قیامت کا بیان

عقیدہ :میدانِ حشر ملک شام کی زمین پر قائم ہوگا اور زمین بالکل ہموار ہوگی ۔اس دن زمین تانبے کی ہوگی اور آفتاب ایک میل کے فاصلے پر ہوگا ،گرمی کی شدت سے دماغ کھولتے ہونگے ،پسینہ کثرت سے آئے گا ،کسی کے ٹخنوں تک ،کسی کے گھٹنوںتک ،کسی کے گلے تک اور کسی کے منہ تک لگا م کی مثل ہوگا یعنی ہر شخص کے اعمال کے مطابق ہوگا ۔یہ پسینہ نہایت بدبو دار ہوگا ،گرمی کی شدت سے زبانیں سوکھ کر کانٹا ہو جائیں گی ،بعض کی زبانیں منہ سے باہر آئیں گی اور بعض کے دل گلے تک آجائیں گے ،خوف کی شدت سے دل پھٹے جاتے ہونگے ،ہر کوئی بقدر گناہ تکلیف میں ہوگا ،جس نے زکوٰۃ نہ دی ہو گی اس کے مال کو خوب گرم کر کے اس کی کروٹ ،پیشانی اور پیٹھ پر داغ لگائے جائیں گے ۔وہ طویل دن خدا کے فضل سے اسکے بندوں کے لیے ایک فرض نماز سے زیادہ ہلکا اور آسان ہوگا ۔