبل گھر پہنچوں ۔

ارشاد نبوی ہے ‘ یہ نماز سابق امتوں پر بھی فرض کی گئی پر وہ اس کو ضائع کر بیٹھیں ، تم کہیں ایسا نہ کرنا “

اشاید انہی دنیوی اندیشوں کو مقدم اور نماز کو مؤخر کرنا ہی ۔

🌻 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر کی ادائیگی کی فضیلت ذہن نشین کروانے کے لیئے انتہائی اعلی اسلوب پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ ان دونوں کی خاطر نماز عصر چھوڑنے والا یہ یقین کر لے کہ یہ دونوں ہی اس سے چھوٹ گئے ۔ ان کے لیئے خیر و برکت کو اس نے خود اپنے قصد سے کھو دیا اور یوں بھی سمجھا سکتا ہے کہ اس نماز کے فوت ہو جانے کا حزن و ملال اسے اتنا ہی ہو جتنا ان سب کے فوت ہونے سے ہوتا ہے یا جتنا دھیان اس کو یہ ہوتا ہے کہ یہ دونوں چیزیں کہیں فوت نہ ہوں اتنا دھیان ہی اسے اس نماز کے فوت نہ ہونے کا ہو ۔

🌴- ١٠١ . اس سے اگلی حدیث جناب حضرت بُرَيدَة بن الحُصَيبِ -رضي الله عنه- کی روایت ہے کہ

رَسُولَ اللهِ ﷺ نے فرمایا

🌷مَن تَرَكَ صَلاةَ العَصرِ فقَد حَبِطَ عَمَلُهُ🌷

{التَّرغِيب والتَّرهِيب مِن سُنَنِ النبيِّ ﷺ} بحوالہ صحیح البخاري (٥٥٣)، وسنن النسائي (٤٧٤)…

جس نے عصر کی نماز چھوڑ دی تو پکی بات کہ اس کا عمل ( کا نفع ) باطل ہو گیا ۔

🌻 اس حدیث میں ” ترک” کا لفظ ہے سو نماز کو یکسر چھوڑ دینے کا معنی متعین ہو گیا ۔

🌻 *حَبِطَ* کا مطلب ہے ، باطل ہو گیا ، بے فائدہ رہا ، کسی کھاتے اور شمار کا نہیں ۔

🌻 ارشاد کی ابتداء * فقد * سے ہے سو دو کیفیتیں مبرہن ہو گئیں ۔

(1) حبط عمل ترک عصر پر متفرع اور اس کا لازمہ ہے ۔

(2) ” قد ” ( جو کہ معنی کی تاکید کے لیئے بولا جاتا ہے) ، نے بتا دیا کہ اس عمل کا فائدہ، خیر و برکت یقینی طور پر ختم ہو چکے ہیں ۔ اگرچہ بظاہر اس کا ادراک نہ ہو ۔

🌻 ان دونوں حدیثوں سے کچھ مزید اسباق یہ ملتے ہیں ۔

(1) فوائد و منافع کا حصول اپنی جد وجہد پر موقوف نہیں، اسباب و وسائل پر ان کا مدار نہیں بلکہ تعمیل ارشادات خداوندی پر ہے ۔

(2) اطاعت و فرمانبرداری اہل و عیال و اموال میں خیر و برکت لاتی ہے اور معصیت و نافرمانی اسی کو ختم کر دیتی ہے ۔

(3) وقت ایک ہی ہے اس میں نماز کی ادائیگی کو اولیت دی جائے تو وہ ضائع نہیں ہوا ، باعث محرومی نہیں بنا ۔ اور اپنی عقل و دانش کو فوقیت دیتے ہوئے نماز چھوڑ دی جائے ، تو اللہ تبارک و تعالی اس میں سے برکت ، فضل و نفع کو ختم فرما دیتا ہے ۔

(4) انسان محدود و مخلوق ہے ۔ اس کی سبھی صلاحیتوں کی طرح اس کی عقل و دانش اور بصیرت و بصارت بھی بڑی محدود ہیں بلکہ اس کا الٹ بھی ہو سکتا ہے کہ جسے یہ اچھا سمجھے ، وقت سے فائدہ اٹھانا سمجھے، کام کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچانا سمجھے ، حقیقت اس کے برعکس ہو ۔

اے ہمارے اللہ ، اے ہمارے کریم رب عظیم، اپنی ہر نعمت و رحمت کے اس فقیر خالد محمود ، اس کے تمام اہل و عیال و محبین و مخلصین کو اشیاء کی حقائق سے آگاہی بخشے رکھنا ، صرف اور صرف حق ہی حق دکھانا اور باطل ، باطل ہی دکھانا ۔ ہر لھو و لعب و لغو سے کوسوں دور رکھنا ۔ اور یہ سب صرف اور صرف تیری ہی شان ہے ۔

آمین آمین آمین یا رب العالمین