أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَـرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوۡ قَالَ اُوۡحِىَ اِلَىَّ وَلَمۡ يُوۡحَ اِلَيۡهِ شَىۡءٌ وَّمَنۡ قَالَ سَاُنۡزِلُ مِثۡلَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ‌ؕ وَلَوۡ تَرٰٓى اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ فِىۡ غَمَرٰتِ الۡمَوۡتِ وَالۡمَلٰٓئِكَةُ بَاسِطُوۡۤا اَيۡدِيۡهِمۡ‌ۚ اَخۡرِجُوۡۤا اَنۡفُسَكُمُ‌ؕ اَلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ بِمَا كُنۡتُمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ غَيۡرَ الۡحَـقِّ وَكُنۡتُمۡ عَنۡ اٰيٰتِهٖ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر بہتان لگائے یا کہے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے حالانکہ اس کی طرف بالکل وحی نہیں کی گئی اور جو یہ کہے کہ میں عنقریب ایسی چیز نازل کروں گا جیسی اللہ نے نازل کی ہے، اور (اے مخاطب) کاش تو وہ منظر دیکھے جب یہ ظالم موت کی سختیوں میں مبتلا ہوں گے اور فرشتے ان کی طرف ہاتھ پھیلائے ہوئے ہوں گے (اور کہیں گے) نکالو اپنی جانوں کو آج تمہیں ذلت والے عذاب کی سزا دی جائے گی کیونکہ تم اللہ پر ناحق بہتان تراشتے تھے اور تم اس کی آیتوں (پر ایمان لانے) سے تکبر کرتے تھے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر بہتان لگائے یا کہے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے حالانکہ اس کی طرف بالکل وحی نہیں کی گئی اور جو یہ کہے کہ میں عنقریب ایسی چیز نازل کروں گا جیسی اللہ نے نازل کی ہے، اور (اے مخاطب) کاش تو وہ منظر دیکھے جب یہ ظالم موت کی سختیوں میں مبتلا ہوں گے اور فرشتے ان کی طرف ہاتھ پھیلائے ہوئے ہوں گے (اور کہیں گے) نکالو اپنی جانوں کو آج تمہیں ذلت والے عذاب کی سزا دی جائے گی کیونکہ تم اللہ پر ناحق بہتان تراشتے تھے اور تم اس کی آیتوں (پر ایمان لانے) سے تکبر کرتے تھے۔ (الانعام : ٩٣) 

مناسبت اور شان نزول : 

اس سے پہلی آیت میں قرآن مجید اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفات بیان بیان فرمائی تھیں اور اس ‘ آیت ان لوگوں پر وعید ہے جنہوں نے جھوٹی نبوت کا دعوی کیا۔ 

امام ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ آیت کا پہلا حصہ یعنی اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر بہتان لگائے یا کہے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے ‘ حالانکہ اس کی طرف بالکل وحی نہیں کی گئی ‘ مسیلمہ کے متعلق نازل ہوا ہے ‘ جو بنو عدی بن حنیفہ کے قبیلہ سے تھا۔ اور آیت کا دوسرا حصہ یعنی ” اور جو یہ کہے کہ میں عنقریب ایسی چیز نازل کروں گا جیسی اللہ نے نازل کی ہے ” یہ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کے متعلق نازل ہوا ہے ‘ یہ بنو عامر بن لوی کے قبیلہ سے تھا ‘ یہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے وحی لکھتا تھا۔ اس نے ایک دن ” عزیز حکیم “ کی جگہ ” غفور رحیم “ لکھ دیا اور کہنے لگا یہ دونوں برابر ہیں پھر یہ اسلام سے مرتد ہو کر قریش کے ساتھ جاملا ‘ پھر فتح مکہ کے موقع پر دوبارہ مسلمان ہوگیا۔ (جامع البیان ‘ جز ٧ ص ٣٥٥‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

مسیلمہ اور اسود العنسی کے احوال :

