بعثتِ مصطفیﷺ 

جب حضور اکرم ﷺ  کی مقدس زندگی کا چالیسواں سال شروع ہوا تو اچانک آپ کی ذاتِ اقدس میں کئی تبدیلیاں رونماں ہونے لگیں، اچانک آپ خلوت پسند ہو گئے، تنہائی میں بیٹھ کر خدا کی عبادت کرنے کا جذبہ بہت بڑھ گیا، اکثر اوقات آپ کو غور و فکر میں مصروف دیکھا جاتا اور آپ اکثر اوقات اللہ کی قدرت کے مشاہدہ اور کائناتِ عالم کے معائنہ میں مصروف رہتے۔ حضور سید عالمﷺ  کو اچھے اچھے خواب نظر آتے اور خواب میں جو کچھ دیکھتے بالکل ویسا ہی ہوتا۔ مکہ مکرمہ سے تقریباً تین میل کی دوری پر جبل حرا واقع تھا جسے جبل نور بھی کہا جاتا ہے۔ آپ کئی کئی دنوں کا کھانا، پانی ساتھ لے کر اس غار میں اکثر جانے لگے۔ اس جگہ سے حضور جمالِ کعبہ سے چشم مبارک کو روشن بھی فرماتے اور عبادتِ الٰہی بھی کرتے اور رب العزت کی جانب متوجہ ہو کر عالم استغراق میں بیٹھا بھی کرتے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت میں سے جو کچھ آپ کے نزدیک ثابت تھا یا ہر وہ چیز جو آپ کے نزدیک انبیائے سابقین علیہم السلام کی شریعت میں ثابت تھی یا جو چیز آپ کی بصیرت میں مستحسن تھی اس پر عمل فرماتے تھے۔ آپ اپنے کاشانۂ اقدس سے کچھ کھانا لے جایا کرتے اور جب کھانا ختم ہو جاتا یا گھر والوں کی جانب رجحان ہوتا تو پہاڑ سے اتر آتے، اس کے بعد آپ توشہ لے کر دو بارہ تشریف لے جاتے۔ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ حضور اکرم ﷺ ہر سال ایک مرتبہ مکہ کی بستی سے باہر تشریف لے جاتے اور ایک ماہ غارِ حرا میں خلوت گزیں رہتے۔

آغازوحی: جب ایامِ وحی قریب آئے تو آپ نے خلوت و عبادت میں کثرت کر دی اور التزام شروع فرمادیا۔ یکایک آپ پر وحی کا ظہور ہوا، وحی اتری اور قرآن مجید نازل ہوا۔چنانچہ جب حضور اکرمﷺ کی بارگاہ میں فرشتہ وحی لے کر حاضر ہوا تو اس نے کہا: اے محمد (ﷺ) آپ کو مژدہ ہو کہ میں جبرئیل ہوں اور مجھے حق تعالیٰ نے آپ کے پاس بھیجا ہے، آپ امت کی جانب خدا کے رسول ہیں۔ آپ جن و انس کو کلمہ طیبہ ’’لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ‘‘ کی دعوت دیجئے اور کہا: اے محمد!’’اقرأ‘‘ پڑھئے۔ حضور نے فرمایا: ’’مَا اَنَا بِقَارِی ‘‘میں پڑھنے والا نہیں ۔ اس کے بعد جبریل نے اپنی آغوش میں لیا اور پوری گرمجوشی کے ساتھ معانقہ کیا،پھر چھوڑ کر کہا ’’اِقْرَأْ‘‘ پڑھئے۔ حضور نے پھر فرمایا: ’’مَا اَنَا بِقَارِی‘‘میں پڑھنے والا نہیں۔ فرشتہ نے دوسری مرتبہ پھر آپ کوپوری قوت کے ساتھ اپنے سینے سے چمٹایا اور چھوڑ کر کہا ’ ’اِقْرَأْ‘‘ پڑھئے۔ حضور نے پھر وہی فرمایا: ’’مَآ اَنَا بِقَارِی ‘‘میں پڑھنے والا نہیں۔تیسری مرتبہ پھر فرشتہ نے آپ کو پورے زور کے ساتھ اپنے سینے سے لگا کر چھوڑا اور کہا ’’اِقرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقِنِ اقْرَأْ وَ رَبُّکَ الْاَکْرَمُ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ‘‘ یعنی پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا۔ پڑھو اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم۔ جس نے قلم سے لکھنا سکھایا۔ آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا۔

