فتوی نویسی ۔تکمیل تعلیم کے بعد ہی والد ماجد نے فتوی نویسی کاکام اپنے فرزند ارجمند کے سپرد کردیا تھا اور سات سال تک مسلسل والد محترم کی سرپرستی میں آپ نے فتاوی تحریر فرمائے ۔

خود فرماتے ہیں :۔

رد وہابیہ اور افتا یہ دونوں ایسے فن ہیں کہ طب کی طرح یہ بھی صرف پڑھنے سے نہیں آتے ،ان میں بھی طبیب حاذق کے مطب میں بیٹھنے کی ضرورت ہے ،میں بھی ایک حاذق طبیب کے مطب میں سات برس بیٹھا ،مجھے وہ وقت وہ دن وہ جگہ وہ مسائل اور جہاں سے وہ آئے تھے اچھی طرح یادہیں ،میں نے ایک بار ایک نہایت پیچیدہ حکم بڑی کوشش وجانفشانی سے نکالا اور اسکی تائیدات مع تنقیح آٹھ ورق میں جمع کیں ،مگر جب حضرت والد ماجد قدس سرہ کے حضور میں پیش کیا تو انہوں نے ایک جملہ ایسا فرمادیا کہ اس سے یہ سب ورق رد ہوگئے ،وہی جملے اب تک دل میں پڑے ہوئے ہیں اور قلب میں اب تک اسکا اثر باقی ہے۔ ( الملفوظ)

دوسرے مقام پر فرماتے ہیں :۔

میں نے فتوی دینا شروع کیا ،اور جہاں میں غلطی کرتا حضرت قدس سرہ اصلاح فرماتے ،اللہ عزوجل انکے مرقد پاکیزہ بلند کو معطر فرمائے ،سات برس کے بعد مجھے اذن فرمادیا کہ اب فتوی لکھوں اور بغیر حضور کو سنائے سائلوں کو بھیج دیا کروں ،مگر میں نے اس پر جرأت نہ کی یہاں تک رحمن عزوجل نے حضرت والا کو سلخ ذی قعدہ ۱۲۹۷ھ میں اپنے پاس بلالیا۔(فتاوی رضویہ جدید)

ازدواجی زندگی :۔ مولانا حسنین رضا خانصاحب علیہ الرحمہ لکھتے ہیں ۔

تعلیم مکمل ہوجانے کے بعد اعلی حضرت قبلہ کی شادی کا نمبر آیا ۔نانا فضل حسن صاحب کی منجھلی صاحبزادی سے نسبت قرارپائی ۔شرعی پابندیوں کے ساتھ شادی ہوگئی ۔یہ ہماری محترمہ اماں جان رشتہ میں اعلی حضرت قبلہ کی پھوپھی زادی تھیں ۔ صوم وصلوۃ کی سختی سے پابند تھیں ۔ نہایت خوش اخلاق بڑی سیر چشم انتہائی مہمان نواز نہایت متین وسنجیدہ بی بی تھیں ۔اعلی حضرت قبلہ کے یہاں مہمانو ں کی بڑی آمد رہتی تھی، ایسا بھی ہوا ہے کہ عین کھانے کے وقت ریل سے مہمان اترآئے اور جو کچھ کھانا پکنا تھا وہ سب پک چکا تھا اب پکانے والیوں نے ناک بھوں سمیٹی آپ نے فوراً مہمانوں کیلئے کھانا اتارکر باہر بھیج دیا اور سارے گھرکے لئے دال چاول یا کھچڑی پکنے کو رکھو ادی گئی کہ اس کا پکنا کوئی دشوار کام نہ تھا۔ جب تک مہمانوں نے باہر کھانا کھایا گھر والوں کے لئے بھی کھانا تیار ہو گیا کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوئی کہ کیا ہوا ۔ اعلی حضرت قبلہ کی ضروری خدمات وہ اپنے ہاتھ سے انجام دیتی تھیں۔ خصو صاً اعلیحضرت کے سر میں تیل ملنا یہ انکا روز مرہ کا کام تھا جس میں کم و بیش آدھا گھنٹہ کھڑا رہنا پڑتا تھا اور اس شان سے تیل جذب کیا جاتا تھا کہ ان کے لکھنے میں اصلا فرق نہ پڑے ، یہ عمل ان کا روزانہ مسلسل تا حیات اعلیحضرت برابر جاری رہا ۔ سارے گھر کا نظم اور مہمان نوازی کا عظیم بار بڑی خاموشی اور صبرو استقلال سے برداشت کر گئیں ۔ اعلی حضرت قبلہ کے وصال کے بعد بھی کئی سال زندہ رہیں مگر اب بجز یاد الہی انہیں اور کوئی کام نہیں رہا تھا ۔ اعلی حضرت قبلہ کے گھر کے لئے ان کا انتخاب بڑا کامیاب تھا ۔رب العزت نے اعلی حضرت قبلہ کی دینی خدمات کے لئے جو آسانیاں عطا فرمائی تھیں ان آسانیوں میں ایک بڑی چیز امی جان کی ذات گرامی تھی ۔ قرآن پاک میں رب العزت نے اپنے بندوں کو دعائیں اور مناجاتیں بھی عطا فر مائی ہیں تاکہ بندوں کو اپنے رب سے مانگنے کا سلیقہ آجائے ان میں سے ایک دعا یہ بھی ہے۔

ربنا اٰتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الٓاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار ۔

تو دنیا کی بھلائی سے بعض مفسرین نے ایک پاکدامن ہمدرد اور شوہر کی جاں نثار بیوی مراد لی ہے ۔

ہماری اماں جان عمر بھر اس دعا کا پورا اثر معلوم ہوتی رہیں۔ اپنے دیوروں اور نندوں کی اولاد سے بھی اپنے بچوں جیسی محبت فرماتی تھیں ۔ گھرانے کے اکثر بچے انہیں اماں جان ہی کہتے تھے ۔ اب کہاں ایسی پاک ہستیاں۔ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا و علی بعلہا و ابنیہا۔