علامہ ابو العباس احمد بن عمر المالکی القرطبی المتوفی ٦٥٦ ھ لکھتے ہیں : 

امام ابن اسحاق نے بیان کیا ہے کہ مسیلمہ کا نام مسیلمہ بن ثمامہ بن کثیر تھا ‘ یہ قبیلہ بنو حنیفہ سے تھا۔ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں دس ہجری میں نبوت کا دعوی کیا ‘ یہ کلمہ پڑھتا تھا ‘’ لا الہ الا اللہ وان محمدا عبدہ ورسولہ “ اس کا زعم تھا کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نبوت میں شریک ہے ‘ بنو حنیفہ بہت جلد اس کے تابع ہوگئے۔ اس نے اپنی قوم کے دو آدمیوں کو اپنا خط دے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیجا ‘ اس میں لکھا تھا ‘ یہ مسیلمہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جانب سے محمد رسول اللہ کی طرف ہے۔ سلام علیک ! میں اس معاملہ میں تمہارا شریک ہوں ‘ سو نصف زمین میری ہے اور نصف تمہاری ہے ‘ لیکن قریش بےانصاف قوم ہے۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس مکتوب کو پڑھا تو آپ نے اس کے قاصدوں سے فرمایا تم کیا کہتے ہو ؟ انہوں نے کہا وہی جو ہمارے صاحب نے کہا ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر یہ بات نہ ہوتی کہ ایلچیوں کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں تم دونوں کو قتل کردیتا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا جواب لکھا ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “۔ محمد رسول اللہ کی جانب سے مسیلمہ کذاب کی طرف ‘ اس پر سلام ہو جو ہدایت کا پیروکار ہے : 

(آیت) ” ان الارض للہ یورثھا من یشآء من عبادہ والعاقبۃ للمتقین “۔ (الاعراف : ١٢٨) 

ترجمہ ؛ بیشک زمین اللہ کی ملکیت ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے اس کا وارث بناتا ہے اور نیک انجام اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے ہے۔ 

جب مسیلمہ نے یہ جواب پڑھا تو وہ مایوس ہوگیا اور بنو حنیفہ نے کہا ہمارا خیال ہے کہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے صاحب کو اپنا شریک بنانے پر تیار نہیں ہیں۔ 

امام ابن اسحاق نے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں مسیلمہ اور صنعاء کے صاحب اسود بن عزہ العنسی اور طلیحہ اور سجاح تمیمیہ نے نبوت کا دعوی کیا تھا ‘ سجاح مسیلمہ کے پاس گئی اور کہنے لگی ‘ تم پر کیا وحی آئی ہے ‘ اس نے کہا مجھ پر یہ وحی آئی ہے : 

” الم ترالی ربک کیف خلق الحبلی اخرج منھا نسمۃ تسعی بین صفاق وحشا “۔ 

ترجمہ ؛ کیا تم نے اپنے رب کی طرف نہیں دیکھا ‘ اس نے کس طرح حاملہ کو پیدا کیا ‘ اس سے ایک روح نکالی جو باریک کھال اور پیٹ کے اندر دوڑتی ہے۔ 

اس نے کہا میں گواہی دیتی ہوں کہ تم نبی ہو۔ مسیلمہ نے کہا تم مجھ سے شادی کرلو ‘ ہم دونوں مل کر عرب کو کھالیں گے۔ اس نے شادی کرلی اور اس کے منادی نے ندا کی ‘ سنو ! ہم بنو حنیفہ کے دین میں داخل ہوگئے ہیں اور بنو حنیفہ کے منادی نے ندا کی ‘ سنو ! ہمارے نبی نے تمہاری نبیہ سے شادی کرلی ہے اور سجاح نے مسیلمہ سے کہا ‘ اپنی قوم سے یہ دو لمبی نمازیں عشاء اور فجر منسوخ کردو ‘ تو مسیلمہ کے منادی نے ان دو نمازوں کے منسوخ کرنے کا اعلان کردیا ‘ اس سے بنو حنیفہ بہت خوش ہوئے۔ 