حضرت جبریل علیہ السلام کا آغوش میں لے کر دبانا یہ ایک قسم کا حضور اکرم ﷺ کے وجود گرامی میں ملکوتی انوار داخل کر کے تصرف کرنا تھا تاکہ آپ وحی کے قبول کرنے میں آمادہ اور اس کے ماسوا سے خالی و بے التفات ہو جائیں نیز اس میں اس قول کے وزنی ہونے کی جانب اشارہ ہے جو آپ کی جانب اِلقا ہونے والا ہے۔

اس کے بعدحضرت جبریل علیہ السلام نے زمین پر پائوں مارا اور چشمہ نکالا، اس سے وضو کیا جو کلی کرنے، ناک میں پانی ڈالنے، چہرہ اور دونوں ہاتھ پائوں دھونے اور سر کا مسح کرنے پر مشتمل تھا۔ اس فعل کے ذریعہ حضور کو وضو کرنا سکھانا مقصود تھا۔ اس کے بعد حضور نے بھی وضو کیا پھر جبریل نے ایک چلو پانی لے کر حضور اکرم ﷺ کے چہرۂ انور پر چھینٹا دیا اور آگے بڑھ کر دو رکعت نماز پڑھائی، حضور ان کے مقتدی بنے۔ اس کے بعد جبریل نے عرض کیا کہ اسی طرح وضو کرنا اور نماز پڑھنا ہے۔ پھر جبریل علیہ السلام آسمان پر چڑھ گئے اور حضورﷺ نے مکہ مکرمہ کی جانب مراجعت فرمائی۔

پڑھنے سے انکار کی و جہ: حضرت جبریلِ امین علیہ السلام کے بار بار’’اِقْرَأْ‘‘ عرض کرنے پرحضور ﷺ ’’مَا اَنَا بِقَارِی‘‘ اس لئے فرما رہے تھے کہ آپ غارِ حرا میں ذکرِ الٰہی سے لطف اندوز ہو رہے تھے ، قلب اقدس پرعجیب کیف کا عالم طاری تھا ،اس لئے آپ نے یہ گوارا نہ فرمایا کہ قلبِ مبارک جومحبوبِ حقیقی کی یاد میں سرشار ہے اورجس پر استغراق کی اعلیٰ ترین کیفیت طاری ہے وہ کسی دوسرے کی جانب متوجہ ہو جائے ۔ پھر جب جبریلِ امین نے چوتھی مرتبہ اسی محبوب حقیقی کے نام کی برکت سے پڑھنے کی گزارش کی تو آپ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور سورئہ اقرا کی پانچ آیتیں تلاوت فرمائیں ۔

مکہ کو واپسی : اس وقت یہ عالم تھا کہ ہر شجر و حجر کہتا تھا ’’اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ‘‘ جب حضور نے مکہ کی طرف مراجعت فرمائی تو آپ کا قلب مبارک اور کنپٹیوں کا گوشت لرز رہا تھا جس طرح خوف و دہشت کے وقت ہوا کرتا ہے یا جیسے کہ گائے کے ذبح کے وقت ہوتا ہے۔

حضور اکرم ﷺ نے ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آکر فرمایا ’’زَمِّلُوْنِیْ زَمِّلُوْنِیْ‘‘ مجھے کمبل اڑھائو، مجھے کمبل اڑھائو۔ انہوں نے آپ کے جسم انور پر کمبل ڈالا اور چہرۂ انور پر سرد پانی کے چھینٹے دئے تاکہ خوف دور ہو۔ آپ نے حضرت سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سارا حال بیان کیا اور فرمایا’’لَقَدْ خَشِیْتُ عَلٰی نَفْسِیْ‘‘مجھے ڈر ہے کہ میں کہیں خطرے میں نہ پڑ جائوں۔حضرت سیدہ خدیجہ نے عرض کیا’’کَلاَّ وَاللّٰہِ لاَ یُخْزِیْکَ اللّٰہُ اَبَدًا اِنَّکَ لَتَصِلُ الرِّحْمَ وَ تَصْدُقُ الْحَدِیْثَ وَ تَحْمِلُ الْکَلَّ وَ تُکْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَ تُقْرِی الضَّیْفَ وَ تُعِیْنُ عَلٰی نَوَائِبِ الْحَقِّ۔۔۔۔۔۔۔‘‘ آپ غم نہ کھائیے اور خوش رہئے کیوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو کسی خطرے میں نہ ڈالے گا اور نہ آپ کو کسی کے آگے ذلیل و رسوا ہونے دے گا۔ یقینا اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ اچھائی ہی فرمائے گا کیوں کہ آپ صلہ رحمی فرماتے ہیں، عیال کا بوجھ اٹھاتے ہیں، ریاضت و مجاہدہ کرتے ہیں، مہمان نوازی فرماتے ہیں، بیکسوں اور مجبوروں کی دستگیری کرتے ہیں، محتاجوں اور غریبوں کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں، لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آتے ہیں، لوگوں کی سچائی میں ان کی مدد اور ان کی برائی سے حذر فرماتے ہیں، یتیموں کو پناہ دیتے ہیں، سچ بولتے ہیں اور امانتیں ادا فرماتے ہیں۔

