دعـوتِ اســلام

مولانا افتخار احمد قادری ۔

دارالعلوم غریب نواز،لیڈی اسمتھ ساؤتھ افریقہ

اس عالم میں پیدا ہونے والے انسانوں میں سب سے بہتر ، سب سے برتر اور سب سے افضل طبقہ انبیاء علیہم السلام کا طبقہ ہے، راستہ سے بھٹکے انسانوں کو رب واحد کی طرف دعوت دے کر ان کواس کی طرف اس طرح متوجہ کردینا کہ خالص اپنے خالق و معبود کے بندے ہوکر اس کی نازل کردہ تعلیمات پر عمل پیرا ہوجائیں اور ان مقدس تعلیمات سے انحراف و سرتابی کے جذبات ان میں سرد پڑ جائیں اور وہ خود دوسروں کے لئے نمونۂ عمل بن جائیں، یہ انبیاء علیہم السلام کا مشن تھا۔ اس سلسلۂ ذھب کی آخری کڑی سیدنا و مولانا محمد رسول اللہ ا خاتم الانبیاء کے شرف سے مشرف ہوئے اور آپ نے اپنی تئیس سالہ دعوتی زندگی میں ایک ایسا انقلاب برپا کیا کہ جس کی نظیر پوری تاریخ بشریت پیش کرنے سے قاصر ہے۔

عرب کی سوسائٹی کا وہ انسان جو یکسر بگڑا ہوا تھا آپ کی دعوت اور آپ کی تعلیم و تربیت سے یکدم سدھر گیا اور اس سوسائٹی سے ایسے صالح افراد بن کر ابھرے جن کی مثالیں پوری تاریخ انسانیت میں مفقود ہیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی وہ مبارک جماعت جس نے اپنے مکرم و معظم قائد رسول اللہ ﷺ کی عظمت و محبت کو اپنے اندرون میں سمویا تھا اس میں ایسی عظمتیں جلوہ گر ہوئیں کہ انہوں نے تھوڑے ہی عرصہ میں نہ صرف قیصر و کسری کی شہنشاہیت کو پامال کیا بلکہ برِاعظم افریقہ کے بہت سے خطوں پر ان حضرات نے اسلامی پرچم لہرادیا۔

عہد صحابہ ، عہد تابعین و عہد تبع تابعین کے بعد سرورکائنات ﷺ کے مبارک مشن کو چلانے اور تعلیمات نبوی ﷺ کی اشاعت و تبلیغ کا فریضہ علماء امت پر عائد ہوا۔ احکام الہیہ، ارشادات رسول ﷺ کی طرف دعوت دینا، بندگان خدا کو اسلام کی طرف آمادہ کرنا کیا ہی مبارک اور کیا ہی مقدس مشن ہے۔

رب تعالی کا فرمان ہے:

وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلاً مِّمَّن دَعَا اِلیَ اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحاً وَقَالَ اِنَّنی مِنَ الْمُسْلِمِیْن۔ (سورہ فصلت ۳۳)

ترجمہ: اور اس شخص سے بہتر کس کی بات ہوسکتی ہے جس نے اللہ کی طرف دعوت دی اور نیک عمل کیا اور کہا میں تو اپنے رب کے فرمانبردار بندوں میں سے ہوں۔

جو اپنے رب کی طرف بلائے اور اس مشن کو عام و تام کرنے کی کوشش کرے اس سے بہتر بات کس کی ہوسکتی ہے۔ یہی انبیاء علیھم السلام کا راستہ اور ان کا مبارک مشن تھا۔ رب کائنات اپنے حبیب ا سے خطاب فرمارہا ہے۔

قُلْ ھٰذِہٖ سَبِیْلِیْ اَدْعُوْا اِلَی اللّٰہِ عَلیٰ بَصِیْرَۃٍ أنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِی۔ (سورہ یوسف ۱۰۸)

ترجمہ: آپ فرما دیں، یہی میرا راستہ ہے میں پوری بصیرت کے ساتھ دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دے رہا ہوں اور میرے ساتھ وہ بھی جنہوں نے میری پیروی کی۔

سرور کائنات ﷺ نے آیت کے اس ٹکڑے ’’ومن اتبعنی‘‘ کے ذریعہ دعوت کا کام کرنے والوں کو بڑی عظیم بشارت دی ہے اور واضح فرمادیا ہے کہ جو افراد دعوت الی اللہ کا کام کر رہے ہیں وہ سرورکائنات ﷺ کے کام اور مقصد میں حضورﷺ کے ہم نوا اور رفقاء کار ہیں۔

