حدیث نمبر :566

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جونمازبھول جائے یااس سے غافل ہوکرسوجائے ۱؎ تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب یاد آئے تو پڑھ لے ایک روایت میں ہے اس کاکفارہ اس کے سواءاورکچھ نہیں۲؎ (مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ اس طرح کہ یونہی لیٹا سونے کا ارادہ نہ تھا کہ آنکھ لگ گئی وقت نمازگزرجانے پرآنکھ کھلی تومعذورہے،لیکن اگرجان بوجھ کربغیرنمازپڑھے سوگیایارات کوبلاعذردیرسے سویاجس سے فجر کے وقت آنکھ نہ کھلی تومجرم ہے۔رب تعالٰی نیت وارادہ کوجانتاہے،اسی لئے بعدنمازعشاءجلدسوجانے کا حکم ہے لہذا اس حدیث سے آج کل کے فاسق نمازسے بے پرواہ دلیل نہیں پکڑ سکتے۔

۲؎ یعنی جیسے روزہ رہ جانے میں کبھی کفارہ پڑجاتاہے اورجیسے کبھی ارکان حج چھوٹ جانے پرکفارہ لازم آتا ہے ایسے نمازمیں نہ ہوگا اس میں صرف قضاءہے۔اِذَا ذَکَرَ سے دو مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ چھوٹی ہوئی نمازاگرقطعًایادہی نہ آئے توآدمی گنہگارنہیں۔دوسرے یہ کہ یادآجانے پردیرنہ لگائے فورًاقضا اداکرے اب دیر لگانا گناہ ہے کیونکہ زندگی کاکوئی بھروسہ نہیں تمام عبادات کا یہی حال ہے۔خیال رہے کہ یہاں صرف ذکر اوریادآجانے کا تذکرہ فرمایایہ بیداری کاذکرنہ ہوا کیونکہ قضاءیادآنے سے واجب ہوتی ہے نہ کہ محض جاگنے سے اگرجاگنے پریادنہ آئے قضا نہیں۔