بسم اللہ کی اہمیت

مولانا مظہر حسین علیمی

اسلامی آدابِ معاشرت میں ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ کو اہم مقام حاصل ہے۔ ہمارے ہادی و مرشد علیہ الصلوۃ و والسلام نے ہمیں سبق دیا ہے کہ ہر کام بسم اللہ سے شروع کرو۔ بلکہ یہاں تک فرمایا۔’’اغلق بابک واذکر اسم اللہ واطف مصباحک واذکر اسم اللہ و خمر انائک واذکر اسم اللہ واوک سقاء ک واذکراسم اللہ ‘‘ (تفسیر القرطبی)

یعنی دروازہ بند کرو تو اللہ کا نام لو۔ دیا بجھاؤ تو اللہ کا نام لیا کرو، اپنے برتن ڈھانکو تو اللہ کا نام لیا کرو، اپنی مشک کامنہ باندھو تو اللہ کا نام لیا کرو، مقصد یہ ہے کہ ہر کام چھوٹا ہو یا بڑا کرتے وقت انسان اپنے کارساز حقیقی کا نام لینے کا خوگر ہوجائے تاکہ اس کی برکتوں سے مشکلیں آسان ہوں ۔ اس کی تائید و نصرت پر اس کا توکل پختہ ہوجائے۔ نیز جب اسے ہر کام شروع کرتے وقت اپنے مولیٰ کا نام لینے کی عادت ہوجائے گی تو وہ ہر ایسے کام سے رک جائے گا جس میں اس کے رب تعالیٰ کی ناراضگی ہو۔

’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ میں کلمۂ جلالت ’’اللہ‘‘ معبود حقیقی کا عَلم ذاتی ہے۔ ذات باری کے علاوہ کسی کے لئے استعمال نہیں ہوتا۔’’ الرحمن الرحیم‘‘ یہ دونوں مبالغے کے صیغے ہیں ان کا ماخذ رحمت ہے اور رحمت الہی سے مراد اس کا وہ انعام و اکرام ہے جس سے وہ اپنی مخلوق کو سرفراز فرماتا ہے۔ وجود، زندگی، علم و حکمت، قوت و عزت اور عمل صالح کی توفیق سب اس کی رحمت کے مظاہر ہیں۔ یہ اس کی بے پایاں رحمت ہی تو ہے جس نے کسی استحقاق کے بغیر انسان کی جسمانی و روحانی بالیدگی کے سب سامان فراہم کردیئے۔ یہ اس کی بے حد و بے شمار رحمت ہی تو ہے کہ ہماری لگاتار ناشکریوں اور نافرمانیوں کے باوجود اپنے لطف و کرم کادروازہ بند نہیں کرتا۔

کبھی آپ نے غور کیا؟ کہ قرآن اللہ تعالیٰ کی جس صفت کا سب سے پہلے ذکر کرتا ہے وہ صفت قہاریت و جباریت نہیں بلکہ صفت رحمانیت و رحیمیت ہے یہ اس لئے کہ بندہ کا جو تعلق اللہ سے ہے اس کا دار و مدار خوف و ہراس اور رعب و دبدبہ پر نہ ہو بلکہ رحمت و محبت پر ہو کیونکہ یہی وہ اکسیر ہے کہ جس سے انسان کی خفتہ صلاحیتیں بیدار ہوتی ہیں اور پنہاں توانائیاں آشکار اور یہی معرا جِ انسانیت ہے کہ انسان اپنے آپ کو عیاں دیکھ لے۔

بعض حق ناشناس کہتے ہیں کہ اسلام کا خدا خونی ہے اور اپنے ماننے والوں کو خونخواری سکھاتا ہے (معاذاللہ) کاش! وہ اسلام کی مقدس کتاب کے پہلے صفحے کی پہلی آیت پڑھ لیتے تو انہیں پتہ چل جاتا کہ اسلام کا خدا خونخوار نہیںرحمن ہے۔ اس کی رحمت کا وسیع دامن کائنات کے ذرہ ذرہ کو اپنے آغوش لطف و کرم میں لئے ہے۔ اسلام کا خدا سفاک نہیں بلکہ رحیم ہے اس کی رحمت کا بادل ہر وقت برستا ہی رہتا ہے۔ (تفسیر ضیاء القرآن)

