أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَهُوَ الَّذِىۡ جَعَلَ لَـكُمُ النُّجُوۡمَ لِتَهۡتَدُوۡا بِهَا فِىۡ ظُلُمٰتِ الۡبَرِّ وَالۡبَحۡرِ‌ؕ قَدۡ فَصَّلۡنَا الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

وہی ہے جس نے تمہارے لیے ستاروں کو بنایا تاکہ تم ان سے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں ہدایت حاصل کرو ‘ بیشک ہم نے علم والے لوگوں کے لیے کھول کر نشانیاں بیان کردی ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہی ہے جس نے تمہارے لیے ستاروں کو بنایا تاکہ تم ان سے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں ہدایت حاصل کرو ‘ بیشک ہم نے علم والے لوگوں کے لیے کھول کر نشانیاں بیان کردی ہیں۔ (الانعام : ٩٧) 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ستاروں کو پیدا کرنے کا فائدہ بیان کیا کہ تم اپنے سفروں میں سورج اور چاند کے علاوہ ستاروں سے بھی راہنمائی حاصل کرتے ہو۔ ان کی مدد سے انسان راستوں کو تلاش کرتا ہے اور راستہ بھٹکنے سے محفوظ رہتا ہے ‘ جب انسان آسمان کی ان نشانیوں اور ان کی باریکیوں اور ان کے اسرار و رموز پر غور کرتا ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ کی عظمت اور حکمت منکشف ہوتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے آخر میں فرمایا بیشک ہم نے علم والے لوگوں کے لیے کھول کر نشانیاں بیان کردی ہیں ‘ یعنی ہم نے قرآن مجید کی آیات کو اور کائنات میں وجود باری تعالیٰ پر بکھری ہوئی نشانیوں کو اہل علم اور غور وفکر کرنے والوں کے لیے وضاحت سے بیان کردیا ہے۔ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے اسرار کو پاسکیں اور ان سے تعالیٰ کے وجود ‘ اس کی وحدانیت اور اس کے علم اور اس کی قدرت پر استدلال کرسکیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 97