أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقۡنٰكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّتَرَكۡتُمۡ مَّا خَوَّلۡنٰكُمۡ وَرَآءَ ظُهُوۡرِكُمۡ‌ۚ وَمَا نَرٰى مَعَكُمۡ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِيۡنَ زَعَمۡتُمۡ اَنَّهُمۡ فِيۡكُمۡ شُرَكٰٓؤُا‌ ؕ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَيۡنَكُمۡ وَضَلَّ عَنۡكُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور بیشک تم ہمارے پاس اسی طرح تنہا آئے ہو جس طرح ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ تنہا) پیدا کیا اور جو کچھ ہم نے تمہیں دیا تھا وہسب تم اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہو ‘ اور ہم تمہارے ساتھ ان سفارشیون کو بھی نہیں دیکھ رہے جن کے متعلق تم پر گھمنڈ کرتے تھے کہ وہ تمہارے کاموں میں ہمارے شریک ہیں بیشک تمہارا باہمی تعلق ٹوٹ گیا اور جن پر تم گھمنڈ کرتے تھے وہ تم سے جاتے رہے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک تم ہمارے پاس اسی طرح تنہا آئے ہو جس طرح ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ تنہا) پیدا کیا اور جو کچھ ہم نے تمہیں دیا تھا وہسب تم اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہو ‘ اور ہم تمہارے ساتھ ان سفارشیون کو بھی نہیں دیکھ رہے جن کے متعلق تم پر گھمنڈ کرتے تھے کہ وہ تمہارے کاموں میں ہمارے شریک ہیں بیشک تمہارا باہمی تعلق ٹوٹ گیا اور جن پر تم گھمنڈ کرتے تھے وہ تم سے جاتے رہے۔ (الانعام : ٩٤) 

مال و دولت اور شرک کے پرستاروں کی آخرت میں محرومی : 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ کفار دنیا میں مال جمع کرتے تھے اور اس کی طاقت پر بھروسہ کرتے تھے اور بتوں کی شفاعت اور مدد پر اعتماد کرتے تھے ‘ لیکن قیامت کے دن وہ تنہا آئیں گے ‘ انکے پاس مال وہ گا نہ ان کے ساتھ ان کے خود ساختہ اور باطل معبود ہوں گے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ‘ کہ قیامت کے دن لوگوں کو ننگے پاؤں ‘ ننگے بدن اور غیرمختون حالت میں جمع کیا جائے گا ‘ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! عورتیں اور مرد جمع ہوں گے ‘ کیا وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھیں گے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے عائشہ ! اس دن معاملہ اس سے بہت ہولناک ہوگا کہ لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھیں۔ 

(صحیح البخاری ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٦٥٢٧‘ صحیح مسلم ‘ جنت ‘ ٥٦‘ (٢٨٥٩) ٧٠٦٥‘ سنن النسائی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٠٨٤‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٤٢٧٦‘ سنن کبری للنسائی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٢١١) 

اس آیت سے حسب ذیل سبق حاصل ہوتے ہیں : 

انسان کو دنیا میں اس لیے بھیجا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرے اور اس کے احکام اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت طیبہ کے مطابق زندگی بسر کرے اور اگر اس نے اپنی زندگی شیطان اور نفس کی پیروی میں گزار دی تو آخرت میں وہ بالکل یکہ و تنہا ناکام اور خائب و خاسر ہوگا ‘ جو انسان ساری عمر مال و دولت کے حصول میں سرگرداں رہا اور دنیا کی دلفریبیوں میں منہک اور مشغول رہا اور اس نے نجات اخروی کی کوئی تیاری نہیں کی ‘ وہ شخص قیامت کے دن کف افسوس ملتا ہوا رہ جائے گا۔ جو شخص دنیا میں جھوٹی امیدوں سے وابستہ رہا اور باطل مذاہب کے ساتھ پیوستہ رہا ‘ قیامت کے دن جب اس پر ان جھوٹے خداؤں کا جھوٹ ظاہر ہوگا ‘ اس وقت اس کی آنکھوں کے سامنے سے فریب کا پردہ اتر جاے گا ‘ وہ سلامتی اور سچائی کی راہ پر واپس آنا چاہے گا لیکن اس وقت بہت دیر ہوچکی ہوگی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 94