عہد طفلی: ۔

آپ کابچپن نہایت ناز ونعم میں گذرا ۔فطری طور پر ذہین تھے اور حافظہ نہایت قوی وقابل رشک پایا تھا۔ کبھی بچوں کے ساتھ نہ کھیلتے ۔محلہ کے بچے کبھی کھیلتے ہوئے گھر آجاتے تو آپ انکے کھیل میں کبھی شریک نہ ہوتے بلکہ انکے کھیل کو دیکھا کرتے ۔طہارت نفس ،اتباع سنت ،پاکیزہ اخلاق اور حسن سیرت جیسے اوصاف آپکی ذات میں بچپن ہی سے ودیعت تھے ۔

آپکی زبان کھلی تو صاف تھی ،عام طور پر بچوں کی طرح کج مج نہ تھی ،غلط الفاظ آپکی زبان پر کبھی نہ آئے اور نہ کسی نے سنے ۔

امام احمد رضاقدس سرہ نے خود فرمایا : میں اپنی مسجد کے سامنے کھڑاتھا ،اس وقت میری عمر ساڑھے تین سال ہوگی ،ایک صاحب اہل عرب کے لباس میں ملبوس جلوہ فرماہوئے ،یہ معلوم ہوتا تھا کہ عربی ہیں ،انہوں نے عربی زبان میں مجھ سے گفتگو بھی فرمائی ،میں نے انکی زبان میں ان سے گفتگوکی ،میں نے ان بزرگ ہستی کو پھر کبھی نہ دیکھا ۔(حیات اعلیٰ حضرت)

ایک مرتبہ طفولیت کے زمانہ میں ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی ، انہوں نے اعلی حضرت قدس سرہ کو سر سے پائوں تک دیکھا اور کئی باردیکھنے کے بعد فرمایا : تم رضا علی خانصاحب کے کون ہو؟ آپ نے جواب دیا ، میں ان کا پوتا ہوں ۔فرمایا: جبھی ،اور فوراً تشریف لے گئے ۔(حیات اعلیٰ حضرت)

اعلی حضرت قدس سرہ کی عمر تقریباً ۵؍۶؍ سال کی ہوگی ،اس وقت صرف ایک بڑا کرتہ پہنے ہوئے باہر تشریف لائے ، اسی دوران سامنے سے چند طوائف زنان بازاری گذریں ،آپ نے فوراً کرتے کا اگلا دامن دونوں ہاتھوں سے اٹھا کر چہرئہ مبارک کو چھپالیا ۔یہ کیفیت دیکھ کر ان میں سے ایک بول اٹھی ،واہ میاں صاحبزادے ،منہ تو چھپا لیا اور ستر کھولدیا ۔آپ نے برجستہ جواب دیا ، جب نظر بہکتی ہے تو دل بہکتا ہے اور جب دل بہکتاہے تو ستر بہکتاہے ۔یہ حکیمانہ جواب سنکر وہ سکتہ میں رہ گئی ۔(حیات اعلیٰ حضرت)

تعلیم وتربیت ۔

آپکی تعلیم کا آغاز ہواتو پہلے ہی دن ایک عجیب واقعہ پیش آیا ۔استاذ محترم نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بعد جب حروف تہجی کی تختی پڑھانا شروع کی تو آپ تمام حروف پڑھکر ’لا‘ پر جاکر رک گئے اور عرض کیا : الف اور لام تو میں پڑھ چکا یہاں دو بارہ پڑھانے کی کیا ضرورت ہے ؟ فرمایا : جو تم نے الف کی صورت میں پڑھا وہ ہمزہ تھا ۔ چونکہ الف ہمیشہ ساکن ہوتاہے لہذا اسکا تنہا تلفظ نہیں ہوسکتا ۔اب لام کے ساتھ ملاکر اسکو پڑھا یاجارہا ہے ۔عرض کی : پھر تو کسی بھی حرف کے ساتھ ملاکر پڑھایاجاسکتا تھا۔ اس لام کی کیا خصوصیت تھی ؟ جد امجد حضرت علامہ رضاعلی خانصاحب قبلہ علیہ الرحمہ بھی مجلس میں موجود تھے ۔آپ نے فرمایا : الف اور لام میں صورت اور سیرت کے اعتبار سے ایک خاص منا سبت ہے ۔صور ۃ تو اس طرح کہ ’لا‘ اور ’لا‘ لکھا جاتاہے ،اورسیرۃ ًاس لئے کہ الف اور لام کا جب تلفظ کرو توایک کودوسرے کے قلب اور بیچ میں لکھوگے ۔ لہذا دونوں میں قلبی تعلق ہے ۔ الف کے بیچ میں ’ل‘ ہے اور لام کے بیچ میں ’ا‘ہے ۔ یہ جواب دیکر جدامجد نے وفور مسرت میں گلے سے لگالیا ، وہ اپنی فراست ایمانی اور مکاشفہ روحانی سے یہ سمجھ گئے تھے کہ یہ بچہ آگے چل کر کچھ ہوگا۔