پھر مسیلمہ اسی حال میں یمامہ چلا گیا ‘ یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وصال ہوگیا ‘ اور تمام اہل یمامہ اسلام سے مرتد ہو کر مسیلمہ کے تابع ہوگئے اور دیگر مرتدین بھی آکر ان سے مل گئے اور انکی شوکت بہت بڑھ گئی۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے اس کی طرف بہت خطوط لکھے ‘ اس کو بہت نصیحتیں کیں اور بہت ڈرایا ‘ بالاخر آپ نے حضرت خالد بن ولید (رض) کی قیادت میں مسلمانوں کا ایک عظیم لشکر بھیجا ‘ جس نے مسیلمہ سے قتال کیا اور انجام کار مسیلمہ حضرت وحشی (رض) کے ہاتھوں مارا گیا۔ (المغھم ‘ علی المسلم ج ٦‘ ص ٤١۔ ٣٩‘ ملخصا مطبوعہ دارابن کثیر ‘ بیروت ‘ ١٤١٧١ ھ) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے ایک رات خواب دیکھا کہ میرے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن رکھ دیئے گئے ہیں میں ان سے گھبرا گیا اور ان کو ناپسند کیا ‘ پھر مجھے ان کو پھونک مارنے کی اجازت دی گئی تو وہ اڑ گئے ‘ میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ میرے بعد دو کذاب نکلیں گے۔ عبید اللہ نے کہا ان میں سے ایک العنسی ہے جس کو فیروز نے یمن میں قتل کیا اور دوسرا مسیلمہ ہے۔ 

(صحیح البخاری : ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٤٣٧٣‘ صحیح مسلم ‘ رویا ‘ ٢٢‘ (٢٢٧٤) ٥٨٢٦‘ سنن الترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٢٩٩‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ١٥“ رقم الحدیث :‘ ٦٦٥٤‘ دلائل النبوۃ للبیہقی ‘ ج ٥‘ ص ٣٣٥‘ مسند احمد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٨٢٥٥٦‘ طبع دارالفکر) 

اس حدیث میں ہے کہ دو کذاب نکلیں گے اس کا معنی ہے میری وفات کے بعد ان کا ظہور اور غلبہ ہوگا ‘ ورنہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات میں موجود تھے اور ان کے متبعین بھی تھے۔ صنعاء اور یمامہ کے لوگ اسلام میں داخل ہوچکے تھے اور اسلام کے معاون اور مددگار تھے ‘ لیکن وہ لوگ مسیلمہ اور العنسی کی سنہری باتوں میں آگئے۔ یہ دونوں شہر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھوں کی طرح تھے ‘ کیونکہ آپ ان سے قوت حاصل کرتے تھے اور سونے کے دو کنگن صاحب یمامہ اور صاحب صنعاء تھے ‘ اور ان کی چکنی چپڑی باتوں کو سونے کی ملمع کاری سے تشبیہ دی ہے اور آپ نے جو ان کو پھونک مار کر اڑایا ‘ اس میں یہ اشارہ ہے کہ یہ آپ کی امت کے ہاتھوں ہلاک ہوں گے۔ 

امام ابن اسحاق نے کہا ہے کہ صاحب صنعاء اسود بن کعب ہے ‘ اس کا لقب ذو خمار ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ایک دن یہ جا رہا تھا اور سامنے سے ایک گدھا آرہا تھا ‘ وہ لڑکھڑایا اور منہ کے بل گرگیا تو اس نے کہا اس گدھے مجھے سجدہ کیا ہے۔ پھر یہ اسلام سے مرتد ہوگیا اور اس نے نبوت کا دعوی کیا ‘ جاہل لوگ اس کے پیروکار ہوگئے اور یہ صنعاء پر قابض ہوگیا اور اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عامل مہاجربن اسد مخزومی کو صنعاء سے نکال دیا۔ فیروز دیلمی اور قیس بن مکثوح نے اس کو قتل کردیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس کا سر لے کر آئے اور بعض مورخین نے کہا ہے کہ یہ واقعہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی خلافت میں ہوا۔ اور میرے نزدیک یہی صحیح ہے۔ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ میرے بعد نکلیں گے۔ یعنی ان کا ظہور اور غلبہ میرے بعد ہوگا۔ (المغھم ‘ ج ٦‘ ص ٤٥۔ ٤٤‘ ملخصا مطبوعہ دارابن کثیر ‘ بیروت ‘ ١٤١٧١ ھ) 

