خیر کی جلوہ گری

مولانا محمد شاکر نوری

٭٭٭٭٭٭٭

اللہ عزوجل نے امت ِمسلمہ کو دیگر امتوں کے مقابل میں ایک امتیازی حیثیت عطا فرمائی ہے اور تخلیقِ امت مسلمہ کے مقصد کا تعین بھی فرمایا۔ قرآن مقدس میں کنتم خیر امۃ اخرجت للناس(الخ) سے امت مسلمہ کی تخلیق کا مقصد ظاہر وواضح ہے ۔

آج ہم دنیا بھر میں اپنی بے بسی اور بے کسی کا ماتم کررہے ہیں اور دنیا بھر میں امت مسلمہ پر ہونے والے مظالم پر آنسو بہارہے ہیں ،یقینا کوئی بھی صاحب دل اور صاحب ایمان اُمت کے اس حال کو دیکھ کر چین وسکون سے نہیں رہ سکتا۔ آج ہم کو یہ سوچنا ہے کہ آخر اس لاچار گی کی وجہ کیا ہے ؟ اور عروج سے زوال کی طرف اور بلندی سے پستی کی طرف ہم کیونکرآگئے ؟جس قوم کا خدائے وحدہ لاشریک اور اس کے پیارے محبوب انیز قرآن مقدس پر یقین کامل ہو وہ اس طرح سے زوال پذیر اور ناکام کیسے ہوگئی؟۔

آج دنیا بھر میں مظلوم مسلمانوں کو دہشت گرد کہا جاتا ہے اور پوری دنیا کے مسلمانوں کو کوڑی کوڑی کا محتاج کردینے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے، معاشی بد حالی سے لیکر تعلیمی پسماندگی اور سیاست سے لیکر تحقیقات کے جملہ شعبوں سے بے دخل ہی نہیں بلکہ بے شمار رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہے اس قوم کو مذکورہ منصوبوں سے کیونکر بچایا جاسکتا ہے اور اقوام باطلہ کے ارادوں کو کیسے ناکام بنایا جاسکتا ہے اس پر کچھ باتیں عرض کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہوں ۔

پہلی چیز تو یہ ہے کہ تاجدار کائنات ﷺ کی بعثت مبارکہ سے پیش تر جتنی بھی برائیاں تھیں اس کے خاتمہ کیلئے رحمت عالم ﷺ اور قیامت تک اس کے سدِّ باب کیلئے خالق کائنات نے اس امت کا انتخاب فرمایا ۔امت مسلمہ کو خیر امت کا تاج دیکر جملہ معاملات میں اس امت کی زندگی سے خیر کی جلوہ گری ہی رب قدیر چاہتا ہے اگر ہم لفظ خیر کو قرآن مقدس میں امت مسلمہ کیلئے دیکھیں تو جابجا خیر کا لفظ لباس سے لیکر گفتگومیں نظر آتا ہے۔ مثلا اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا ’’وتزود وافان خیر الزاد التقویٰ‘‘ اللہ عزوجل کے علم میں یہ بات ہے کہ ایک دور ایسا بھی آئیگا کہ لوگ ہوا کے دوش پر سوار ہوکر اپنا سفر طے کریں گے اور سفر کیلئے طیاروں کا استعمال کریں گے آج اگر ہم دیکھیں کہ ہوائی جہاز میں استقبال سے لیکرماکولات و مشروبات پیش کرنے کیلئے دوشیزائوں کو مقرر کیا گیا ہے تاکہ ان کی مسکراہٹوں اور ان کے حسن پر فریفتہ ہوکر اپنے وجود سے شرارتوں اور برائیوں کا مظاہرہ کریں اور سفر عیش وعشرت کے ساتھ طے کریں، سیکڑوں مسافروں کے درمیان دوشیزائوں کے حسن پر فدا ہونے اور ان کے ساتھ نازیباسلوک کرنے کے بجائے اپنے دامن کو گناہوں کے دھبے سے اگر کوئی بچاتا ہوتو بے ساختہ دنیا پکار اٹھے گی کہ یقینا یہ کوئی شریف اور مہذب انسان لگتا ہے اور ہونا بھی یہی چاہیئے کہ مرضئی مولیٰ اور حکم مولیٰ یہی ہے کہ جب تم سفر کرو تو اپنے ساتھ زادِ سفر لیکر نکلو اور تمہارے لئے بہترین زاد ِسفر، تقویٰ ہے ۔