اس سے بڑھ کر دعوت کا کام کرنے والوں کا اعزاز اور کیا ہوسکتا ہے، نیکی اور خیر کی طرف رہنمائی کرنے والوں کا حصہ اور اجر و ثواب تو دیکھیں ۔ سرور کائنات ا فرماتے ہیں۔

مَن دَلَّ عَلیٰ خَیْرٍ فَلَہٗ مِثْلُ اَجرِ فَاعِلِہ ۔(رواہ مسلم)

ترجمہ: جس نے خیر کی رہنمائی کی اس کو اس نیکی کے کرنے والے کی طرح اجر و ثواب ملے گا۔

دعوت الی اللہ ان اساسات میں سے ہے جن پر ہمارا دین قائم ہے۔ اور یہی فلاح و نجات کا ضامن بھی ہے۔ لیکن یاد رکھیں یہ ذمہ داری کوئی معمولی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ ایک بہت ہی اہم اور عظیم اور نازک ذمہ داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس فریضہ کو بڑی حکمت و دانائی اور پند اور نصیحت کے ساتھ انجام دینے کی ضرورت ہے۔ رب تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

اُدْعُ اِلیٰ سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃ وَجَادِلْہُمْ بِاللَّتِی ھَیَ اَحْسَن (سورہ نحل ۱۲۰)

لوگوں کو اپنے رب کے راستہ کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دیجئے اور ان سے بحث اس طریقہ سے کیجئے جو بڑا شائستہ اور بہتر ہو۔

دعوت کا کام کرنے والوں کو حکمت و دانائی، نصیحت و موعظت اور شائستہ بحث و مباحثہ کی صلاحیتوں سے مزین ہونا چاہئے ان کی غیر معمولی اہمیت ہے اسی لئے رب تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو یہ آداب مرحمت فرمائے، اس آیت میں دین اسلام کو ’’سبیل ربک‘‘ سے تعبیر کیا گیا یہ واضح کردینے کے لئے کہ یہ دعوت کسی گروپ بندی یا کسی اور دنیاوی غرض کے لئے نہیں دی جارہی ہے بلکہ اس راستہ کی طرف بلایا جارہا ہے جو حقیقتاً نجات کا راستہ ہے جو بندے کو اپنے مالک حقیقی کی طرف لے جاتا ہے جو دوری و بیگانگی کو ختم کرکے قرب و لطف کی منزل تک پہنچانے والا ہے، اس منزل حبیب سے دور بھاگنے والوں کو قریب لانے کے لئے آداب سکھائے جارہے ہیں۔ گم گشتۂ راہ کو حکمت، موعظت اور عمدہ پیرایۂ گفتگو کے ذریعہ قریب لانے کی تعلیمات دی جارہی ہیں۔

حکمت سے مراد وہ پختہ دلائل ہیں جو حق کو روز روشن کی طرح عیاں کردیں اور شک و شبہ کی تاریکیوں کو نور یقین سے بدل دینے کی قوت رکھتے ہوں۔

موعظت حسنہ اس پند و نصیحت کو کہتے ہیں جو خیر و فلاح کی یاد دہانی اس اسلوب سے کرائے کہ پتھر دل بھی موم ہوجائے۔

یعنی فلسفیوں کی طرح خشک دلائل کے انبار نہ لگائے جائیں بلکہ دعوت کا کام کرنے والے داعیوں کا اندازِ خطاب ایسا ہونا چاہئے جس کے لفظ لفظ سے حکمت و موعظت اور محبت و رافت کے چشمے ابل رہے ہوں، آپ کی آواز کے نشیب و فراز شفقت و محبت کا آئینہ دار ہو، سننے والا سنے تو آپ کی باتیں اس کے دل میں گھر کرجائیں اور اگر مخاطب بحث و مباحثہ پر آمادہ ہوجائے اور مناظرہ تک نوبت پہنچ جائے تو اس وقت بھی احسن و عمدہ طریقہ سے یہ معرکہ سر کیا جائے۔ اپنی علمی برتری کے نشہ میں چور ہوکر تہذیب و شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے اور ہمارے پیش نظر صرف اور صرف حق کی سربلندی ہو۔ بہرکیف ہر دائمی دین کے اندرون اوصاف حمیدہ کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ ورنہ وہ اس عظیم فریضہ کو انجام دینے کا ہرگز مجاز نہ ہوگا۔