قرآن کریم ناظرہ پڑھ رہے تھے کہ ایک دن استاذ محترم نے کسی مقام پر کچھ اعراب بتایا آپ نے استاذ کے بتانے کے خلاف پڑھا۔ انہوں نے دوبارہ کرخت آواز سے بتایا آپ نے پھر وہی پڑھا جو پہلے پڑھاتھا۔ آپ کے والد ماجد جو قریب ہی کے کمرے میں بیٹھے تھے انہوں نے سپارہ منگاکر دیکھا تو سپارہ میں استاذ کے بتانے کے موافق تھا۔ آپ بھی وہاں چونکہ کتابت کی غلطی محسوس کررہے تھے آپ نے قرآن پاک منگایا اس میں وہی اعراب پایا جو اعلی حضرت نے باربار پڑھا تھا ۔باپ نے بیٹے سے دریافت کیا کہ تمہیں جو استادبتاتے تھے وہی تمہار ے سپا رے میں بھی تھا تم نے استاذ کے بتانے کے بعد بھی نہیں پڑھا ۔اعلی حضرت نے عرض کیا:میں نے ارادہ کیا کہ اپنے استاذ کے بتانے کے موافق پڑھوں مگر زبان نے یارانہ دیا ۔ اس پر ان کے والد ماجد وفور مسرت سے آبدیدہ ہوگئے اور خداکا شکر ادا کیا کہ اس بچے کو ماانزل اللہ کے خلاف پر قدرت ہی نہیں دی گئی ہے ۔یہ تھے آثار مجددیت ۔

ایک روز صبح کو بچے مکتب میں پڑھ رہے تھے ان میں اعلی حضرت بھی شامل تھے ایک آنے والے بچے نے استاد کو بایں الفاظ سلام کیا ،’السلام علیکم ‘استاد صاحب نے جواب میں کہا جیتے رہو آپ نے فوراً استاذصاحب سے عرض کیا کہ یہ تو جواب نہ ہوا، انہوں نے پوچھا کہ اس کا جواب کیا ہے؟ اعلی حضرت نے عرض کیا: اس کا جواب ’وعلیکم السلام ‘ہے ،اس پر استاد بہت خوش ہوئے اور دعائیں دیں ۔چھوٹی چھوٹی شرعی غلطی پر آپ بچپن ہی میں بلا تکلف بول دیا کرتے تھے ایسا معلوم ہوتاتھا کہ غلطی کی تصحیح قدرت ہی نے ان کی عادت ثانیہ بنادی تھی چونکہ ان سے آگے چل کر رب العزت کو یہی کام لینا تھا ۔

مولانا حسنین رضا خانصاحب قبلہ لکھتے ہیں :۔

آپ مسلم الثبوت پڑھ رہے تھے اور زیادہ رات تک مطالعہ کرتے تھے ۔جس مقام پر ان کا سبق ہونے والا تھا وہاں ان کے والد ماجد نے مولانا محب اللہ صاحب بہاری (مصنف کتاب ) پر ایک اعتراض کردیا تھا جو انہوں نے حاشیہ پر درج کرکے چھوڑ دیا تھا ۔جب