قوم مسلم کا بہترین لباس :

دوران سفر امت مسلمہ کی نقل وحرکت سے ہم پر یہ واضح ہوجائے گا کہ ہم سے شرارتوں کا ظہور ہوتاہے یا خیر کا ؟ یقینا ہمیں اپنے آپ کو تبدیل کرنا ہوگا اور دنیا میں کہیں بھی سفر کرتے ہو ں مرد ہو یا عورت ہر ایک کے ساتھ سلوک سے پہلے ہمیں اللہ کے خوف کو پیش نظر رکھنا ہوگا ۔اور بے ہود گی،بد تمیزی، جھگڑا فساد، گالی گلوج،ان ساری چیزوں سے بچنا ہوگا ۔آج جو قوم سفر حج میں جھگڑے فساد سے اپنا دامن نہ بچاسکتی ہو اور اپنے ہی بھائی بہنوں کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ نہ کرسکیں تو وہ غیروں کی نظرمیں کیسے معزز بن سکتے ہیں ؟بس ایک ارادہ کرلیں کہ آج کے بعد سفر وحضر میں اللہ کے ڈرکو ، زادِ سفر بنائیں گے ان شاء اللہ ۔اس پر برکتیں ضرور نظر آئیں گے اسی طرح سے ہم قرآن مقدس کی اس آیت کریمہ پر غور کریں جس میں لباس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : یٰبنی آدم قد انزلنا علیکم لباسا یواری سوآتکم وریشا ولباس التقویٰ ذلک خیر o

ترجمہ:۔اے آدم کی اولاد ! بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک لباس اتارا کہ تمہاری شرم کی چیزیں چھپائے اور ایک وہ کہ تمہاری آرائش ہو اور پرہیز گاری کا لباس وہ سب سے بھلا ۔ (کنز الایمان )

اس آیۂ کریمہ پر غور کریں کہ نزول لباس کا مقصد شرمگاہوں کا چھپانا اور عزت حاصل کرنا ہے لیکن آج ہماری قوم کے نوجوان مر دوں اور عورتوں کے لباس زیب تن کرنے کا مقصد جدا ہوچکا ہے۔ ہیرو ہیروئن جیسے لباس، کہیں چست لباس تو کہیں نیم عریا ں لباس تو کہیں اتنا باریک لباس کہ جسم کے جن حصوں کو چھپانا چاہیئے وہ حصے بھی چھپ نہیں پاتے بلکہ لباس پہننے کا مقصد بھی بیشمار لوگوں کا یہ ہوتا ہے کہ اپنے بھڑکیلے لباس اور فیشن ایبل لباس کے ذریعہ لڑکے لڑکیوں کو راغب کریں، اور لڑکیاںلڑکوں کو راغب کریں، تو قرآن مقدس نے اپنے محبوب اکے غلاموں کو بڑے پیارے انداز سے ارشاد فرمایا کہ تمھارے لئے بہترین لباس تقوٰی کا لباس ہے ’’ولباس التقوی ذلک خیر‘‘یعنی لباس جب کوئی مومن پہنے تو اچھے لباس کے ذریعہ کسی کو راغب کرنا یا اظہار ِتکبر وعجب اور استحقارِ غرباء مقصد نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں بسائے ہوئے اطاعت الٰہی اورسنت رسول اللہ ا پر عمل پیرا ہونے کی غرض سے لباس زیب تن کرے ، یہی اس کے لئے بہترین لباس ہوگا۔ گویا اللہ عزوجل کی رضا اسی میںہے کہ امت مسلمہ لباس کے حوالے سے بھی تقوٰی و پرہیز گاری کا مظاہرہ کرے۔ یہ بھی کار خیر اور محبوبیت خدا وندی کی ایک عظیم علامت ہے ۔