معرفت کے جھوٹے دعوی داروں کا رد اور ابطال : 

علامہ قرطبی مالکی نے لکھا ہے کہ نبوت کے جھوٹے دعوی داروں کی سلک میں وہ لوگ منسلک ہیں جو فقہ ‘ حدیث اور علوم دینیہ کے حصول سے اعراض کرتے ہیں ‘ اور کہتے ہیں کہ میرے دل میں یہ بات واقع ہوئی ہے یا میرے دل نے یہ کہا ہے اور ان کا یہ زعم ہوتا ہے کہ چونکہ ان کا دل گناہوں کی کدورتوں اور ظلمتوں سے پاک اور صاف ہے اور وہ غیر اللہ کے اختلاط سے مامون ہیں ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ ان کے دل پر علوم اور معرفت کی تجلیات نازل فرماتا ہے اور وہ حقائق ربانیہ اور اسرار کائنات کے واقف ہیں ‘ اس وجہ سے وہ قواعد شرع سے مستغنی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ شرعی احکام عام لوگوں کے لیے ہیں اور خواص اولیاء اللہ ان سے مستغنی ہیں اور وہ حضرت اور خضر (علیہما السلام) کے واقعہ سے استدلال کرتے ہیں اور اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں۔ 

حضرت وابصہ بن معبد الاسدی (رض) بیان کرتے ہیں ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وابصہ سے فرمایا تم نیکی اور گناہ کے متعلق آئے ہو ؟ انہوں نے کہا جی ! آپ نے ان کی انگلیوں کو اکٹھا کر کے ان کے سینہ پر مارا اور تین بار فرمایا اے وابصہ ! اپنے نفس سے فتوی لو ‘ اپنے دل سے فتوی لو ‘ نیکی وہ ہے جس پر تمہارا نفس مطمئن ہو ‘ جس پر تمہارا دل مطمئن اور گناہ وہ ہے جس سے تمہارے ضمیر میں خلش ہو اور تمہارے سینہ میں کھنک ہو ‘ خواہ لوگ تمہیں فتوی دیتے ہیں۔ (سنن دارمی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث : ٢٥٣٣‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ) 

حضرت ابو ثعلبہ خشنی (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے بتایئے ‘ کیا چیز میرے لیے حلال ہے اور کیا چیز حرام ہے ؟ انہوں نے کہا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر رونق افروز ہوئے اور نظر جھکائی۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نیکی وہ ہے جس پر ضمیر پرسکون ہو اور دل مطمئن ہو اور گناہ وہ ہے جس پر ضمیر میں خلش ہو اور دل مطمئن نہ ہو خواہ تمہیں مفتی فتوے دیتے رہیں۔ (مسند احمد ج ٦‘ رقم الحدیث : ١٧٧٥٧‘ طبع دارالفکر ‘ مسند احمد ج ٤‘ ص ١٩٤‘ طبع قدیم) 