فضائل و فوائد: بسم اللہ الرحمن الرحیم کے فضائل و فوائد حد و شمار سے باہر ہیں، ان فضائل و فوائد کو حیطۂ تحریر میں لانا کم از کم مجھ کم علم کے لئے ناممکن لگتا ہے۔ مشتے نمونے از خروارے کے تحت چند واقعات پیش ہیں انہیں پڑھیں اور عملی جامہ پہنانے کی کوشش کریں۔

حضرت امام عبدالرحمن بن عبدالسلام صفوری الشافعی اپنی مشہور زمانہ تصنیف نزھۃ المجالس میں تحریر فرماتے ہیں کہ جب نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا تو اس کی چھوٹی بیٹی نے نمرود سے خواہش ظاہر کی مجھے ابراہیم (علیہ السلام) کی آگ میں جو حالت ہے اسے دیکھنے کی اجازت دو۔ اجازت ملنے پر جب وہ آگ کے قریب گئی تو حیران رہ گئی، اس نے دیکھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بالکل محفوظ ہیں چنانچہ دریافت کیا کہ آپ کو آگ کیوں نہیں جلاتی؟

آپ نے فرمایا: جس کے دل میں معرفت الٰہی اور زبان پر اس کا نام بسم اللہ الرحمن الرحیم کی صورت میں ہو اسے آگ نہیں جلاسکتی یہ سن کر لڑکی نے کہا: میں بھی بحفاظت تمہارے پاس آنا چاہوں تو؟ آپ نے فرمایاکہ ’’پہلے’’لا الہ الا اللہ ابراہیم رسول اللہ‘‘ کا اقرار کر اوربسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر آگ میں داخل ہوجا۔ چنانچہ لڑکی نے ایسا ہی کیا تو اس کے لئے بھی آگ ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوگئی۔ جب آگ سے نکلی تو اپنے باپ نمرود کو دین ابراہیم علیہ السلام کی دعوت دی تو وہ سخت برہم ہوا اور بولا اگر تونے ابراہیم علیہ السلام کے دین کو نہ چھوڑا تو تجھے ایسی سزا دوں گا کہ دوسروں کے لئے عبرت ہوگی مگر وہ لڑکی ثابت قدم رہی۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل امین علیہ السلام کے ذریعہ اسے حضرت خلیل اللہ علیہ السلام تک پہنچا دیا۔ اور آپ نے اپنے ایک صاحبزادہ سے اس کا نکاح فرمادیا۔ جس سے بیس انبیاء کرام پیدا ہوئے۔

حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام آتشکدۂ نمرود میں تقریباًچالیس دن رہے مگر ذرا بھی تکلیف و پریشانی نہ ہوئی۔ جب آپ سے دریافت کیا گیا تو فرمایا: جن دنوں مجھے آگ میں ڈالا گیا تھا ان سے زیادہ آرام و سکون کے دن مجھے کبھی میسر نہیں ہوئے۔

ایک مرتبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسے شکاری کے قریب سے گذرے جو ایک نہایت خطرناک اور بہت بڑے اژدھے کا شکار کررہا تھا، آپ نے قریب جاکر ملاحظہ کیا تو اس اژدھے نے عرض کیا کہ اسے منع کریں کہ وہ مجھے نہ چھیڑے، میرے اندر زہر قاتل ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس شکاری کو سمجھایا اور تشریف لے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ دیر دوبارہ اسی جگہ سے گذرے تو دیکھا کہ اس شکاری نے وہی اژدھا شکار کیا ہوا ہے۔ آپ نے اژدھے کی طرف نظر فرمائی تو وہ عرض گذار ہوا کہ شکاری مجھ سے زیادہ طاقت کی وجہ سے غالب نہیں ہوا بلکہ اس نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ لی تھی اور اسی بسم اللہ کی قوت سے مجھ پر غالب آگیا کیونکہ بسم اللہ کی برکت نے میرے زہر کا اثر ختم کردیا تھا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ایک قبرستان سے گذر ہوا، دیکھا کہ قبر والے پر سخت عذاب ہورہا تھا، کچھ عرصہ بعد پھر وہیں سے گذر ہوا، ملاحظہ فرمایا کہ جن قبر والوں پر عذاب ہورہا تھاآج وہ راحت و سکون سے ہیں۔ چنانچہ رب تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض گذار ہوئے تو ارشاد ہوا: جس وقت اس کا انتقال ہوا تو اس کا خرد سال بچہ تھا اس کے اعمال کے سبب اسے عذاب دیا جاتا رہا تھا مگر اب اس کے بچے کو مکتب میں بٹھا دیا گیا ہے اور وہ مدرسہ میں بسم اللہ پڑھتا ہے لہذا میری غیرت گوارہ نہیں کرتی کہ جس کا بیٹا دنیا میں بسم اللہ پڑھتا ہو اسے قبر میں عذاب دیا جائے۔ چنانچہ بسم اللہ کی برکت سے اس کا عذاب ختم کردیا گیا۔

اللہ اکبر! ذرا غور کریں زندہ تو زندہ بسم اللہ کی برکت سے مردے بھی محروم نہیں ہوتے۔ رب قدیر جل شانہ نے جب حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کو عذاب دینا چاہا تو حضرت نوح علیہ السلام کو حکم ہو اکہ ایک کشتی میں سوار ہوجائیں۔۔۔۔۔ جب پانی کا عذاب آیا تو حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی کشتی پر’’ بِسْمِ اللّٰہِ مَجْرٖھَا وَ مُرْسٰھا‘‘ تحریر فرمادیا اور اس کا ورد بھی فرماتے رہے۔ چنانچہ بسم اللہ کی برکت سے آپ کی کشتی بالکل محفوظ رہی او باقی سب منکرین غرقآب ہوگئے۔

مقام غور ہے کہ جب آدھی بسم اللہ کی برکت کا یہ حال ہے کشتی ڈوبنے سے محفوظ رہی تو جو خوش نصیب مسلمان صبح و شام، اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے، سوتے جاگتے، اپنے تمام کاموں میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کا مبارک ورد کرتے ہوں ان کے بیڑے کیوں کر نہ پار ہوں گے۔

مؤلف نزھۃ المجالس فرماتے ہیں میں نے حدیث پاک میں پڑھا کہ حضور سید عالم ا نے ارشاد فرمایاکہ ’’میرے امتی جب بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر کشتی میں سوار ہوں گے تو وہ ڈوبنے سے محفوظ رہیں گے۔

یقیناً بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کشتی نہیں ڈوبتی مگر اس کے لئے نیت صالح اور توکل علی اللہ شرط ہے۔ امام عشق و محبت چودھویں صدی ہجری کے عظیم عارف باللہ سیدی امام احمد رضا قادری صجب بذریعہ بحری جہاز ،حج و زیارت حرمین شریفین سے واپس لوٹ رہے تھے تو راستے میں سمندری طوفان آگیا اور شدید بارش ہوگئی جس پر ہنگامی صورت حال کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب جہاز کا بچنا مشکل ہے لہٰذا تمام مسافر کفن پہن لیں۔ چنانچہ تمام سواروں نے کفن پہن لئے، مگر عارف باللہ امام احمد رضا ص صاف انکار کرتے ہوئے اطمینان سے فرمایا کہ اپنے پیارے آقا ﷺ کے ارشاد کے مطابق آغاز سفر میں بسم اللہ الرحمن الرحیم اور پھر سفر کی دعامیںنے پڑھ لی تھی۔ لہٰذا مجھے پورا اطمینان ہے کہ یہ بحری جہاز کسی صورت میں غرق نہیں ہوگا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ کچھ دیر بعد بادل چھٹ گئے، ہوائیں تھم گئیں اور بسم اللہ کی برکت سے تمام مسافر بخیر و عافیت منزل سے ہمکنار ہوئے۔

٭٭٭٭