کارخیر کے اثرات : آج خیر کے سلسلے میں ہماری کم قسمتی یہ ہے کہ ہم اکثرکارخیر کو انجام دینے میں شرم محسوس کرتے ہیں اور سستی بھی کرتے ہیں۔ اگر ہماری نظر قرآن مقدس پر ہوتی تو کسی عمل خیر کو معمولی نہ سمجھتے۔ بلکہ اس کی انجام دہی کیلئے کوشاں رہتے ،اللہ کے نزدیک ہر عمل خیر کا بدلہ موجود ہے اور قیامت کے دن اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ جیسا کہ فرمان الٰہی ہے :فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ۔ ترجمہ : تو جو ایک ذرہ برابربھلائی کریگا تو وہ اسے دیکھے گا ۔جب کہ شر کے معاملہ میں ہمارا حال یہ ہے کہ بڑے سے بڑے عملِ شر کرنے کیلئے شرم محسوس نہیں کرتے۔ یاد رکھو : قرآن میں فرمایا گیا: ومن یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ ترجمہ:جو ذرہ برابر برائی کرے تو وہ اسے دیکھتا ہے ۔

مزمت ریا اور برکات اخلاص:

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم کار خیر کے لئے کوشاں رہتے ہیں مثلا مخلوق خدا کی خدمت، غریبوں کا تعاون،مسکینوں کی مدد،بیماروں کاعلاج،مقروض کو قرض سے رہائی ،تعلیم کے سلسلہ میں طلباء کی امداد ،مساجد کی تعمیر ،مدارس کا تعاون ،بیوائوں کی مدد، شادی کے اخراجات کا اہتمام وغیرہ ، مگر اس کار خیر کو کر لینے کے بعد دل ودماغ میں شیطان وسوسہ ڈال دیتا ہے تو ہم کبھی احسان جتلانے لگتے ہیں اور لوگوں کے سامنے اس کا تذکرہ کرنے لگتے ہیں(الاماشاء اللہ ) جسکی بنیاد پر ثواب ضائع ہوجاتا ہے جبکہ یہ کارخیر ہم نے اللہ کی مخلوق، حضورﷺ کی امت کیلئے بظاہر تو کیا ہے لیکن حقیقت میں ہم نے یہ سارے کام اپنے ہی فائدے کیلئے کیاہے۔ اس کا اجر وثواب اللہ عزوجل ہمیں دونوں جہاں میں عطافرمائے گا ۔جیسا کہ اس کا فرمانِ عالیشان ہے ’’من عمل صالحا فلنفسہ‘‘ جو نیکی کرے وہ اپنے بھلے کو ۔ایک اور جگہ پر ارشاد فرمایا : وماتنفقوا من خیر فلانفسکم ، اور تم جو اچھی چیز دو تو تمہارا ہی بھلا ہے ۔ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا :وماتقدموا لانفسکم من خیر تجدوہ عند اللہ ھو خیرا واعظم اجرا:۔ اور اپنے لئے جو بھلائی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے پاس بہتر اور بڑے ثواب کی پائو گے ۔ اور فرمایا :یوم تجد کل نفس ما عملت من خیر محضرا oجس دن ہر جان نے بھلا کام کیا حاضر پائوگے۔

کارخیر اور اسلامی تصور:۔

ہمیں اس چیز کو بھی ذہن میں رکھنا ہے کہ رب قدیرنے اگر کار خیر کی توفیق عطا فرمائی ہے تواس کار خیر کا علم کسی کو ہو یا نہ ہو میرا پروردگا ضرور سب جانتا ہے اور اس کو بندوں کے ہر عمل کا علم ہے چنانچہ قرآن مقدس میں صراحت کے ساتھ فرمایا :وما تفعلوامن خیر یعلمہ اللہ ، اور تم جو بھلائی کرو اللہ اسے جانتا ہے ۔

