احمد رضا نے فیض کا دریا بہا دیا

حُبِّ نبی سے دل کو مدینہ بنا دیا

خدمت نبی کے دین کی کچھ اس طرح سے کی

بِدعات و مُنکَرات کا قِلعہ گرا دیا

عظمت بٹھا دی آپ نے آقا کی، قلب میں

بدلے میں رب نے آپ کو اعلیٰ بنا دیا

ناموٗسِ مصطفی کی حفاظت کے واسطے

میرے رضا نے اپنا سبھی کچھ لٹا دیا

جانِ مراد کانِ تمنّا حضور ہیں

اپنا عقیدہ آپ نے کامل بنا دیا

’’اَلدَّوْلَۃُ الْمَکِّیَّہ‘‘ ہے برہانِ علم غیب

علم نبی کا آپ نے سکہ بٹھا دیا

شاکرؔ تِرا احسان نہ بھولے گا حشر تک

عشقِ نبی میں دل کو تڑپنا سکھا دیا