حدیث نمبر :565

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی سورج ڈوبنے سے پہلے عصرکی ایک رکعت پالے وہ اپنی نماز پوری کرلے اورجب سورج چمکنے سے پہلے فجرکی ایک رکعت پالے تو اپنی نماز پوری کررے ۱؎ (مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ کیونکہ اس نے نمازکاوقت پالیا اوراس کی یہ نمازاداہوگی نہ کہ قضاء۔خیال رہے کہ اس بارے میں احادیث متعارض ہیں۔اس حدیث سے تو معلوم ہوا کہ طلوع وغروب کے وقت نمازصحیح ہے مگر دوسری روایت میں آیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان وقتوں میں نمازپڑھنے سے سخت منع فرمایا،لہذا قیاس شرعی کی ضرورت پڑی جو ان میں سے ایک حدیث کو ترجیح دے۔قیاس نے حکم دیا کہ اس صورت میں عصر درست ہوگی اورفجرفاسد ہوجائے گی کیونکہ عصر میں آفتاب ڈوبنے سے پہلے وقت مکروہ بھی آتا ہے یعنی سورج کا پیلا پڑنا،لہذایہ شروع بھی ناقص ہوئی اورختم بھی ناقص،لیکن فجر میں آخر تک وقت کامل ہے اس صورت میں نمازشروع تو کامل ہوئی اورختم ناقص،لہذاعصر میں اس حدیث پرعمل ہے اورفجرمیں ممانعت کی حدیث پر۔اس کی زیادہ تحقیق ہماری کتاب “جاء الحق”حصہ دوم میں دیکھو۔غرضکہ سور ج نکلتے وقت کوئی نماز درست نہیں،اورسورج ڈوبتے وقت اس دن کی عصرجائز ہے اگرچہ مکروہ ہے۔