ایک اور چیز کار خیر کے وقت یا عمل خیر کے وقت ہمارے ذہن میں رہتی ہے کہ ہمارے اس کا رخیر کی قدر کی جائے اور ہم قدر دانوں کی تلاش میں ر ہتے ہیں ،کبھی قدر داں نہ ملے تو کار خیر سے کنا رہ کشی اختیار کر لیتے ہیں کاش کہ ہماری نظر قرآن مقدس پر ہوتی ! تو ہر کار خیر کرتے وقت اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی مقصود ہوتی ۔یقینا اگر کوئی انسان قدر کریگا تو چند تعریفی کلمات،اعزازی سند، یاتحفہ تحائف سے نوازے گا ۔لیکن اللہ کی رضا کیلئے اگر کام کیا گیا تو فرمان باری تعالیٰ ہے :ومن تطوع خیرا فان اللہ شاکر علیم اور جو کوئی بھلی بات اپنی طرف سے کرے تو اللہ نیکی کا صلہ دینے والا خبر دار ہے ۔

کارخیر اور قوم مسلم کی ذمہ داریاں :

اقوام باطلہ کے منصوبوں کو ناکام اور ان کے ناپاک ارادوں کو تہس نہس کرنا ہے تو بس ہمیں اپنے وجود سے صرف خیر خیر اور خیر ہی کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔اسلئے کہ رب قدیر جل جلا لہ نے ہمیں خیر امت کے لقب سے سرفراز فرمایا ہے۔

ایک حدیث سے خیر کی تشریح بھی سمجھ میں آجائے گی حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول کریم ا سے دریافت کیا، یا رسول اللہ ا کونسا عمل (سب سے زیادہ )افضل ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا : اللہ جل شانہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا(پھر ) میں نے عرض کیا : کونسا غلام آزاد کرنا سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا، جو غلام مالکوں کے نزدیک نفیس ہو اور اس کی قیمت سب سے زیادہ ہو ۔میں نے عرض کیا ،پس اگر میں ( اپنی تنگ دستی کی وجہ سے )نہ کروں (یعنی غلام آزاد نہ کر سکوں)آپ نے فرمایا : تم کسی کاری گر کی مدد کرو،یا کسی ناکارہ کیلئے کام کرو ۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ا یہ بتلائے میں ان میں سے بھی کوئی کام نہ کرسکوں تو ؟ آپ نے فر مایا ’’تم اپنے شر سے لوگوں کو بچائو ‘‘کہ یہ تمہارا خود اپنے اوپر احسان اور کار ثواب ہے ۔(بخاری ومسلم)

مذکورہ حدیث پاک سے یہ بات سمجھ میں آئی کہ خیر یہی نہیں کہ ہم عمل خیر کریں بلکہ اپنی ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچانا اپنی ذات کیلئے خیر ہے ۔

اب ہم احتساب کریں کہ ہماری ذات سے کسی کو تکلیف پہونچتی ہے یا نہیں ؟ تو ہمارا وِجدان ہمارے حال کی گواہی دے گا کہ ہم داعی الیٰ الخیر ہیں ، ہمیں خیر کی طرف بلانا ،خیر کا مظاہرہ کرنا ،شر سے بچنا ،اور شرارتوں سے روکنا ان سبھی ذمہ داریوں کو نبھانا ہوگا۔ پھر ان شاء اللہ ہم دیکھیں گے کہ اس کارخیر کی برکت سے مولیٰ عز وجل پستی سے بلندی اور زوال سے عروج کی طرف ہمیں گامزن فرمائے گا تحریک سنی دعوت اسلامی‘‘ دعوت الیٰ الخیر کی تحریک ہے ،مقصد تحریک حضور ﷺ کی محبت اورآپ کی پسندو نا پسند سے لوگوں کو آگاہ کرکے خیر کا پیکر بنانا اور شرارتوں سے دامن کو بچانا ہے ۔اور خیر امت کا مظہر بن کر دنیا کی باطل قوتوں کا مقابلہ کرنا ہے ۔

اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعاہے کہ وہ ہم سب کو مخلص داعی الی الخیر بنائے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی ذمہ داری کو نبھا نے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم