أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الۡحَبِّ وَالنَّوٰى‌ؕ يُخۡرِجُ الۡحَىَّ مِنَ الۡمَيِّتِ وَمُخۡرِجُ الۡمَيِّتِ مِنَ الۡحَىِّ ‌ؕ ذٰ لِكُمُ اللّٰهُ‌ فَاَنّٰى تُؤۡفَكُوۡنَ ۞

ترجمہ:

بیشک اللہ ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا ہے ‘ وہی زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالنے والا ہے ‘ یہی تو اللہ ہے، تم کہاں بھٹک رہے ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک اللہ ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا ہے ‘ وہی زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالنے والا ہے ‘ یہی تو اللہ ہے، تم کہاں بھٹک رہے ہو۔ (الانعام : ٩٥) 

زمین کی نشانیوں سے وجود باری تعالیٰ اور توحید پر دلائل : 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے توحید اور رسالت اور قرآن مجید کا بیان فرمایا تھا اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے الوہیت اور وجود باری پر دلائل دیئے ہیں۔ ایک باریک سے دانہ کو چیر کر اللہ اس میں ایک کونپل پیدا کرتا ہے ‘ وہ کونپل اس قدر کمزور ہوتی ہے کہ اگر ہم اس کو ہاتھ میں لے کر مسل دیں تو ہمارے ہاتھ میں صرف پانی کی نمی رہ جائے گی لیکن اللہ اس کونپل میں اتنی قوت پیدا فرماتا ہے کہ وہ سخت زمین کو چیر کر زمین کے اندر نفوذ کر جاتی ہے ‘ اس کا ایک حصہ زمین کے نیچے چلا جاتا ہے اور ایک حصہ زمین کے اوپر نکل آتا ہے ‘ پھر نچلے حصہ سے جڑیں بنتی ہیں جو دور تک زمین کی گہرائی میں چلی جاتی ہیں اور اوپر کے حصہ سے ایک تناور درخت بن جاتا ہے جس میں شاخیں ہوتی ہیں ‘ ان میں سرسبز پتے ہوتے ہیں ‘ شگوفے کھلتے ہیں اور پھل اور پھول لگتے ہیں ‘ اسی ایک دانہ سے جس کی طبیعت واحد ہوتی ہیں ‘ مختلف رنگ کے پھل ‘ پھول اور پتے پیدا ہوتے ہیں ‘ مختلف ذائقے پیدا ہوتے ہیں۔ پھر ان میں مختلف خواص اور الگ الگ تاثیریں ہوتی ہیں۔ کیا یہ سب کچھ خود بہ خود ہو رہا ہے ؟ کیا یہ صرف دانہ یا بیج کا کارنامہ ہے ؟ کیا یہ کسی بےجان بت یا دیوی یا دیوتا کا کیا دھرا ہے ؟ یہ دیوی اور دیوتا تو خود اپنے مرنے اور جینے میں کسی اور کی مشیت کے پابند ہیں ‘ سورج ‘ چاند اور ستارے ایک مقرر شدہ نظام کے تحت گردش کر رہے ہیں۔ پھر ان میں سے کسی نے کبھی یہ دعوی نہیں کیا کہ وہ اس نظام کی تخلیق کا موجب ہے۔ بتاؤ اللہ کے سوا کون ہے جو اس تخلیق کا دعوی رکھتا ہے ؟ کیا کبھی کسی نے یہ نعرہ لگایا کہ میں اللہ کا شریک ہوں ؟ کیا کبھی کسی نے کسی نبی کسی رسول کو بھیجا ‘ کوئی کتاب نازل کی کہ اللہ کے سوا فلاں فلاں اور بھی اس کار تخلیق میں اس کے معاون اور شریک ہیں ؟ پھر ہمیں کیا پڑی ہے کہ بلاوجہ ‘ بلادلیل اور بلا دعوی کے کسی کو اللہ کا شریک مان لیں ؟ 

اسی ایک درخت پر غور کرلو ‘ اس کی جڑیں بھی لکڑی کی ہیں ‘ اس کا تنا بھی لکڑی کا اور جڑیں زمین کے نیچے جارہی ہیں اور تنا زمین کے اوپر جارہا ہے ‘ اگر لکڑی کی طبعت کا تقاضا زمین کے نیچے جانا ہے تو تنا اوپر کیوں جا رہا ہے ؟ اور اگر لکڑی کی طبیعت کا تقاضا زمین کے اوپر جانا ہے تو جڑیں زمین کے نیچے کیوں جارہی ہیں ؟ معلوم ہوا کہ لکڑی کی طبیعت کا تقاضا کچھ بھی نہیں ‘ یہ سب کچھ ایک قادر قیوم کے حکم سے ہورہا ہے ‘ وہ جس حصہ کو چاہتا ہے ‘ اس کو نیچے کردیتا ہے اور جس حصہ کو چاہتا ہے ‘ اوپر کردیتا ہے۔ 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہی زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالنے والا ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا وہ نطفہ سے زندہ بشر پیدا فرماتا ہے اور زندہ بشر سے نطفہ نکالتا ہے ‘ اسی طرح بےجان انڈے سے مرغی کا چوزہ نکالتا ہے اور زندہ مرغی سے بےجان انڈا نکالتا ہے ‘ اور ایک ضد سے دوسری ضد کا نکلنا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ سب کچھ محض طبعی تقاضوں سے نہیں ہو رہا ‘ بلکہ ایک زبردست مدبر اور علیم کی قدرت سے ہو رہا ہے۔ اس کا یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ ایک بےجان بیج سے سرسبز کونپل نکل آتی ہے ‘ اور سرسبز درخت سے بےجان بیج نکل آتے ہیں ‘ اسی طرح کافر کے ہاں مومن اور مومن کے ہاں کافر پیدا ہوتا ہے ‘ اور عالم کے ہاں جاہل اور جاہل کے ہاں عالم پیدا ہوتا ہے۔ 

اور جب تم اللہ کے وجود اور اس کے واحد ہونے کے ان دلائل کا مشاہدہ کر رہے ہو تو پھر ان بتوں کی پرستش کیوں کر رہے ہو ؟ اور اللہ کو چھوڑ کر اس کی مخلوق کو کیوں پکارتے ہو ؟ ان کی عبادت کیوں کرتے ہو ؟ اور ان سے منتیں اور مرادیں کیوں مانگتے ہو ؟ اس کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ جب تم یہ مشاہدہ کر رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ مردہ سے زندہ پیدا کردیتا ہے تو تم مرنے کے بعد دوبارہ پیدا ہونے کا کیوں انکار کرتے ہو ؟ جب وہ ایک بےجان قطرہ سے جیتا جاگتا انسان کھڑا کردیتا ہے تو وہ تمہارے مرنے اور پھر ریزہ ریزہ ہونے کے بعد تم کو ان ہی منتشر ذرات سے دوبارہ کیوں پیدا نہیں کرسکتا ؟ تم سوچتے کیوں نہیں اور ادھر ادھر کیوں مارے مارے پھر رہے ہو ؟

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 95