ان احادیث کا محمل یہ ہے کہ جس پیش آمدہ مسئلہ میں قرآن مجید اور حدیث شریف کی صریح ہدایت نہ ہو اور نہ اس کے متعلق اجماعی حکم موجود ہو اور اس میں حلال اور حرام مشتبہ ہو ‘ اس میں انسان اپنے ضمیر کے فیصلہ پر عمل کرے۔ مثلا روزے میں انجکشن لگوانے کے متعلق ہمارے دور کے اکثر مفتی کہتے ہیں کہ اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا ‘ لیکن ایک سلیم الفطرت انسان کا ضمیر یہ کہتا ہے کہ جب منہ سے دوا کھانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور منہ سے کھائی ہوئی دوا نظام ہضم کے مراحل طے کرنے کے بعد خون میں مل جاتی ہے اور اسی وقت وہ دوا موثر ہوتی ہے ‘ تو اگر وہ دوا انجکشن کے ذریعہ براہ راست خون میں پہنچا دی جائے تو بطریق اولی روزہ ٹوٹ جانا چاہیے۔ ان احادیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ قرآن مجید ‘ احادیث اور ائمہ مجتہدین سے بےنیاز ہو کر انسان اپنے بےلگام دل کے فیصلوں پر عمل کرے ‘ جیسا کہ ان بناوٹی پیروں اور معرفت کے جھوٹے دعوی داروں نے سمجھ رکھا ہے۔ علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ ان لوگوں کے زندیق ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے ‘ اسلامی حکومت ہو تو ان کو قتل کردیا جائے۔ ان سے توبہ طلب کی جائے نہ ان سے بحث کی جائے ‘ کیونکہ ان کے اقوال سے احکام شرعیہ کا منہدم ہونا اور ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد نبوت کا اثبات لازم آتا ہے۔ الجامع لاحکام القرآن جز ٧ ص ٣٧‘ ٣٦ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت مختصرا وموضحا) 

حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کے احوال : 

اس آیت کے دوسرے حصہ میں فرمایا ہے اور جو یہ کہے کہ میں عنقریب ایسی چیز نازل کروں گا جیسی اللہ نے نازل کی ہے مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کے متعلق نازل ہوئی ہے ‘ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے وحی لکھتا تھا ‘ یہ مرتد ہو کر مشرکین سے جا ملا تھا۔ مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی۔ (آیت) ” ولقد خلقنا الانسان من سلالۃ من طین۔۔۔۔ ثم انشانہ خلقا اخر “ (المومنون : ١٤۔ ١٢) تو عبداللہ بن سعد کو انسان کی خلقت پر بہت تعجب ہوا اور اس نے بےساختہ کہا (آیت) ” تبارک اللہ احسن الخالقین “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھ پر اسی طرح یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ اس وقت عبداللہ بن سعد کو اپنے ایمان میں شک پڑگیا اور اس نے کہا اگر (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صادق ہیں تو مجھ پر بھی ایسی ہی وحی کی گئی ہے ‘ جیسی ان پر وحی کی گئی ہے پھر وہ اسلام سے مرتد ہو کر مشرکین سے جلا ملا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اس کی مذمت میں نازل کی اور جو یہ کہے کہ میں عنقریب ایسی چیز نازل کروں گا جیسی اللہ نے نازل کی ہے۔ 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے وحی لکھتے تھے انکو شیطان نے لغزش دی ‘ وہ کفار کے ساتھ جا ملے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے دن ان کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ حضرت عثمان (رض) نے انکے لیے پناہ طلب کی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو پناہ دے دی۔ 

(سنن ابو داؤد ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٤٣٥٨‘ سنن النسائی ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٤٠٨٠) 

سعد بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن عبداللہ بن سعد بن ابی سرح حضرت عثمان (رض) کے پاس چھپ گئے ‘ پھر حضرت عثمان نے ان کو لا کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کھڑا کردیا اور کہا یارسول اللہ ! عبداللہ کو بیعت کرلیجئے۔ آپ نے سراقدس اوپر اٹھایا اور تین بار اس کی طرف دیکھا اور ہر بار انکار کردیا ‘ پھر تین بار انکار کے بعد بیعت کرلیا ‘ پھر اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کیا تم میں کوئی سمجھدار آدمی نہیں تھا کہ جب اس نے دیکھا کہ میں اس کو بیعت کرنے سے انکار کر رہا ہوں تو وہ اس کو قتل کردیتا ‘ صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ! ہم نہیں جان سکے کہ آپ کے دل میں کیا ہے ؟ آپ نے آنکھوں سے ہماری طرف اشارہ کیوں نہ کردیا ؟ آپ نے فرمایا نبی کے لیے یہ جائز نہیں کہ اس کی آنکھ خیانت کرنے والی ہو۔ (سنن ابوداؤد ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٤٣٥٩‘ سنن النسائی ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٤٠٧٨) 