اعلی حضرت قبلہ کی نظر اس اعتراض پر پڑی تو آپ کی بانکی طبیعت میں یہ بات آئی کہ مصنف کی عبارت کو حل ہی اس طرح کیا جائے کہ اعتراض وارد ہی نہ ہو، آپ اس حل کو ایک بجے رات تک سوچتے رہے بالآخر تائید غیبی سے وہ حل سمجھ میں آگیا ۔آپ کو انتہائی مسرت ہوئی اور اس وفور مسرت میں بے اختیار آپ کے ہاتھوں سے تالی بج گئی ۔اس سے سارا گھر جاگ گیا اور کیا ہے ؟کیا ہے؟ کا شور مچ گیا توآپ نے اپنے والدماجد کو کتاب کی عبارت اور اس کا عام مطلب اور اس پر ان کا اعتراض سنانے کے بعد آپ نے اپنی طرف سے اس عبارت کی تقریر کی کہ وہ اعتراض ہی نہ پڑا، اس پر باپ نے گلے سے لگایا اور فرمایا کہ امن میاں تم مجھ سے پڑھتے نہیں بلکہ مجھے پڑھاتے ہو ۔

سچ ہے :۔

بالائے سرش زہوش مندی ٭ می تافت ستارئہ بلندی

دوران تعلیم آپ اپنے پھوپھا (جناب شیخ فضل حسن مرحوم ) کے بلانے پر رامپو رگئے انہوں نے بہ اصرار روکا ۔اعلی حضرت قبلہ نے یہ وقت بھی تحصیل علم میں صرف کیا اور بایماء الحاج نواب کلب علی خاں مرحوم مغفور شرح چغمینی کے کچھ اسباق مولانا عبدالعلی صاحب مرحوم سے پڑھے ۔نانا فضل حسن صاحب بریلی کے ساکن تھے رام پور میں وہ محکمہ ڈاک کے افسر اعلی تھے اور الحاج نواب کلب علی خاں کے خاص مقربین میں ان کا شمار تھا۔ انہوں نے نواب صاحب سے اعلی حضرت قبلہ کی حیرت انگیز ذہانت کا پہلے ہی ذکر کردیا تھا جب یہ رام پورگئے تو نواب صاحب کے روبرو پیش کردیا ۔نواب صاحب نے بات چیت ہی سے اندازہ کرلیا کہ یہ بچہ ہونہار ہے تو انکی خوشی یہ ہوئی کہ یہ رام پور میں ہی مولانا عبدالعلی صاحب اور مولانا عبدالحق صاحب خیرآبادی سے تعلیم حاصل کریں ۔اس لئے کہ مولانا عبدا لعلی صاحب ریاضی میں اور مولاناعبدا لحق صاحب منطق فلسفہ اصول وکلام وغیرہ میں یگانہ روزگار مانے جاتے تھے ۔

