لَنْ یَّسْتَنْكِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَ لَا الْمَلٰٓىٕكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَؕ-وَ مَنْ یَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یَسْتَكْبِرْ فَسَیَحْشُرُهُمْ اِلَیْهِ جَمِیْعًا(۱۷۲)

ہرگزمسیح اللہ کا بندہ بننے سے کچھ نفرت نہیں کرتا (ف۴۳۱)اور نہ مقرب فرشتے اور جو اللہ کی بندگی سے نفرت اور تکبر کرے تو کوئی دم جاتا ہے کہ وہ ان سب کو اپنی طر ف ہان کے گا(ف۴۳۲)

(ف431)

شانِ نزول: نصارٰی نجران کا ایک وفد سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اُس نے حضور سے کہا کہ آپ حضرت عیسٰی کو عیب لگاتے ہیں کہ وہ اللہ کے بندے ہیں حضور نے فرمایا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے لئے یہ عار کی بات نہیں ، اس پر یہ آیتِ شریفہ نازل ہوئی۔

(ف432)

یعنی آخرت میں اس تکبر کی سزا دے گا۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖۚ-وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اسْتَنْكَفُوْا وَ اسْتَكْبَرُوْا فَیُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا ﳔ وَّ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا(۱۷۳)

تو وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اُن کی مزدوری انہیں بھرپور دے کر اپنے فضل سے اُنہیں اور زیادہ دے گا اور وہ جنہوں نے (ف۴۳۳) نفرت اور تکبر کیا تھا انہیں درد ناک سزا دے گا اور اللہ کے سوا نہ اپنا کوئی حمایتی پائیں گے نہ مدد گار

(ف433)

عبادت ِا لٰہی بجالانے سے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا(۱۷۴)

اے لوگو بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے واضح دلیل آئی (ف۴۳۴) اور ہم نے تمہاری طرف روشن نور اُتارا (ف۴۳۵)

(ف434)

دلیل واضح سے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ گرامی مراد ہے جن کے صدق پر اُن کے معجزے شاہد ہیں اور منکرین کی عقلوں کو حیران کر دیتے ہیں۔

(ف435)

یعنی قرآن پاک ۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ اعْتَصَمُوْا بِهٖ فَسَیُدْخِلُهُمْ فِیْ رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ فَضْلٍۙ-وَّ یَهْدِیْهِمْ اِلَیْهِ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاؕ(۱۷۵)

تو وہ جو اللہ پر ایمان لائے اور اس کی رسّی مضبوط تھامی تو عنقریب اللہ انہیں اپنی رحمت اور اپنے فضل میں داخل کرے گا (ف۴۳۶)اور انہیں اپنی طرف سیدھی راہ دکھائے گا

(ف436)

اور جنت ودرجات عالیہ عطا فرمائے گا۔

یَسْتَفْتُوْنَكَؕ-قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِی الْكَلٰلَةِؕ-اِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَیْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَهٗۤ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَۚ-وَ هُوَ یَرِثُهَاۤ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهَا وَلَدٌؕ-فَاِنْ كَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَؕ-وَ اِنْ كَانُوْۤا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِؕ-یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّوْاؕ-وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠(۱۷۶)

اے محبوب تم سے فتوٰی پوچھتے ہیں تم فرمادو کہ اللہ تمہیں کلالہ (ف۴۳۷) میں فتوٰی دیتا ہے اگر کسی مرد کا انتقال ہو جو بے اولاد ہے (۴۳۸) اور اس کی ایک بہن ہو تو ترکہ میں اس کی بہن کا آدھا ہے (ف۴۳۹) اور مرد اپنی بہن کا وارث ہوگا اگر بہن کی اولاد نہ ہو (ف۴۴۰) پھر اگر دو بہنیں ہوں ترکہ میں ان کا دو تہائی اور اگر بھائی بہن ہوں مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے بر ابر اللہ تمہارے لیے صاف بیان فرماتا ہے کہ کہیں بہک نہ جاؤ اور اللہ ہر چیز جانتا ہے

(ف437)

کَلَالَہ اس کو کہتے ہیں جو اپنے بعد نہ باپ چھوڑے نہ اولاد

(ف438)

شانِ نزول: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ بیمار تھے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مع حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے عیاد ت کے لئے تشریف لائے ۔ حضرت جابر بے ہوش تھے حضرت نے وضو فرما کر آبِ و ضواُن پر ڈالا انہیں افاقہ ہوا آنکھ کھول کر دیکھا تو حضور تشریف فرما ہیں عرض کیا یارسول اللہ میں اپنے مال کا کیا انتظام کروں اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی، ( بخاری ومسلم) ابوداؤد کی روایت میں یہ بھی ہے کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا اے جابر میرے علم میں تمہاری موت اس بیماری سے نہیں ہے۔ اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے۔

مسئلہ : بزرگوں کا آبِ وضو تَبُرک ہے اور اس کو حصولِ شِفا کے لئے استعمال کرنا سنت ہے۔

مسئلہ : مریضوں کی عیادت سنت ہے ۔

مسئلہ : سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالٰی نے علوم غیب عطا فرمائے ہیں، اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معلوم تھا کہ حضرت جابر کی موت اس مرض میں نہیں ہے۔

(ف439)

اگر وہ بہن سگی یا باپ شریک ہو ۔

(ف440)

یعنی اگر بہن بے اولاد مری اور بھائی رہا تو وہ بھائی اُس کے کل مال کا وارث ہوگا۔