امام ابو عبدالرحمن احمد بن شعیب نسائی متوفی ٣٠٣ ھ نے اس کو زیادہ تفصیل سے روایت کیا ہے۔ 

سعد بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چار مردوں اور دو عورتوں کے سوا سب کو امان دے دی۔ وہ چار مرد یہ تھے۔ عکرمہ بن ابی جہل ‘ عبداللہ بن خطل ‘ مقیس بن صبابہ اور عبداللہ بن سعد بن ابی سرح۔ آپ نے فرمایا اگر یہ لوگ کعبہ کے پردوں سے بھی لٹکے ہوئے ہوں تو ان کو قتل کردینا۔ عبداللہ بن خطل کعبہ کے پردوں میں چھپا ہوا پکڑا گیا۔ حضرت سعد بن حریث اور حضرت عمار بن یاسر نے اس کو پکڑا اور حضرت سعد (رض) نے حضرت عمار پر سبقت کی۔ وہ دو مردوں سے زیادہ جوان تھے انہوں نے اس کو قتل کردیا ‘ اور مقیس بن صبابہ کو لوگوں نے بازار میں پکڑ کر قتل کردیا اور عکرمہ سمندر میں ایک کشتی پر سوار ہوگئے۔ اس کشتی کو تیز ہواؤں نے آلیا۔ کشتی والوں نے کہا خلوص کے ساتھ اللہ سے دعا کرو کیونکہ تمہارے معبود یہاں پر کسی کام نہیں آسکتے۔ عکرمہ نے دل میں کہا بخدا اگر اس سمندر میں میری نجات صرف اخلاص سے ہوسکتی ہے تو خشکی میں بھی صرف اللہ کے ساتھ اخلاص ہی کام آسکتا ہے۔ پھر انہوں نے کہا اے اللہ ! میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ اگر تو نے مجھے اس گرداب سے بچا لیا تو میں سیدھا (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤں گا اور جا کر ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دوں گا اور میں ان کو ضرور معاف کرنے والا اور کریم پاؤں گا ‘ پھر وہ آپ کے پاس گئے اور مسلمان ہوگئے۔ اور رہے عبداللہ بن سعد بن ابی سرح تو وہ حضرت عثمان بن عفان (رض) کے پاس چھپ گئے ‘ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو بیعت کے لیے بلایا تو حضرت عثمان (رض) نے ان کو لے جا کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھڑا کردیا اور کہا یا رسول اللہ ! عبداللہ کو بیعت کو بیعت کر لیجے۔ آپ نے تین بار اس کی طرف دیکھا اور ہر بار انکار کیا ‘ پھر تین بار انکار کے بعد آپ نے بیعت کرلیا۔ پھر آپ نے اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کیا تم میں اتنا سمجھ دار شخص کوئی نہیں تھا کہ جب اس نے دیکھا کہ میں اس کو بیعت کرنے سے ہاتھ کھینچ رہا ہوں تو وہ اس کو قتل کردیتا ‘ انہوں نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں کیا پتا تھا کہ آپ کے دل میں کیا ہے ؟ آپ نے ہماری طرف آنکھوں سے اشارہ کیوں نہ کردیا ؟ آپ نے فرمایا نبی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اس کی آنکھ خیانت کرنے والی ہو۔ 

(سنن النسائی ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٤٠٧٨‘ سنن ابوداؤد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦٨٣‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٤٣٥٩) 