نواب صاحب نے فرمایا:۔

یہاں مولانا عبدالحق صاحب خیرآبادی مشہور منطقی ہیں ۔ آپ ان سے کچھ منطق کی کتابیں قدما کی تصنیفات سے پڑھ لیجئے ۔اعلی حضرت نے فرمایا اگر والد ماجد کی اجازت ہوگی تو کچھ دن یہاں ٹھہر سکتاہوں ۔یہ باتیں ہوہی رہی تھیں کہ اتفاق وقت جناب مولانا عبدالحق صاحب خیرآبادی مرحوم بھی تشریف لے آئے ۔جناب نواب صاحب نے اعلی حضرت کاان سے تعارف کرایااور فرمایا: باوجود کم سنی ان کی کتابیں سب ختم ہیں اور اپنے مشورہ کا ذکر فرمایا۔ مولانا عبدالحق صاحب مرحوم کا عقیدہ تھا کہ دنیا میں صرف ڈھائی عالم ہوئے ،ایک مولانا بحرالعلوم دوسرے والد مرحوم اور نصف بندہ معصوم ،وہ کب ایک کم عمر شخص کو عالم مان سکتے تھے۔ اعلی حضرت سے دریافت فرمایا کہ منطق میں انتہائی کونسی کتاب آپ نے پڑھی ہے، اعلی حضرت نے فرمایا ’’ قاضی مبارک ’’ یہ سنکر دریافت فرمایا کہ شرح تہذیب پڑھ چکے ہیں ؟یہ طعن آمیز سوال سن کر اعلی حضرت نے فرمایا کہ کیا جناب کے یہاں قاضی مبارک کے بعد شرح تہذیب پڑھائی جاتی ہے ۔یہ سوال سیرکا سواسیر پاکر جناب مولانا عبدالحق صاحب نے سوا ل کا رخ دوسری جانب پھیرااور پوچھا اب کیا مشغلہ ہے ؟فرمایا :تدریس ،افتا ،تصنیف ۔فرمایا کس فن میں تصنیف کرتے ہیں؟ فرمایا: مسائل دینیہ وردوہابیہ ۔اسکو سن کر فرمایا: رد وہابیہ ؟ ایک میرا وہ بدایونی خبطی ہے کہ ہمیشہ اسی خبط میں رہتا ہے اور رد وہابیہ کیا کرتاہے ۔ (وہ اشارہ حضرت مقتدائے ملت تاج الفحول محب الرسول عالیجناب مولانا عبدالقادر صاحب بدایونی قدس سرہ العزیز کی طرف تھا۔ اور میرا کہنے کی وجہ یہ ہے کہ حضرت تاج الفحول جناب مولانا فضل حق صاحب خیرآبادی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد رشید تھے ) اعلی حضرت نے یہ سنتے ہی فرمایا: جناب کو معلوم ہوگا کہ وہابیہ کا رد سب سے پہلے جناب مولانا فضل حق جناب کے والد ماجد ہی نے کیا اور مولوی اسمعیل دہلوی کو بھرے مجمع میں مناظرہ کرکے ساکت کیا اور ان کے رد میں ایک مستقل رسالہ بنام’’ تحقیق الفتوی فی ابطال الطغوی‘‘ تحریر فرمایا ہے ۔اس پر مولانا عبدالحق صاحب خاموش ہوگئے ۔(سیرت اعلیٰ حضرت)

ابتدائی کتابیں پہلے استاذ سے پڑھیں اور چارسال کی عمر میں قرآن ناظرہ ختم کیا ، اسکے بعد میزان منشعب تک حضرت مولانا عبدالقادر بیگ سے پڑھا ۔ابتدائی تعلیم کے بعد والد ماجد نے آپکی تعلیم اپنے ذمہ لے لی اور آخرتک درس وتدریس کا سلسلہ جاری رکھا ۔

اسی دوران شرح چغمینی مولانا عبدالعلی رامپوری (ریاضی داں ) سے چھ ماہ وہاں رہ کر پڑھی ۔

آپ فرماتے ہیں : حضور پرنور پیرومرشد قدس سرہ کو شامل کرکے چھ نفوس قدسیہ میرے استاذ ہوتے ہیں ۔

ان چھ حضرات کے علاوہ حضور نے کسی کے سامنے زانوئے ادب طے نہیں کیا مگر خداوند عالم نے محض اپنے فضل وکرم اور آپ کی محنت اور خدادادذہانت کی وجہ سے اتنے علوم وفنون کا جامع بنایا کہ پچاس فنون میں حضور نے تصنیفات فرمائیں اور علوم ومعارف کے وہ دریا بہائے کہ خدام ومعتقدین کا تو کہنا کیا مخالفین مخالفتیں کرتے اپنی سیاہ قلبی کی وجہ سے برائیاں کرتے مگر ساتھ ساتھ ٹیپ کا بندیہ ضرور کہنے پر مجبور ہوتے کہ یہ سب کچھ ہے مگر مولانا احمد رضا خانصاحب قلم کے بادشاہ ہیں جس مسئلہ پر قلم اٹھادیا نہ موافق کو ضرورت افزائش نہ مخالف کو دم زدن کی گنجائش ہوتی ہے ۔(حیات اعلیٰ حضرت)

پورے زمانۂ طالب علمی میں کوئی کتاب بالا ستیعاب مکمل نہ پڑھی ،بلکہ والد صاحب جب یہ دیکھتے کہ امن میاں مصنف کے طرز سے واقف ہوگئے ہیں تومشکل مقامات پر عبور کرانے کے بعد دوسری کتابیں شروع کرادیتے ،اس طرح قلیل مدت میں آپ نے تمام درسی کتب کو مکمل کرلیا اور ۱۳؍ سال دس ماہ چاردن کی عمر شریف میں ۱۴؍ شعبان المعظم ۱۲۸۶ھ کو فارغ التحصیل ہوگئے ۔