یہ داعی حضرات خود بھی اچھی اور بھلی باتیں کرتے ہوں اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتے ہوں، رب تعالیٰ اس کا حکم دیتا ہے۔

وَقُلْ لِعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِی ھِیَ أحْسَن (بنی اسرائیل ۵۳) آپ میرے بندوں کو حکم دیں کہ وہ ایسی باتیں کریں جو بھلی اور عمدہ ہوں۔

رب تعالیٰ اپنے حبیب گرامی ﷺ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ میرے بندوں کو تعلیم دیں کہ باہمی گفتگو کرتے ہوئے ایک دوسرے کے ادب و احترام کا خیال رکھیں، کوئی ایسی بات زبان پر نہ آئے جس سے کسی کی دل شکنی نہ ہو،کوئی ایسی حرکت سر زد نہ ہو جس سے کسی کو تکلیف پہنچ جائے، ہمارے سامنے ایک عظیم مقصد ہے جس کو ہمیں ہر حال میں حاصل کرنا ہے جب تک ہم سیسہ پلائی ہوئی دیوار نہ بن جائیں اور مستحکم نہ ہوجائیں اس وقت تک اس مقصد کی تکمیل نہ ہوسکے گی۔

نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ لاَ یَظْلِمُہٗ وَلاَ یَخْذُلْہ التَّقْویٰ ھٰھُنَا۔

مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ اس پر ظلم کرسکتا ہے اور نہ اسے ذلیل و رسوا کرسکتا ہے اور تقویٰ کا مقام یہ دل ہے۔

اس عظیم فریضۂ دعوت کو انجام دینے والے حضرات علوم نبوی علی صاحبھا الصلوٰۃ والسلام سے مزین اور خود سیرت رسول ﷺ کے سانچے میں ڈھل کر اپنے آقا ﷺ کی سنتوں کو زندہ کرنے اور اعلاء کلمۃ الحق کے جذبے سے سرشار ہوکر جب میدان عمل میں اتریں گے اور قرآن و سنت کے انوار کو نشر کرنے کے لئے جہد مسلسل کرتے ہوئے جہاں پہنچیں گے رحمت خداوندی ان کے ساتھ ہو گی اور اس کی توفیق سے پورے ماحول کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

سنن و احادیث نبوی کے احیاء اور ان کی تعلیم و نشر و اشاعت کرنے والوں کے لئے عظیم بشارت ہے ۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں۔

اَللّٰھُمَ ارْحَمْ خلفائی قَالُوا وَمَن خَلَفَائُکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہ قَالَ: الّذِیْنَ یَرونَ اَحَادِیْثِی وَیُعَلِّمُوْنَھَا النّاس ۔

(مقدمہ ارشاد الساری، از قسطلانی)

ترجمہ: اے اللہ ! میرے نائبین پر کرم فرما ، صحابہ نے عرض کیا، حضور! آپ کے نائبین کون ہیں ؟ حضور ﷺ نے فرمایا وہ لوگ جو میری حدیثیں بیان کرتے ہیں اور لوگوں کو ان کی تعلیم دیتے ہیں۔

سبحان اللہ! سرکار ﷺ نے کتنی عظیم خوشخبری دی امت کے ایسے لوگوں کو جو احادیث نبوی کی تعلیم اور ان کی تبلیغ کا کام کرتے ہیں، یہ لوگ حضور ﷺ کے نائب ہیں۔ جس شعر سے میں نے اپنی گفتگو کا آغاز کیا تھا پھر اس کا اعادہ کرتے ہوئے عرض ہے کہ دعوت دین کا اہم پیغام ہے ، لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ ﷺ، اس کلمۂ مبارکہ اور اس کے تقاضوں کو اگر ہم سعی پیہم اور جہد مسلسل کے ساتھ لوگوں تک پہنچانے کا فریضہ انجام دیتے رہے تو گویا ہم نے مسلم معاشرہ کو رحمت و نور سے بھر دیا اور یقیناً یہ سعی مسلسل رضائے الہی اور رضائے رسول ﷺ کے حصول کا ذریعہ ہوگی ، مگر شرط یہ ہے کہ نہ ٹوٹے یہ تسلسل۔

یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابند

بہار ہوکہ خزاں لا الہ الااللہ