امام ابو عمر یوسف بن عبداللہ بن محمد بن عبدالبر مالکی اندلسی متوفی ٤٦٣ ھ لکھتے ہیں : 

عبداللہ بن سعد بن ابی سرح فتح مکہ کے ایام میں دوبارہ مسلمان ہوئے اور انہوں نے اسلام پر بہت اچھی طرح عمل کیا اور اس کے بعد ان سے کوئی ناپسندیدہ بات صادر نہیں ہوئی ‘ وہ قریش کے معزز دانش مند سرداروں میں سے ایک تھے ‘ پھر حضرت عثمان غنی (رض) نے ٢٥ ھ میں انہیں مصر کا گورنر بنادیا ‘ ٢٧ ھ میں انہوں نے افریقیہ کو فتح کیا۔ مصر کی فتح کے موقع پر حضرت عمرو بن العاص صاحب میمنہ تھے ‘ مصر کی تمام جنگوں میں حضرت عمرو بن العاص ہی والی تھے ‘ جب حضرت عثمان (رض) عنہنے ان کو معزول کر کے حضرت عبداللہ بن سعد (رض) کو ان کی جگہ مقرر کیا تو حضرت عمرو بن العاص حضرت عثمان (رض) پر نکتہ چینی کرنے لگے اور انکی خلافت پر تنقید کرنے لگے ‘ حضرت عبداللہ بن سعد حضرت عثمان (رض) کی شہادت تک فلسطین میں رہے۔ انہوں نے حضرت علی اور حضرت معاویہ (رض) دونوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی ‘ حضرت معاویہ (رض) کی خلافت منعقد ہونے سے پہلے ان کی وفات ہوگئی۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ افریقیہ میں فوت ہوئے اور صحیح یہ ہے کہ ٣٦ ھ یا ٣٧ ھ میں عسقلان میں فوت ہوئے۔ 

(الاستیعاب ‘ ج ٢‘ ص ٣٧٨۔ ٣٧٦‘ علی ھامش الاصابہ ‘ مختصر تاریخ دمشق ‘ ج ١٢‘ ص ٢٣١۔ ٢٢٧‘ ملخصا) 

کافر کے جسم سے روح نکالنے کی کیفیت : 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور (اے مخاطب ! ) کاش تو وہ منظر دیکھے جب یہ ظالم موت کی سختیوں میں مبتلا ہوں گے اور فرشتے ان کی طرف ہاتھ پھیلائے ہوئے ہوں گے اور کہیں گے ‘ نکالو اپنی جانوں کو آج تمہیں ذلت والے عذاب کی سزا دی جائے گی ‘ کیونکہ تم اللہ پر ناحق بہتان تراشتے تھے اور تم اس کی آیتوں (پر ایمان لانے) سے تکبر کرتے تھے۔ (الانعام : ٩٣) 

اس جگہ یہ سوال ہوتا ہے کہ کافروں میں بلکہ کسی بھی انسان میں یہ قدرت نہیں ہے کہ وہ اپنے بدن سے اپنی جان نکال سکے ‘ پھر ان کو یہ حکم دینے کا کیا فائدہ ہے کہ ” نکالو اپنی جانوں کو “ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ امر مکلف کرنے کے لیے نہیں ہے ‘ بلکہ ان کو عاجز کرنے اور ان کو رسوا کرنے کے لیے ہے ‘ موت کے وقت کفار بہت سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے اور جس طرح کوئی کانٹے دار شاخ کیچڑ اور گارے میں پھنسی ہوئی ہو تو اس کو کھینچ کر بڑی سختی سے نکالا جاتا ہے ‘ اسی طرح ان کی روح ان کے بدن سے عذاب اور سختی کے ساتھ نکالی جائے گی ‘ اس وقت ان سے فرشتے کہیں گے کہ اگر تم آسانی کے ساتھ روح کو اپنے بدن سے نکال سکتے ہو تو نکال لو۔ کافر مرنے کے بعد دو بار اٹھنے اور اللہ سے ملاقات کے منکر تھے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ ان کو ذلت والے عذاب میں مبتلا کرکے ان کی روحوں کو ان کے جسموں سے نکلواتا ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبادہ بن الصامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو اللہ کی ملاقات سے محبت رکھے ‘ اللہ بھی اس کی ملاقات سے محبت رکھتا ہے اور جو اللہ کی ملاقات کو ناپسند کرے ‘ اللہ بھی اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ 