حضورﷺ ورقہ بن نوفل  کے پاس: جب حضور اکرم ا نے اپنا حال مبارک بیان فرمایا تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بہت خوش ہوئیں، اس کے بعد سیدہ خدیجہ اس حالت کی تائید و تقویت کی غرض سے حضوراکرم کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، ورقہ بن نوفل بہت بوڑھے تھے، یہ قریش کے طور و طریق اور جاہلیت کی رسوم سے نکل کر حقیقی دین عیسوی اختیار کر کے موحد بن گئے تھے، ان کو انجیل کا علم خوب آتا تھا اور وہ انجیل سے عربی زبان میں کچھ لکھا کرتے تھے، وہ عبرانی زبان کو بھی جانتے تھے۔ ان سے سیدہ خدیجہ نے کہا: اے میرے چچا زاد بھائی! اپنے بھتیجے کی بات تو سنئے وہ کیا فرماتے ہیں؟ ورقہ نے حضورﷺ سے دریافت کیا، کیا بات ہے؟ حضور انے اپنا تمام حال جو گزر چکا تھا ان سے بیان فرمادیا۔ یہ سن کر ورقہ نے کہا: یہ وہ ناموس ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔ اے محمد () آپ کو مبارک و خوشی ہو کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ وہ نبی ہیں جس کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بشارت دی کہ میرے بعد ایک رسول مبعوث ہوگا جس کا نام نامی احمد ہے۔

قریب ہے کہ آپ کافروں کے ساتھ جہاد و قتال پر مامور ہوں۔ کاش! میں اس دن تک زندہ رہتا اور جوان، قوی اور توانا ہوتا جب آپ کی قوم آپ کو اس جگہ سے نکالے گی۔ حضور نے فرمایا کیا وہ مجھے یہاں سے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا ہاں آپ جو کچھ لے کر تشریف لائے ہیں اس کی مانند کوئی ایک شخص لے کر کبھی نہیں آیا، اس کے باوجود ان سے دشمنی کی گئی اور انہیں ایذائیں پہنچائی گئیں۔ مطلب یہ کہ سنت الٰہی اسی طرح جاری ہے کہ کافر لوگ ہمیشہ نبیوں کے دشمن رہے ہیں اور کوئی نبی ایسا نہیں آیا جس سے کافروں نے دشمنی نہ کی ہو۔ اگر میں نے آپ کا وہ دن پایا تو میں آپ کی پوری پوری نصرت و مدد کروں گا۔

پھر کچھ عرصہ کے بعد ورقہ نے وفات پائی اور ظہور دعوت کا زمانہ انہوں نے نہ پایا لیکن وہ حضور پر ایمان لانے والوں اور آپ کی تصدیق کرنے والوں میں سے ہیں۔

اس کے بعد کچھ دنوں تک وحی اترنے کا سلسلہ بند ہوگیا اور حضور وحی کے انتظار میں مضطرب اور بے قرار رہنے لگے یہاں تک کہ ایک دن حضور کہیں گھر سے باہر تشریف لے جا رہتے تھے کہ کسی نے ’’محمد‘‘ کہہ کر آپ کو پکارا۔ آپ نے آسمان کی طرف سر اٹھاکر دیکھا تو یہ نظر آیا کہ وہی فرشتہ (حضرت جبریل علیہ السلام) جو غارِ حرا میں آیا تھا آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر آپ کے قلب مبارک میں ایک خوف کی کیفیت پیدا ہو گئی اور آپ مکان پر آکر لیٹ گئے اور گھر والوں سے فرمایا کہ مجھے کمبل اڑھائو، مجھے کمبل اڑھائو۔ چنانچہ آپ کمبل اوڑھ کر لیٹے ہوئے تھے کہ ناگہاں آپ پر سورۂ مدثر کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں اور رب تعالیٰ کا فرمان اتر پڑا کہ ’’یٰٓاَیُّہَا الْمُدَّثِّرُo قُمْ فَاَنْذِرْo وَ رَبَّکَ فَکَبِّرْo وَ ثِیَابَکَ فَطَہِّرْo وَ الرُّجْزَ فَاہْجُرْ‘‘ یعنی اے بالا پوش اوڑھنے والے! کھڑے ہوجائو پھر ڈر سنائو اور اپنے رب ہی کی بڑائی بولو اور اپنے کپڑے پاک رکھو اور بتوں سے دور رہو۔ (بخاری،ج:۱،ص:۳)