پاکستانی معاشرہ میں دو مختلف طبقات دو مختلف سبق پڑھاتے ہیں….

( 1) لبرلز ہمیں وطنیت، اور انسانیت سبق سکھاتے ہیں…

مگر کل جب ایک محترمہ کا زلزلہ جیسی تکلیف دہ آفت پر تبصرہ سنا تو سر شرم سے جھک گیا….

جانی اور مالی نقصان ہوا، لوگوں کے گھر اجڑ گئے،

اگر گھر کی ایک دیوار کسی نے اپنے پیسے سے بنائی ہو تو اسے اس کا احساس ہوتا ہے..

مگر ہمارے سیاستدان اپنے مال سے کچھ بنائیں…… ؟

افسوس! زلزلہ جیسی مصیبت پر اس پر تبصرہ سنا تو انسانیت اور وطن کی محبت کا پول اچھی طرح سے کھل گیا…

ہم نے مانا کے انسان کی زبان کبھی پھسل بھی جاتی ہے مگر خوشی اور غم کی کیفیت کبھی نہیں بدلتی…….

اگر آپ کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ نہیں نہیں، ان لوگوں پر وطن کی محبت بڑی غالب ہے تو پھر سقوطِ ڈھاکہ 1971 کو یاد کر لیجیے…..

سقوط ڈھاکہ اگر پرانا ہو گیا ہے بھول گئے ہو….

تو دو مہینے سے کشمیریوں کی کرفیو میں گزرتی زندگی اور جیلوں میں مرتے سڑتے نوجوانوں کو دیکھ لیجیے ، اور وطنیت کے محبت کے ٹھیکے داروں کو بھی….

( 2) اور مذہبی طبقہ ہمیں دین( جو کہ اصل انسانیت ہے) اور وطن سے محبت سکھاتا ہے ……

اور مجھے فخر ہے کہ میرے دین نے مجھے انسانیت بھی سکھائی وطنیت بھی سکھائی…

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانیت کو کمال عروج پر پہنچا دیا،

کیا ہی پیارا ارشاد فرمایا…….

الْمُسْلِمُونَ كَرَجُلٍ وَاحِدٍ إِنِ اشْتَكَى عَيْنُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ

ترجمہ: تمام مسلمان ایک فرد کی طرح ہیں اگر اس کی آنکھوں میں تکلیف ہوجائے تو وہ خود پورا تکلیف میں مبتلاء ہوجاتا ہے ۔ (مسلم)

مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْجَسَدِ ،إِذَا أَلِمَ بَعْضُهُ تَدَاعَى سَائِرُهُ

ترجمہ: مومنوں کی مثال ایک جسم کی مانند ہے اگر اس کے ایک حصہ کوتکلیف پہنچتی ہے تو اس کے تمام اعضاء بے چین ہو اُٹھتے ہیں۔(مسندِ احمد)

تحریر :۔. محمد یعقوب نقشبندی اٹلی