(صحیح البخاری ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٦٥٠٧‘ صحیح مسلم ‘ الدعوات ‘ ١٤‘ (٢٦٨٢) ٦٦٩٤‘ سنن الترمذی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ١٠٦٨‘ سنن النسائی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ١٨٣٧)

حافظ ابن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ نے لکھا ہے کہ جب کافر کی موت کا وقت آتا ہے تو فرشتے اس کو عذاب اور سزا اور گلنے میں دالے جانے والے طوقوں اور زنجیروں ‘ دوزخ ‘ گرم پانی اور اللہ تعالیٰ کے غضب کی بشارت دیتے ہیں تو اس کی روح اس کے جسم میں منتشر ہوجاتی ہے اور جسم سے نکلنے سے انکار کرتی ہے۔ تب فرشتے اس کے چہرے اور دبر پر مارتے ہیں اور کہتے ہیں نکالو اپنی جانوں کو آج تمہیں ذلت والے عذاب کی سزا دی جائے گی ‘ کیونکہ تم اللہ پر ناحق بہتان تراشتے تھے۔ 

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کافر بندے پر موت وارد کرتا ہے تو اس کے پاس دو فرشتے بھیجتا ہے اور اس کے پاس ایک ٹاٹ کا ٹکڑا بھیجتا ہے۔ جو ہر بدبو دار چیز سے زیادہ بدبودار اور ہر سخت چیز سے زیادہ سخت ہوتا ہے ‘ فرشتے اس سے کہتے ہیں ‘ اے خبیث روح ! جہنم کی طرف نکل اور درد ناک عذاب کی طرف ‘ اور تیرا رب تجھ پر ناراض ہے ‘ باہر نکل تو نے بہت برے اعمال بھیجے ہیں ‘ وہ روح ایسے بدبودار مردہ کی طرح نکلے گی کہ اگر تم میں سے کوئی شخص دیکھ لے تو اپنی ناک بند کرلے اور آسمان کے اردگرد والے فرشتے کہیں گے ‘ سبحان اللہ ! زمین سے ایک مردہ اور خبیث روح آئی ہے ‘ اس کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔ پھر اس کے جسم کو زمین پر پھینکنے کا حکم دیا جائے گا اور اس کی قبر میں تنگی کی جائے گی اور اس کو اونٹ کی گردن جتنے موٹے سانپوں سے بھر دیا جائے گا ‘ وہ اس کا گوشت کھالیں گے اور اس کی ہڈیوں میں سے بھی کچھ نہیں چھوڑیں گے ‘ پھر اس کے پاس بہرے اور اندھے فرشتے بھیجیں جائیں گے ‘ ان کے پاس لوہے کے ہتھوڑے ہوں گے ‘ وہ کچھ دیکھیں گے نہیں ‘ تاکہ انہیں رحم آئے اور کوئی آواز نہیں سنیں گے ‘ تاکہ انہیں اس پر ترس آئے۔ وہ اس کو بری طرح ماریں گے ‘ اور اس کے لیے دوزخ کی ایک کھڑکی کھول دی جائے گی جس سے وہ صبح وشام کو دوزخ میں اپنا ٹھکانا دیکھے گا ‘ اور وہ اللہ سے یہ دعا کرے گا کہ وہ اس کو اسی جگہ رکھے اور دوزخ میں نہ بھیجے۔ 

حافظ الہیثمی المتوفی ٨٠٧ ھ نے کہا کہ یہ حدیث المعجم الکبیر میں ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد ج ٢‘ ص ٣٢٩ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 93